اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) قومی کرکٹ ٹیم کے اہم کھلاڑی امام الحق اور محمد رضوان کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ کے حوالے سے مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔
دونوں کرکٹرز کو فٹنس ٹیسٹ نہ دینے کے باعث پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون ٹورنامنٹ کے پہلے مرحلے میں شرکت کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔ اس صورتحال کے بعد دونوں کھلاڑیوں کے ڈومیسٹک کرکٹ میں مستقبل اور سینٹرل کنٹریکٹ برقرار رکھنے کے حوالے سے بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ذرائع کے مطابق امام الحق اور محمد رضوان کی فٹنس ٹیسٹ رپورٹس ان کے متعلقہ محکموں کی جانب سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو فراہم نہیں کی گئیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے قواعد کے تحت فرسٹ کلاس کرکٹ میں شرکت کے لیے کھلاڑیوں کی فٹنس ٹیسٹ رپورٹس جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ مطلوبہ رپورٹس دستیاب نہ ہونے کے باعث دونوں کرکٹرز اپنی اپنی ٹیموں کی نمائندگی نہیں کرسکیں گے۔
پریزیڈنٹ ٹرافی میں دونوں کھلاڑیوں کو قیادت کرنا تھی
پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون کا آغاز کل سے پنڈی، اسلام آباد، ایبٹ آباد اور پشاور میں ہورہا ہے۔ اس ٹورنامنٹ میں امام الحق اور محمد رضوان اپنی اپنی ٹیموں کے لیے اہم ذمہ داریاں ادا کرنے والے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:
امام الحق کی دلہن کے شادی تقریبات میں پہنے گئے لباس کی قیمت کیا تھی ؟
امام الحق کو او جی ڈی سی ایل کی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے پی ٹی وی کے خلاف میچ کھیلنا تھا۔ ان کی عدم شرکت سے او جی ڈی سی ایل کی ٹیم کو اپنے ابتدائی میچ میں ایک اہم کھلاڑی اور کپتان کی خدمات حاصل نہیں ہوں گی۔
دوسری جانب شان مسعود کی عدم موجودگی میں محمد رضوان کو سوئی گیس کی ٹیم کی قیادت کرنا تھی۔ رضوان کی عدم دستیابی کے باعث سوئی گیس کی ٹیم کو بھی اپنے پہلے راؤنڈ میں قیادت کے حوالے سے متبادل انتظام کرنا ہوگا۔
دونوں کھلاڑیوں کی ٹورنامنٹ میں شرکت کو اہم سمجھا جا رہا تھا تاہم فٹنس ٹیسٹ کی رپورٹس جمع نہ ہونے کی وجہ سے ان کی شرکت ممکن نہیں رہی۔
فٹنس ٹیسٹ رپورٹ جمع کرانا لازمی ہے
پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ قواعد کے مطابق فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں کے لیے فٹنس ٹیسٹ سے متعلق تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں۔ اسی ضابطے کے تحت کھلاڑیوں کی فٹنس ٹیسٹ رپورٹس بورڈ کو فراہم کی جاتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق امام الحق اور محمد رضوان کے متعلقہ محکموں کی جانب سے ان کی فٹنس ٹیسٹ رپورٹس پی سی بی کو موصول نہیں ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کرکٹرز کو پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون میں کھیلنے کی اجازت نہیں مل سکی۔
اس فیصلے کے نتیجے میں دونوں قومی کرکٹرز ایک ایسے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ میں شرکت سے محروم ہوگئے ہیں جس میں انہیں اپنی متعلقہ ٹیموں کی نمائندگی کے ساتھ قیادت بھی کرنا تھی۔
دونوں کرکٹرز کے مستقبل پر سوالات
امام الحق اور محمد رضوان کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ میں پیدا ہونے والی یہ صورتحال اس وقت مزید اہم ہوگئی ہے جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے سینٹرل کنٹریکٹ سے متعلق کھلاڑیوں کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت کے حوالے سے بھی شرط عائد کر رکھی ہے۔
پی سی بی کے قواعد کے مطابق تمام کرکٹرز کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ کے کم از کم پانچ پانچ میچز کھیلنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اس شرط کے تناظر میں پریزیڈنٹ ٹرافی سے دونوں کھلاڑیوں کی موجودہ غیر حاضری ان کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔
امام الحق اور محمد رضوان دونوں قومی ٹیم کے نمایاں کھلاڑی رہے ہیں اور ان کی ڈومیسٹک سطح پر دستیابی بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں فٹنس ٹیسٹ سے متعلق تقاضا پورا نہ ہونے کے باعث دونوں کھلاڑی پریزیڈنٹ ٹرافی کے ابتدائی مرحلے میں اپنی ٹیموں کے ساتھ میدان میں نہیں اتر سکیں گے۔
انکوائری کے ساتھ ڈومیسٹک کرکٹ سے دوری
دونوں کرکٹرز کو اس وقت ایک اور معاملے میں بھی انکوائری کا سامنا ہے۔ ایسے میں ڈومیسٹک کرکٹ کے پہلے راؤنڈ سے باہر ہونا ان کے لیے مزید مشکل صورتحال پیدا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
ایک جانب انکوائری کا معاملہ موجود ہے اور دوسری جانب ڈومیسٹک کرکٹ میں مقررہ میچز کھیلنے کی شرط بھی برقرار ہے۔ ایسے حالات میں دونوں کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :
مصباح الحق نے قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی سے استعفی دے دیا
اگر دونوں کرکٹرز ڈومیسٹک کرکٹ کے لیے مقررہ کم از کم پانچ میچز مکمل نہیں کر پاتے تو سینٹرل کنٹریکٹ سے متعلق پی سی بی کے قواعد ان کے لیے اہمیت اختیار کرسکتے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال میں یہ واضح ہے کہ فٹنس ٹیسٹ رپورٹس جمع نہ ہونے کے باعث وہ پریزیڈنٹ ٹرافی کے آغاز میں اپنی ٹیموں کا حصہ نہیں ہوں گے۔
امام الحق اور رضوان کے لیے نیا چیلنج
امام الحق اور محمد رضوان کی ڈومیسٹک کرکٹ سے موجودہ غیر حاضری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ دونوں کرکٹرز کو اپنی اپنی ٹیموں کی قیادت کرنی تھی لیکن فٹنس ٹیسٹ سے متعلق ضروری تقاضے مکمل نہ ہونے کے باعث وہ ابتدائی مرحلے میں دستیاب نہیں ہوں گے۔
اس صورتحال نے دونوں کھلاڑیوں کے ڈومیسٹک کرکٹ کے مستقبل کو عارضی طور پر غیر یقینی بنا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سینٹرل کنٹریکٹ برقرار رکھنے کے لیے درکار ڈومیسٹک میچز کی شرط بھی ان کے لیے ایک اہم معاملہ بن گئی ہے۔
اب یہ دیکھنا ہوگا کہ دونوں کرکٹرز فٹنس ٹیسٹ سے متعلق تقاضے کب مکمل کرتے ہیں اور ڈومیسٹک کرکٹ میں کم از کم پانچ میچز کھیلنے کی شرط کیسے پوری کرتے ہیں۔ فی الحال دونوں قومی کرکٹرز پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون کے ابتدائی مرحلے میں اپنی متعلقہ ٹیموں کی نمائندگی نہیں کرسکیں گے۔
