امریکا کا کینیڈین موٹرسائیکلوں اور شراب کی درآمد روکنے کا فیصلہ

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز) امریکا اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کرگئی ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی متعدد مصنوعات پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ اقدامات کینیڈا کی جانب سے امریکی مصنوعات پر عائد کیے گئے جوابی محصولات کے ردعمل میں کیے جارہے ہیں۔

نئے اقدامات کے تحت امریکا کینیڈا سے آنے والی موٹرسائیکلوں، بیشتر الکوحل مشروبات اور بعض ڈیری مصنوعات کی درآمد روک دے گا، جبکہ کئی دیگر کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

موٹرسائیکلوں پر پابندی

امریکی حکومت نے کینیڈا سے درآمد کی جانے والی موٹرسائیکلوں کو نئی پابندیوں میں شامل کیا ہے۔ اس فیصلے سے کینیڈا میں موٹرسائیکل تیار کرنے والی کمپنیوں اور امریکی مارکیٹ میں کینیڈین مصنوعات فروخت کرنے والے ڈیلرز پر براہ راست اثر پڑنے کا امکان ہے۔

امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ کینیڈا کی جانب سے امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات عائد کیے جانے کے بعد واشنگٹن کے لیے جوابی کارروائی ضروری ہوگئی تھی۔

الکوحل کی درآمد بند

نئے امریکی اقدامات میں کینیڈا سے درآمد ہونے والے بیشتر الکوحل مشروبات بھی شامل ہیں۔ اس فیصلے کے نتیجے میں کینیڈین شراب اور دیگر الکوحل بنانے والے اداروں کے لیے امریکا کی بڑی صارف مارکیٹ تک رسائی محدود ہوسکتی ہے۔

تجارتی ماہرین کے مطابق اس پابندی سے دونوں ممالک کے درمیان مشروبات کی تجارت متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ درآمد کنندگان اور تقسیم کاروں کے کاروبار پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

ڈیری مصنوعات بھی متاثر

امریکی پابندیوں کا دائرہ کینیڈا کی بعض ڈیری مصنوعات تک بھی بڑھایا گیا ہے۔ امریکا اور کینیڈا کے درمیان زرعی مصنوعات کی تجارت کئی دہائیوں سے دونوں ملکوں کی معیشتوں کا اہم حصہ رہی ہے۔

نئی پابندیوں کے باعث کینیڈین ڈیری مصنوعات کے امریکی خریداروں اور کاروباری اداروں کو متبادل ذرائع تلاش کرنا پڑ سکتے ہیں، جبکہ کینیڈین پروڈیوسرز کو اپنی برآمدی منڈیوں کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

مزید مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف

وائٹ ہاؤس نے کینیڈا کی متعدد دیگر مصنوعات کو بھی 50 فیصد ٹیرف کے دائرے میں شامل کردیا ہے۔ ان مصنوعات میں گدے، موٹر بوٹس اور دیگر اشیا شامل ہیں۔

امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اضافی محصولات کا مقصد کینیڈا کے تجارتی اقدامات کا جواب دینا اور امریکی صنعتوں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔

کینیڈا کا بڑا جوابی ٹیرف

امریکی اعلان کینیڈا کی جانب سے اربوں ڈالر مالیت کی امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات نافذ کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ کینیڈین حکومت نے امریکا کی جانب سے عائد کیے گئے تجارتی اقدامات کے جواب میں تقریباً 27.6 ارب ڈالر مالیت کی امریکی درآمدات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں :امریکہ کینیڈا تجارتی جنگ کا اثر ، گروسری سمیت دیگر اشیا مہنگائی ہونے کا مکان

کینیڈا کے جوابی ٹیرف میں امریکی اسٹیل، ایلومینیم، گھریلو آلات، کپڑے، سمندری خوراک اور ڈیری مصنوعات سمیت مختلف شعبوں کی اشیا شامل ہیں۔

کاروبار متاثر ہونے کا خدشہ

تجارتی جنگ کے باعث دونوں ممالک میں کاروباری اداروں اور صنعت کاروں کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ امریکا اور کینیڈا ایک دوسرے کے اہم تجارتی شراکت دار ہیں اور دونوں ملکوں کی صنعتیں کئی شعبوں میں ایک دوسرے کی سپلائی چینز پر انحصار کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق مسلسل ٹیرف اور درآمدی پابندیاں کاروباری لاگت میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں بعض مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کا امکان ہے۔

صارفین پر بھی اثرات

تجارتی پابندیوں کا اثر صرف کمپنیوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ بالآخر صارفین تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ اگر درآمدی مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کیے جائیں تو درآمد کنندگان اضافی لاگت کا کچھ حصہ مصنوعات کی قیمتوں میں شامل کرسکتے ہیں۔

اس صورتحال میں امریکا اور کینیڈا دونوں میں بعض مصنوعات مہنگی ہونے اور صارفین کے انتخاب محدود ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

کینیڈا نے امدادی پیکیج بھی دیا

کینیڈین حکومت نے امریکی محصولات سے متاثر ہونے والے کارکنوں اور کاروباری اداروں کی مدد کے لیے تقریباً 7.5 ارب ڈالر کے امدادی اقدامات کا بھی اعلان کیا ہے۔ اوٹاوا کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد تجارتی تنازع کے منفی اثرات کو کم کرنا اور متاثرہ شعبوں کو سہارا دینا ہے۔

کشیدگی کم کرنے کا چیلنج

امریکا اور کینیڈا کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی نے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نیا چیلنج پیدا کردیا ہے۔ تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں حکومتوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے اختلافات حل نہ ہوئے تو مزید مصنوعات بھی پابندیوں اور اضافی محصولات کی زد میں آسکتی ہیں۔

حالیہ اقدامات سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ واشنگٹن اور اوٹاوا ایک دوسرے کے تجارتی فیصلوں کا سخت جواب دینے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان آئندہ مذاکرات اس بات کا تعین کریں گے کہ تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے یا فریقین کسی سمجھوتے کے ذریعے محصولات اور پابندیوں میں کمی کی طرف بڑھتے ہیں۔

ہمیں فالو کریں

[uw_related_posts]