اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکہ اور اسرائیل کے درمیان خطے میں جاری شدید کشیدگی اور جنگی خدشات کے تناظر میں روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کا ایک انتہائی اہم اور واضح بیان سامنے آیا ہے۔
روسی دارالحکومت ماسکو میں والڈائی ڈسکشن کلب (Valdai Discussion Club) کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے ایرانی قوم، اس کی سیاسی قیادت اور دفاعی اداروں کی جرات اور استقامت کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے موجودہ سخت ترین چیلنجز کے سامنے جس بہادری کا مظاہرہ کیا ہے، اس نے عالمی برادری کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔
ایران کی ہمت
والڈائی فورم سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا ایران میں پیش آنے والے تمام تر واقعات اور کشیدہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کی ہمت، بے مثال بہادری اور ثابت قدمی نے دنیا کو ششدر کر دیا ہے اور عالمی برادری ان کے جذبے سے شدید متاثر ہے۔ پیوٹن کے مطابق، ایرانی قوم نے ہر قسم کے بیرونی دباؤ کے باوجود جس استقامت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ ان کے ملکی دفاع کے پختہ عزم کی کھلی دلیل ہے۔
قیادت اور دفاعی فورسز
روسی صدر نے ایران کے اندرونی دفاعی ڈھانچے اور قیادت کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی سیاسی قیادت، مسلح افواج اور سپاہِ پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) میں بڑی تعداد میں ایسے نڈر اور باصلاحیت افراد موجود ہیں جو اپنے ملک، قوم اور نظریات کے تحفظ کی خاطر کسی بھی قسم کی قربانی دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہی جذبہ اور اتحاد ایران کی حقیقی طاقت ہے جو اسے ہر قسم کے بیرونی اثرات اور خطرات سے محفوظ رکھے ہوئے ہے۔
روس کا سفارتی موقف
ماسکو میں خطاب کے دوران صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے حوالے سے روس کے دیرینہ اور بنیادی سفارتی موقف کا اعادہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو حکومت خطے میں اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کی خواہاں ہے۔
روس امید کرتا ہے کہ بین الاقوامی تجارت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل "آبنائے ہرمز” (Strait of Hormuz) کو جلد از جلد دوبارہ مکمل طور پر فعال کیا جائے گا اور ایران پر عائد تمام تر غیر قانونی و ظالمانہ بین الاقوامی پابندیوں کا فوری خاتمہ ممکن بنایا جائے گا۔
یورینیم منتقلی کی پیشکش
روسی صدر نے جوہری معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ روس اپنے سابقہ سفارتی عزم پر قائم ہے۔ ماسکو نے ایران کے افزودہ یورینیم (Enriched Uranium) کے ذخائر کو محفوظ طریقے سے ملک سے باہر منتقل کرنے اور اس عمل میں درکار تمام تر تکنیکی و سفارتی مدد فراہم کرنے کی اپنی پیشکش کو تاحال برقرار رکھا ہوا ہے، تاکہ عالمی برادری کے خدشات کو دور کیا جا سکے اور خطے کو جوہری محاذ آرائی سے بچایا جا سکے۔
عالمی تناظر
روسی صدر پیوٹن کا یہ اہم اور جرات مندانہ بیان ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آیا ہے جب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔
خطے میں ایک نئی اور وسیع پیمانے پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب عالمی برادری کی تمام تر توجہ سفارتی کوششوں، مذاکرات اور امن کے قیام پر مرکوز ہے۔
ایسے میں روس کا ایران کے حق میں کھل کر سامنے آنا عالمی سفارتی طاقت کے توازن میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
