البرٹا کی علیحدگی کا ریفرنڈم، کارنی کے حق میں حمایت کیوں بڑھنے لگی؟

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)البرٹا کو کینیڈا کا حصہ برقرار رکھنے کے لیے چلائی جانے والی ’’فور ایور کینیڈین‘‘ مہم کے سربراہ اور البرٹا کے سابق نائب پریمیئر تھامس لوکاشک نے وزیراعظم مارک کارنی کو صوبے کے عوام کے لیے ایک ’’پُرسکون‘‘ اور ’’حوصلہ دینے والی‘‘ شخصیت قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کارنی نے امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں کینیڈین مفادات کے لیے مضبوط مؤقف اختیار کرکے یہ پیغام دیا ہے کہ ملک کی قیادت سنبھالنے والا ایک شخص موجود ہے اور وہ مشکل حالات میں ملک کے ساتھ کھڑا ہے۔

بینف میں کارنی کا استقبال

مارک کارنی نے جمعے کو البرٹا کے شہر بینف میں فور ایور کینیڈین مہم کے رضاکاروں سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات بینف سینٹر فار آرٹس اینڈ کری ایٹوٹی میں ہوئی، جہاں وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی جاری تھا۔

وزیراعظم کے وہاں پہنچنے پر تقریباً 50 حامیوں نے ان کا استقبال کیا۔ بیشتر افراد نے سرخ اور سفید رنگ کے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جبکہ کچھ افراد کینیڈا کے قومی پرچم کی علامت میپل لیف والے لباس میں بھی موجود تھے۔

کارنی نے مہم کے لیے استعمال ہونے والی ایک شوخ گلابی رنگ کی تفریحی گاڑی پر سیاہ مارکر سے پیغام تحریر کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’’کینیڈا سب کا ہے اور سب کے لیے ہےاس موقع پر موجود افراد نے بعد ازاں کینیڈا کا قومی ترانہ ’’او کینیڈا‘‘ بھی گایا۔

البرٹا میں ریفرنڈم

البرٹا میں 19 اکتوبر کو ایک اہم ریفرنڈم ہونے جارہا ہے جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا کینیڈا سے علیحدگی کے معاملے پر دوبارہ ووٹنگ کرائی جائے یا نہیں۔

یہ معاملہ صوبے اور وفاق کے درمیان سیاسی تعلقات کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھا جارہا ہے۔ علیحدگی کے حامی حلقے البرٹا کے لیے زیادہ خودمختاری اور وفاق سے مختلف پالیسیوں کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، جبکہ فور ایور کینیڈین مہم صوبے کو کینیڈا کا حصہ برقرار رکھنے کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

کارنی کی محتاط حکمت عملی

وزیراعظم مارک کارنی نے قومی اتحاد پر زور تو دیا ہے تاہم وہ اب تک البرٹا میں علیحدگی کے خلاف مہم چلانے کے لیے کھل کر انتخابی انداز میں میدان میں نہیں اترے۔

جمعرات کو کارنی نے کہا تھا کہ البرٹا اور پورے کینیڈا کے لیے ان کا بنیادی کردار اقتصادی ایجنڈے پر عملدرآمد کرنا اور تعاون پر مبنی وفاقی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔

انہوں نے البرٹا کے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اگلے ماہ ہونے والے ریفرنڈم میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں۔کارنی کا کہنا تھا کہ کینیڈا اس بات کے قابل ہے کہ اس کے لیے جدوجہد کی جائے اور اس جدوجہد کا مطلب یہ ہے کہ لوگ 19 اکتوبر کو پولنگ اسٹیشن پہنچیں، اپنا بیلٹ بذریعہ ڈاک بھیجیں یا قبل از وقت ووٹنگ میں حصہ لیں۔

