اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) تہران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے امریکی بغیر پائلٹ بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ امریکا نے فوری طور پر ایرانی دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ دونوں ممالک کے درمیان ایک مرتبہ پھر فوجی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔
ایران کا امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
ایران نے اتوار کے روز دعویٰ کیا کہ اس کی فورسز نے ایک امریکی بغیر پائلٹ بحری جہاز کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایرانی دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ کئی روز سے جاری فوجی کشیدگی میں ایک مرتبہ پھر شدت آ گئی ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے کیے گئے اس دعوے کی امریکا نے فوری طور پر تصدیق نہیں کی۔ امریکی تصدیق نہ ہونے کے باعث واقعے کی مکمل تفصیلات اور امریکی بحری جہاز کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کے بارے میں فوری طور پر کوئی حتمی معلومات سامنے نہیں آسکیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب ایک روز قبل امریکی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس کی فورسز نے ایرانی تیل لے جانے والے تین ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکا کے مطابق یہ کارروائی امریکی بحری جنگی جہازوں کو میزائل حملے میں نشانہ بنائے جانے کے جواب میں کی گئی تھی۔
چند روز میں دوبارہ شدید لڑائی
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ لڑائی گزشتہ ہفتے دوبارہ شروع ہوئی۔ اس سے قبل تقریباً ایک ماہ تک دونوں ممالک کے درمیان نسبتاً سکون کی صورتحال برقرار رہی تھی۔ لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں واقع ایرانی آبادیوں کو بھی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں :
ٹرمپ کا ایران پر مزید حملوں کا عندیہ، آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ
رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے کے آغاز میں جنوبی ایران پر امریکی بمباری کے دوران کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔
حالیہ صورتحال نے آبنائے ہرمز کو ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا بھر میں تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے اور جنگ شروع ہونے سے پہلے اسے ایک بین الاقوامی آبی راستے کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
امریکا کا فوجی اور مالی دباؤ بڑھانے کا منصوبہ
رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف دوہری حکمت عملی اختیار کی ہے۔ ایک جانب آبنائے ہرمز میں امریکی فوجی اہداف پر ہونے والے حملوں کا فوجی جواب دیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب ان غیر ملکی مالیاتی اداروں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے جو ایران کے مالی معاملات میں معاونت کرتے ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع صرف فوجی کارروائیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے معاشی اثرات بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ ایران پر پہلے ہی کئی برس سے پابندیاں عائد ہیں جبکہ موجودہ صورتحال میں امریکی ناکہ بندی نے تہران کے لیے معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔
ایران کا تیل کی فروخت کے لیے متبادل راستوں پر انحصار
رپورٹ کے مطابق ایران کئی برسوں سے عائد امریکی پابندیوں سے بچنے کے مختلف طریقے اختیار کرتا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی تہران نے اپنی تیل کی برآمدات جاری رکھنے کے لیے ایسے ذرائع کا سہارا لیا ہے جن کے ذریعے عالمی خریداروں تک ایرانی تیل پہنچایا جا سکے۔
ایرانی تیل کی ترسیل میں ایک خفیہ بحری بیڑے کا کردار بھی بتایا گیا ہے۔ اس طریقہ کار کے ذریعے ایران پابندیوں اور موجودہ امریکی دباؤ کے باوجود اپنی تیل کی فروخت جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔
ایران کی معیشت پہلے ہی طویل عرصے سے امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہی ہے اور موجودہ فوجی کشیدگی نے معاشی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
جوہری پروگرام بھی تنازع کی بنیادی وجہ
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کی اہم وجوہات میں ایران کا جوہری پروگرام بھی شامل رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاہم یہ مذاکرات بعد میں ناکام ہوگئے۔
جون کے وسط میں امریکا اور ایران نے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کیے تھے۔ تاہم اس کے کچھ ہی عرصے بعد مذاکراتی عمل ٹوٹ گیا اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھنے لگی۔
موجودہ صورتحال میں ایران کا جوہری پروگرام ایک مرتبہ پھر عالمی سفارتی حلقوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ امریکا برطانیہ فرانس اور جرمنی کے سفارت کاروں کی جانب سے ایران کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے کی کوششوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان ممالک کا مؤقف ہے کہ ایران نے جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری نہیں کی۔
آبنائے ہرمز ایران کے لیے اہم دباؤ کا ذریعہ بن گئی
حالیہ حالات میں آبنائے ہرمز ایران کے لیے ایک اہم تزویراتی ذریعہ بن کر سامنے آئی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی سطح پر تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ دنیا کی توانائی کی رسد کے حوالے سے اس راستے کی اہمیت کے باعث یہاں ہونے والی کسی بھی فوجی کشیدگی کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
ایران کے نئے سخت گیر اعلیٰ رہنماؤں نے پابندیوں اور کئی دہائیوں سے جاری دباؤ کے باوجود پیچھے نہ ہٹنے کے اشارے دیے ہیں۔ تہران نے ماضی میں بھی پابندیوں سے نمٹنے کے لیے مختلف راستے اختیار کیے ہیں اور موجودہ صورتحال میں بھی اپنی معاشی اور تزویراتی پوزیشن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں :
آبنائے ہرمز میں بلا رکاوٹ بحری نقل و حرکت عالمی سلامتی کیلئے ناگزیر قرار دے دیا
امریکا اور ایران کے درمیان جاری تازہ کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر آبنائے ہرمز کو فوجی اور سفارتی محاذ بنا دیا ہے۔ ایرانی جانب سے امریکی بغیر پائلٹ بحری جہاز کو نشانہ بنانے کے دعوے کے بعد صورتحال مزید حساس ہوگئی ہے جبکہ واشنگٹن کی جانب سے اس واقعے کی فوری تصدیق نہ ہونے کے باعث حملے کی مکمل نوعیت ابھی واضح نہیں ہوسکی۔
دونوں ممالک کے درمیان جاری لڑائی کے ساتھ ساتھ مذاکراتی عمل بھی تعطل کا شکار ہے۔ ایسے میں آبنائے ہرمز میں ہونے والی ہر نئی فوجی کارروائی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے۔
