اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کے صوبے البرٹا کی آزادی کی حمایت کرنے والی تنظیم نے مستقبل میں صوبے کے کینیڈا سے علیحدہ ہوکر آزاد ملک بننے کی صورت میں انتظامی اور حکومتی معاملات چلانے کے لیے 214 صفحات پر مشتمل منتقلی کا منصوبہ جاری کردیا ہے۔
آزادی کی صورت میں البرٹا کا نظام کیسے چلے گا؟
البرٹا ٹرانزیشن کونسل کی جانب سے جاری کیے گئے منصوبے میں اس بات کا خاکہ پیش کیا گیا ہے کہ اگر مستقبل میں البرٹا کے عوام کینیڈا سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیتے ہیں تو صوبے کو ایک خودمختار ملک میں تبدیل کرنے کا عمل کس طرح آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔
رپورٹ میں مختلف شعبوں سے متعلق تجاویز شامل کی گئی ہیں جن میں سماجی پروگراموں کا تسلسل۔ فضائی ٹریفک کا نظام۔ نئے آئین کا نفاذ۔ مالی معاملات۔ پنشن۔ رہن کے قرضے۔ توانائی کا بنیادی ڈھانچہ۔ سرحدی معاملات اور فرسٹ نیشنز کے ساتھ تعلقات شامل ہیں۔
البرٹا ٹرانزیشن کونسل کے سربراہ اور آزادی کی حمایت کرنے والی تنظیم لیٹ البرٹا ڈیسائیڈ کے رہنما کیتھ ولسن کا کہنا ہے کہ مقصد یہ بتانا ہے کہ کینیڈا سے البرٹا کی علیحدگی کی صورت میں منتقلی کا عمل کس طرح نسبتاً منظم انداز میں مکمل کیا جاسکتا ہے۔
’ہم صفر سے آغاز نہیں کریں گے‘
کیتھ ولسن کے مطابق آزاد البرٹا کے قیام کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ صوبے میں موجود تمام ادارے اور نظام ختم کرکے نئے سرے سے بنائے جائیں۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر البرٹا آزاد ہوجاتا ہے تو ہوائی اڈے اپنی جگہ موجود رہیں گے اور وہاں کام کرنے والے افراد بھی اپنی ذمہ داریاں جاری رکھ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق بنیادی تبدیلی یہ ہوگی کہ بعض معاملات میں انتظام اور مالی ذمہ داری البرٹا کے پاس منتقل ہوجائے گی۔
رپورٹ میں بھی یہی تصور پیش کیا گیا ہے کہ آزادی کے بعد البرٹا اور کینیڈا کے درمیان تعلق مکمل طور پر ختم نہیں ہوگا بلکہ اس تعلق کے قانونی اور حکومتی ڈھانچے میں تبدیلی آئے گی۔
کئی معاملات کینیڈا کے ساتھ مذاکرات سے طے ہوں گے
البرٹا ٹرانزیشن کونسل نے خود تسلیم کیا ہے کہ آزادی کے بعد تمام معاملات صوبے کے یکطرفہ اختیار میں نہیں ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے ساتھ قرضوں کی تقسیم۔ شہریوں کی نقل و حرکت۔ توانائی کے بنیادی ڈھانچے۔ پنشن۔ سرحدوں اور اثاثوں سمیت کئی معاملات پر مذاکرات کی ضرورت ہوگی۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ان مذاکرات کے نتائج پہلے سے معلوم یا یقینی نہیں ہوسکتے۔
کونسل کا کہنا ہے کہ رپورٹ کی تیاری اور جائزے میں بینکاری۔ کرنسی۔ قانون۔ بین الاقوامی تجارت۔ فرسٹ نیشنز اور پولیسنگ سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 45 البرٹن افراد نے حصہ لیا۔ تاہم ان افراد کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔
کیتھ ولسن کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کا مقصد ان افراد کو ممکنہ ہراسانی یا تنقید سے محفوظ رکھنا تھا۔
کرنسی کے لیے ابتدائی طور پر کینیڈین ڈالر استعمال کرنے کی تجویز
رپورٹ میں آزاد البرٹا کی ممکنہ کرنسی کے معاملے پر بھی تجاویز دی گئی ہیں۔
البرٹا ٹرانزیشن کونسل نے تجویز دی ہے کہ آزادی کے پہلے دن کینیڈین ڈالر ہی استعمال کیا جائے کیونکہ اس سے معاہدوں۔ قیمتوں اور صارفین سے متعلق معاملات میں اچانک خلل کم سے کم رکھا جاسکے گا۔
تاہم رپورٹ میں امریکی ڈالر کے استعمال۔ دوہری کرنسی کے انتظام یا مستقبل میں البرٹا کی اپنی کرنسی متعارف کرانے کے امکانات کو بھی طویل مدتی یا ہنگامی متبادل کے طور پر برقرار رکھا گیا ہے۔
پنشن اور رہن کے معاملات پر بھی تجاویز
رپورٹ میں پنشن کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر موجودہ ادائیگیوں کا سلسلہ جاری رکھا جاسکتا ہے جبکہ مستقبل کی پنشن اور اثاثوں کی منتقلی سے متعلق معاملات بعد میں مذاکرات کے ذریعے طے کیے جائیں۔
رہن کے قرضوں کے حوالے سے بھی منصوبے میں تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ کیتھ ولسن کے مطابق کینیڈا کی ہاؤسنگ مارگیج کارپوریشن کو آزاد البرٹا میں اپنی خدمات جاری رکھنے کا موقع دیا جاسکتا ہے۔
اگر یہ ادارہ خدمات جاری رکھنے پر آمادہ نہ ہو تو البرٹا اپنی ہاؤسنگ مارگیج کارپوریشن قائم کرسکتا ہے جو بینکوں کی جانب سے دی گئی رہن کی ضمانتوں کی منتقلی کے ذریعے مالی نظام کو مستحکم رکھنے کی کوشش کرے گی۔
البرٹا پر قرض کا بوجھ بڑھنے کا خدشہ
البرٹا کی علیحدگی کے مالی اثرات اس بحث کا ایک اہم حصہ ہیں۔
کیلگری میں قائم کینیڈا ویسٹ فاؤنڈیشن نے اپنی ایک الگ رپورٹ میں اندازہ لگایا ہے کہ کینیڈا سے علیحدگی کے بعد البرٹا میں فی فرد قرض 80 ہزار سے 95 ہزار ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں 2024 میں فی فرد قرض تقریباً 27 ہزار ڈالر بتایا گیا تھا۔
البرٹا ٹرانزیشن کونسل نے وفاقی قرض کے حتمی حصے کے حوالے سے کوئی مخصوص رقم تجویز نہیں کی۔ تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قرض کی تقسیم صرف آبادی کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے بلکہ البرٹا کی تاریخی مالی شراکت کو بھی حساب میں شامل کیا جانا چاہیے۔
کونسل نے آزاد ملک کے قیام کی مجموعی لاگت کی تفصیلی مالی تفصیل بھی موجودہ رپورٹ میں شامل نہیں کی اور مستقبل میں اس حوالے سے ایک الگ رپورٹ جاری کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
فرسٹ نیشنز کے حقوق کو اہم قرار دیا گیا
رپورٹ میں فرسٹ نیشنز کے ساتھ تعلقات کو بھی اہم موضوع قرار دیا گیا ہے۔
کونسل نے تسلیم کیا ہے کہ فرسٹ نیشنز کو آئینی طور پر تسلیم شدہ حقوق حاصل ہیں اور وہ معاہدوں کے فریق ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صرف البرٹا کے آزاد ہونے سے محفوظ علاقوں کی زمین کے حوالے سے خودکار طور پر کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
