اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا میں کینیڈا سے علیحدگی کے مجوزہ ریفرنڈم میں 45 دن سے بھی کم وقت باقی رہ گیا ہے، تاہم صوبے کے بڑے کاروباری رہنماؤں کی جانب سے علیحدگی کے معاملے پر اب تک بہت کم کھل کر اظہار خیال کیا گیا ہے۔ دوسری جانب البرٹا کی ایک بڑی کاروباری تنظیم نے واضح کردیا ہے کہ اس کے بیشتر ارکان صوبے کو کینیڈا کا حصہ برقرار رکھنے کے حق میں ہیں۔
بزنس کونسل کا واضح مؤقف
بزنس کونسل آف البرٹا کے صدر ایڈم لیگ نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری رہنماؤں کی جانب سے عوامی سطح پر خاموشی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ علیحدگی کے ممکنہ نتائج پر نظر نہیں رکھ رہے۔
ایڈم لیگ کے مطابق کاروباری حلقوں میں اس معاملے پر بات کرنے میں کچھ ہچکچاہٹ ضرور پائی جاتی ہے، کیونکہ کئی کمپنیوں کے ملازمین اور صارفین ایسے بھی ہوسکتے ہیں جو البرٹا کی علیحدگی کی حمایت کرتے ہوں۔
اکثریت کینیڈا کے ساتھ
ایڈم لیگ نے تاہم واضح کیا کہ بزنس کونسل آف البرٹا کے ارکان کی اکثریت نے انہیں ’’واضح اور بلند آواز‘‘ میں کینیڈا کے ساتھ رہنے کے حق میں بات کرنے کا کہا ہے۔
بزنس کونسل کی رکنیت میں البرٹا کے بڑے کاروباری شعبوں سے تعلق رکھنے والے 130 سے زائد اعلیٰ انتظامی عہدیدار اور کمپنیوں کے سربراہان شامل ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ صوبے کی معیشت کے اہم شعبوں سے وابستہ کاروباری شخصیات اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہیں۔
علیحدگی سے غیر یقینی
ایڈم لیگ نے کہا کہ اگر ریفرنڈم میں البرٹا کی کینیڈا سے علیحدگی کے حق میں ووٹ آتا ہے تو اس کے نتیجے میں ’’بڑے پیمانے پر غیر یقینی‘‘ پیدا ہوگی۔
ان کے مطابق کاروباری دنیا کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوگا کہ علیحدگی کے بعد تجارت، مارکیٹ تک رسائی، کرنسی، شرح سود اور دیگر معاشی معاملات کس طرح طے ہوں گے۔
اپنی قسمت کا مالک؟
لیگ نے البرٹا کی مکمل خودمختاری کے تصور پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ خیال کہ ایک آزاد البرٹا اپنی قسمت کا مکمل مالک ہوگا، حقیقت پسندانہ نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ تجارت کے معاہدے، عالمی منڈیوں تک رسائی، کرنسی اور شرح سود جیسے کئی اہم عوامل البرٹا کے براہ راست اختیار میں نہیں ہوں گے۔
وفاقی پالیسی پر ناراضی
بزنس کونسل آف البرٹا کے صدر نے تسلیم کیا کہ صوبے کے بہت سے کاروباری رہنماؤں، خاص طور پر قدرتی وسائل کے شعبے سے وابستہ افراد، وفاقی حکومت کی پالیسیوں سے طویل عرصے سے ناراض ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :جنوبی البرٹا میں طیارہ حادثہ، دو افراد ہلاک، خراب موسم کے باعث تحقیقات میں مشکلات
ان کے مطابق وفاقی حکومت اور البرٹا کے درمیان متعدد معاملات پر اختلافات موجود ہیں، تاہم موجودہ صورتحال سے اختلاف کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ علیحدگی ہی بہترین حل ہے۔
آئل پائپ لائن کا معاملہ
لیگ نے کہا کہ حالیہ پیش رفت کے بعد صوبے میں عوامی جذبات میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر البرٹا سے مغربی ساحل تک مجوزہ تیل پائپ لائن کا حوالہ دیا۔
ان کے مطابق ایسے منصوبے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ صوبائی مفادات کے حصول کے لیے کینیڈا کے اندر رہتے ہوئے بھی راستے تلاش کیے جاسکتے ہیں۔
نئی ویب سائٹ لانچ
بزنس کونسل آف البرٹا نے منگل کو البرٹا ریفرنڈم سے متعلق ایک نئی ویب سائٹ بھی شروع کردی۔ تنظیم نے اس کے ساتھ ویڈیوز اور گرافکس بھی جاری کیے ہیں جن کا مقصد البرٹا کے کینیڈا کے ساتھ رہنے کے حق میں دلائل پیش کرنا ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ عوام کو علیحدگی کے ممکنہ معاشی اور کاروباری اثرات کے بارے میں معلومات فراہم کرے گی۔
انتخابی مہم کا حصہ نہیں
بزنس کونسل آف البرٹا نے واضح کیا ہے کہ وہ آئندہ ریفرنڈم کے لیے تیسرے فریق کے اشتہاری گروپ کے طور پر رجسٹریشن نہیں کرائے گی۔
تاہم تنظیم اپنی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے علیحدگی کے ممکنہ اثرات اور کینیڈا کے ساتھ رہنے کے حق میں اپنا مواد جاری رکھے گی۔
دیگر ادارے بھی میدان میں
البرٹا کی علیحدگی کے معاملے پر دیگر بڑے کاروباری اور پالیسی ادارے بھی اپنے مؤقف سامنے لاچکے ہیں۔ کیلگری چیمبر آف کامرس کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ علیحدگی کی صورت میں کاروباری ادارے صوبے سے باہر منتقل ہوسکتے ہیں اور البرٹا کی معیشت کو سالانہ 62 ارب ڈالر تک نقصان پہنچ سکتا ہے۔
علیحدگی کے حامیوں کا مؤقف
دوسری جانب آزادی اور علیحدگی کے حامی گروپس ان معاشی اندازوں سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ علیحدگی کے مخالفین کے تخمینے بدترین ممکنہ نتائج کو بنیاد بناتے ہیں اور البرٹا کی معاشی طاقت اور مذاکراتی صلاحیت کو نظر انداز کرتے ہیں۔
ریفرنڈم اہم مرحلہ
البرٹا میں ریفرنڈم قریب آنے کے ساتھ ہی علیحدگی کے معاملے پر بحث میں تیزی آنے کا امکان ہے۔ کاروباری حلقوں کی جانب سے کینیڈا کے ساتھ رہنے کی حمایت نے اس بحث میں ایک اہم معاشی پہلو شامل کردیا ہے۔
اب ریفرنڈم سے قبل البرٹا کے عوام کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہوگا کہ صوبائی خودمختاری کے مطالبے کو کس حد تک آگے بڑھایا جائے اور علیحدگی کی صورت میں پیدا ہونے والے معاشی، تجارتی اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا کس طرح کیا جائے۔
