اردو ورلڈ کینیڈا (ویب نیوز ) آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کی صورتحال معمول پر آنے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوگئی ہے، جہاں 28 اور 29 ستمبر کے دوران مجموعی طور پر چار تجارتی بحری جہازوں کو نامعلوم گولہ نما حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ متاثرہ جہازوں میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس لے جانے والے بڑے بحری جہاز بھی شامل ہیں۔
تازہ واقعات کے بعد عالمی توانائی کی سپلائی، تیل و گیس کی قیمتوں اور خلیجی خطے سے ہونے والی بحری تجارت کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔
برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی ادارے یوکے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) کے مطابق 29 ستمبر کو آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہاز نامعلوم سمت سے آنے والے گولہ نما حملوں کی زد میں آئے۔ ان جہازوں میں ایک خام تیل بردار ٹینکر، ایک مائع قدرتی گیس بردار جہاز اور ایک تیسرا تجارتی بحری جہاز شامل تھا۔ حکام نے فوری طور پر جہازوں کے نام یا حملوں کے ذمہ دار فریق کی شناخت ظاہر نہیں کی۔
چار جہاز متاثر
دستیاب معلومات کے مطابق 29 ستمبر کو متاثر ہونے والے خام تیل بردار جہاز کے بائیں جانب ایک نامعلوم گولہ آ لگا۔ واقعے کے بعد جہاز کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم نقصان کی مکمل نوعیت اور شدت کے بارے میں حکام نے حتمی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ کسی جانی نقصان کی بھی فوری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔
ایک الگ واقعے میں مائع قدرتی گیس لے جانے والے جہاز کو بھی نامعلوم گولہ لگنے کی اطلاع سامنے آئی۔ یہ واقعہ 28 ستمبر کی شام پیش آیا تھا، جب ایک بحری جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی۔ واقعے کی نوعیت اور نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یوں 28 اور 29 ستمبر کے واقعات کو ملا کر اب تک چار تجارتی جہازوں کے متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔ ان واقعات میں خاص طور پر خام تیل اور ایل این جی لے جانے والے جہازوں کا متاثر ہونا عالمی توانائی کی منڈی کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز خلیجی ممالک سے عالمی منڈیوں تک توانائی کی ترسیل کا انتہائی اہم راستہ ہے۔
ہتھیار تاحال نامعلوم
میری ٹائم حکام کی جانب سے اب تک یہ تصدیق نہیں کی گئی کہ جہازوں پر حملوں میں میزائل، ڈرون، توپ خانے یا کسی اور مخصوص ہتھیار کا استعمال کیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات میں صرف ’’نامعلوم گولہ‘‘ لگنے کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔
اسی طرح کسی گروہ یا تنظیم نے بھی ان حملوں کی فوری طور پر ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اس صورتحال میں حملوں کے پس پردہ عوامل یا ذمہ دار فریق کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
حکام کی جانب سے واقعات کی تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ حملے کس سمت سے کیے گئے، استعمال ہونے والے ہتھیار کی نوعیت کیا تھی اور کیا تمام واقعات کا آپس میں کوئی تعلق ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی حملوں کی نوعیت کے بارے میں زیادہ واضح معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔
ہرمز کی اہمیت
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس سے نکلنے والے تیل اور گیس کے بڑے پیمانے پر بحری ذریعے سے نقل و حمل کے لیے یہ آبی گزرگاہ بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال میں معمولی بگاڑ بھی عالمی توانائی کی منڈی میں تشویش پیدا کرسکتا ہے۔
تجارتی جہازوں پر حملوں کے باعث شپنگ کمپنیوں کو اپنے عملے، جہازوں اور کارگو کی سلامتی کے حوالے سے اضافی اقدامات کرنا پڑ سکتے ہیں۔ اگر خطرات میں اضافہ ہوا تو بحری سفر کے لیے انشورنس اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں، جبکہ بعض کمپنیاں راستوں، رفتار یا سفر کے اوقات میں تبدیلی پر غور کرسکتی ہیں۔
توانائی کے شعبے کے لیے صورتحال اس وقت مزید اہم ہوجاتی ہے جب خام تیل اور ایل این جی لے جانے والے جہاز بھی متاثر ہوں۔ طویل عرصے تک جہاز رانی میں خلل پیدا ہونے کی صورت میں عالمی مارکیٹ میں سپلائی سے متعلق خدشات بڑھ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان رہتا ہے۔
قلت کا خدشہ
تازہ واقعات نے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ممکنہ قلت کے خدشات کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو مسلسل سیکیورٹی خطرات کا سامنا رہا اور شپنگ کمپنیاں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے پر مجبور ہوئیں تو توانائی کی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے۔
تاہم فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ان حملوں کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل یا گیس کی حقیقی قلت پیدا ہوگی۔ اس کا انحصار حملوں کے تسلسل، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت، متبادل ترسیلی انتظامات اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر ہوگا۔
توانائی کی عالمی منڈی میں قیمتیں صرف سپلائی کے حجم سے نہیں بلکہ مستقبل کے خدشات، شپنگ اخراجات، انشورنس اور جغرافیائی سیاسی صورتحال سے بھی متاثر ہوتی ہیں۔ اس لیے آبنائے ہرمز میں کسی بھی نئے واقعے پر عالمی منڈیوں کا ردعمل اہم ہوسکتا ہے۔
احتیاط کی ہدایت
یوکے ایم ٹی او نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو اضافی احتیاط برتنے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع متعلقہ حکام کو دینے کی ہدایت کی ہے۔ میری ٹائم حکام خطے میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
جہاز رانی کمپنیوں کے لیے موجودہ صورتحال اس لیے بھی حساس ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں میں خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات، ایل این جی اور دیگر توانائی کے وسائل بڑی مقدار میں منتقل کیے جاتے ہیں۔ کسی بھی بڑے پیمانے کے حادثے یا مسلسل حملوں کی صورت میں نہ صرف جہازوں بلکہ عالمی سپلائی چین پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
امریکا ایران رابطے
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان رابطے بھی جاری ہیں۔ قطر دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور حالیہ رابطوں میں دونوں جانب کے نکات ایک دوسرے تک پہنچائے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق سفارتی کوششوں کا مقصد کشیدگی کم کرنا اور ایسے راستے تلاش کرنا ہے جن کے ذریعے خطے میں صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکا جاسکے۔ تاہم سفارتی رابطوں کے باوجود زمینی اور سمندری سطح پر کشیدگی برقرار ہے اور تجارتی جہازوں کو پیش آنے والے تازہ واقعات اس صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں عالمی توانائی منڈی کی نظریں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی، مزید ممکنہ حملوں اور امریکا ایران رابطوں کے نتائج پر مرکوز ہیں۔ اگر تجارتی آمدورفت معمول پر آتی ہے تو سپلائی سے متعلق خدشات کم ہوسکتے ہیں، لیکن اگر حملوں کا سلسلہ برقرار رہا تو تیل و گیس کی ترسیل، شپنگ اخراجات اور عالمی قیمتوں پر دباؤ مزید بڑھنے کا امکان رہے گا۔