آزادی کی صورت میں فرسٹ نیشنز کے ساتھ تعلقات کے لیے رپورٹ میں چار ممکنہ راستے بھی پیش کیے گئے ہیں۔ ان میں ایک راستہ یہ ہے کہ فرسٹ نیشنز کینیڈا کے ساتھ اپنے موجودہ تعلق کو حتی الامکان برقرار رکھ سکیں۔
نئی پولیس اور دفاعی فورس کی تجویز
رپورٹ میں پولیس اور دفاع کے شعبے کے حوالے سے بھی تجاویز شامل ہیں۔
البرٹا شیرفس کو وسعت دے کر مکمل صوبائی پولیس فورس میں تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ وہ شاہی کینیڈین گھڑ سوار پولیس کی جگہ لے سکے۔
دفاع کے شعبے میں ابتدائی طور پر 2100 اہلکاروں پر مشتمل فورس قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس میں 300 مستقل کل وقتی اہلکار جبکہ 1800 افراد پر مشتمل علاقائی فورس شامل ہوگی۔
مخالفین نے منصوبے کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دے دیا
البرٹا کی آزادی کے منصوبے پر مخالفین کی جانب سے سخت تنقید بھی سامنے آئی ہے۔
اوٹاوا یونیورسٹی میں آئینی اور بین الاقوامی قانون کے پروفیسر ایرول مینڈس نے کہا کہ علیحدگی کی صورت میں پیدا ہونے والے کئی معاملات پر مذاکرات میں کئی سال لگ سکتے ہیں اور بعض معاملات شاید کبھی مکمل طور پر طے بھی نہ ہوں۔
کینیڈا ویسٹ فاؤنڈیشن کے صدر گیری مار نے کہا کہ انہوں نے البرٹا ٹرانزیشن کونسل کی مکمل رپورٹ ابھی نہیں پڑھی تاہم ان کے مطابق علیحدگی کے حامی اور کینیڈا کے ساتھ رہنے کے حامی دونوں اپنے اپنے مفروضوں کے بارے میں ضرورت سے زیادہ یقین رکھتے ہیں۔
دوسری جانب فور ایور کینیڈین تحریک کے رہنما اور البرٹا کے سابق نائب وزیر اعلیٰ تھامس لوکازک نے منصوبے کو مضحکہ خیز قرار دیا۔
انہوں نے علیحدگی کو طلاق سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی فریق علیحدگی کے اگلے ہی روز واپس آکر پہلے جیسے تعلقات کے ساتھ معمول کے معاملات جاری رکھنے کی توقع کرے۔
البرٹا میں ریفرنڈم کی بحث تیز
البرٹا میں 19 اکتوبر کو عوام سے اس بارے میں ووٹ لینے کی تیاری ہے کہ آیا صوبہ کینیڈا کے ساتھ برقرار رہے یا مستقبل میں علیحدگی کے لیے ایک اور لازمی ریفرنڈم کرایا جائے۔
دستیاب رائے شماریوں کے مطابق اس وقت البرٹا کی اقلیت ہی صوبے کی کینیڈا سے علیحدگی کی حمایت کرتی ہے۔
آزادی کے حامی گروپ کا کہنا ہے کہ اس کا منصوبہ کسی حتمی سیاسی فیصلے کا اعلان نہیں بلکہ اس ممکنہ صورتحال کے لیے انتظامی خاکہ ہے جس میں البرٹا کے عوام مستقبل میں کینیڈا سے علیحدگی کے حق میں فیصلہ دے سکتے ہیں۔
دوسری جانب مخالفین کا کہنا ہے کہ علیحدگی کے بعد پیدا ہونے والے قانونی۔ مالی اور سیاسی معاملات انتہائی پیچیدہ ہوں گے اور ان کے نتائج کو پہلے سے یقینی سمجھنا درست نہیں۔
البرٹا کی مستقبل کی سمت سے متعلق مزید معاشی اعداد و شمار اور تجزیے بھی سامنے آنے کی توقع ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے یونیورسٹی آف کیلگری سے کرائی گئی ایک الگ تحقیق بھی رواں ماہ جاری کیے جانے کی توقع ظاہر کی گئی ہے جس میں کینیڈا سے علیحدگی کے ممکنہ اخراجات کا جائزہ لیا جائے گا۔