’وزیراعظم مزید متحرک ہوں گے‘

فور ایور کینیڈین مہم کے سربراہ تھامس لوکاشک نے امید ظاہر کی کہ ریفرنڈم کی مہم آگے بڑھنے کے ساتھ مارک کارنی ذاتی طور پر زیادہ متحرک کردار ادا کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مہم کے کسی مرحلے پر وزیراعظم خود البرٹا کے عوام سے زیادہ براہ راست رابطہ کریں گے اور انہیں کینیڈا کے ساتھ رہنے کے حق میں اپنا مؤقف زیادہ واضح انداز میں پیش کرنا ہوگا۔لوکاشک نے وفاقی کنزرویٹو پارٹی سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے میں زیادہ فعال کردار ادا کرے۔

یہ بھی پڑھیں :البرٹا حکومت کا کینیڈا کے ساتھ رہنے کی مہم کا اعلان، ریفرنڈم سے قبل 40 لاکھ ڈالر مختص

پوئیلیور پر تنقید

لوکاشک نے اپوزیشن لیڈر پیئر پوئیلیور اور وفاقی کنزرویٹو ارکان کی عدم موجودگی پر بھی سوال اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ پوئیلیور کا کہنا ہے کہ البرٹا سے تعلق رکھنے والے ان کے ارکان پارلیمنٹ فور ایور کینیڈین مہم کے ساتھ ہیں، تاہم انہیں البرٹا میں جاری مہم کے دوران ان ارکان کی عملی موجودگی نظر نہیں آتی۔

ان کے مطابق یہ معاملہ کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ کینیڈا کے مستقبل اور قومی اتحاد سے متعلق ہے، اس لیے تمام سیاسی قوتوں کو مل کر کردار ادا کرنا چاہیے۔

وفاق کا مؤقف

وفاقی حکومت نے رواں ہفتے البرٹا میں کابینہ کا اجلاس منعقد کیا اور صوبے کے مختلف شہروں کے میئرز سے بھی ملاقاتیں کیں، تاہم وفاقی وزرا نے علیحدگی کے خلاف مہم میں براہ راست حصہ لینے کے حوالے سے کوئی بڑا آئندہ منصوبہ سامنے نہیں رکھا۔

وفاقی وزیر ایمرجنسی مینجمنٹ ایلینور اولزیوسکی نے کہا کہ وفاقی حکومت کا کام البرٹا کے عوام کو یہ بتانا نہیں کہ وہ کیا کریں یا کس طرح ووٹ دیں۔

ان کے مطابق حکومت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ البرٹا کے ساتھ مضبوط شراکت دار کے طور پر کام کرے، مختلف منصوبوں میں تعاون کرے اور متحد کینیڈا کی تعمیر کے لیے اقدامات جاری رکھے۔

’کینیڈا کام کرتا ہے‘

تاہم اولزیوسکی نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت کے ارکان البرٹا کے شہریوں سے کینیڈا کے ساتھ رہنے کی اہمیت پر بات کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت البرٹا کے عوام کو یہ دکھانے کی کوشش کررہی ہے کہ کینیڈا کا وفاقی نظام کام کرسکتا ہے اور حکومت ملک کے تمام علاقوں کے لیے بہتر نتائج حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

کیلگری کے میئر کی حمایت

کیلگری کے میئر جیرومی فارکاس نے بھی کارنی اور ان کی کابینہ کی کوششوں کو سراہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے البرٹا کے معاملے کو صرف مالی لین دین تک محدود کرنے کے بجائے صوبے میں موجود رہ کر لوگوں کی بات سننے کی کوشش کی ہے۔

فارکاس کے مطابق کارنی حکومت کے ارکان بڑے اجتماعات کے علاوہ دیہی علاقوں کا بھی دورہ کررہے ہیں، جہاں کئی برسوں سے وفاقی سیاست دانوں کی موجودگی کم رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت البرٹا میں آکر لوگوں کو سننے، سیکھنے اور مشترکہ مفادات کے لیے کام کرنے کا پیغام دے رہی ہے، جس سے علیحدگی کے سوال پر جاری بحث میں وفاق اور صوبے کے درمیان فاصلے کم کرنے کی کوشش نظر آتی ہے۔

ہمیں فالو کریں

[uw_related_posts]