امریکا کے نئے تجارتی اقدامات،ؒکینیڈا کی معیشت پر کتنا اثر پڑے گا؟

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکا اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی جنگ میں ایک اور اہم موڑ آگیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے کینیڈا کی بعض ڈیری مصنوعات، موٹر سائیکلوں اور مخصوص الکوحل مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کردی ہے۔ اس کے علاوہ کئی کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف بھی نافذ کردیا گیا ہے۔

50 فیصد ٹیرف

امریکی انتظامیہ نے کینیڈا کی جانب سے امریکی درآمدات پر جوابی ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد یہ اقدامات کیے ہیں۔ نئی فہرست میں گدے، کاغذ سے بنی بعض مصنوعات اور دیگر اشیا شامل ہیں، جن پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔

کچھ ٹیرف ختم

امریکا نے بعض کینیڈین مصنوعات کو ٹیرف کی فہرست سے نکال بھی دیا ہے۔ ٹوائلٹ پیپر، سیمنٹ اور چینی سمیت کچھ اشیا پر پہلے عائد ٹیرف ختم کردیئے گئے ہیں۔

محدود معاشی اثر

اسکوشیا بینک کے ماہر اقتصادیات ڈیرک ہولٹ کے مطابق نئے امریکی ٹیرف تقریباً 3 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین مصنوعات پر لاگو ہوں گے، جبکہ جن مصنوعات سے ٹیرف ہٹایا گیا ہے ان کی مالیت تقریباً 2 ارب ڈالر ہے۔

بڑی تجارت

کینیڈا نے 2025 میں امریکا کو 527 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کی اشیا برآمد کی تھیں۔ اس بڑے تجارتی حجم کے مقابلے میں نئی پابندیوں سے ہونے والا مجموعی نقصان محدود رہنے کا امکان ہے۔

ڈیری پر اثر

ماہرین کے مطابق ڈیری مصنوعات پر پابندی کا کینیڈا کی مجموعی معیشت پر بہت بڑا اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ کینیڈا امریکا کو ڈیری مصنوعات کی محدود مقدار برآمد کرتا ہے۔

موٹر سائیکلیں بھی

موٹر سائیکلوں کی برآمدات بھی کینیڈا کی مجموعی امریکی تجارت کے مقابلے میں معمولی ہیں۔ اسی لیے اس شعبے پر پابندی کا قومی معیشت پر اثر نسبتاً کم رہنے کی توقع ہے۔

شراب کا شعبہ

الکوحل کی صنعت کے لیے صورتحال زیادہ تشویشناک ہے۔ کینیڈا سے امریکا کو گزشتہ سال تقریباً 55 کروڑ ڈالر مالیت کی الکوحل مصنوعات برآمد کی گئی تھیں، اس لیے پابندی سے اس شعبے کے کاروبار متاثر ہوسکتے ہیں۔

کاروبار پریشان

اسپرٹس کینیڈا کے سربراہ کیل برکر کے مطابق کینیڈا کی الکوحل صنعت امریکا کو بڑی مقدار میں مصنوعات برآمد کرتی ہے، اس لیے مسلسل امریکی اقدامات کاروباری اداروں کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

عملی پابندی

ماہرین کے مطابق 50 فیصد ٹیرف اگرچہ مکمل درآمدی پابندی نہیں، لیکن اتنا بھاری ٹیکس کینیڈین مصنوعات کو امریکی مارکیٹ میں انتہائی مہنگا بنا سکتا ہے۔ اس سے طلب اور فروخت میں کمی کا خطرہ ہے۔

صنعتیں تقسیم

بی ایم او کے چیف اکانومسٹ ڈگ پورٹر کے مطابق کچھ صنعتیں امریکی اقدامات سے ریلیف محسوس کریں گی، جبکہ نئی فہرست میں شامل شعبوں کے لیے صورتحال انتہائی مشکل ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :کیوبک کی پریمیئر کا انتخابی مہم سے وقفہ، امریکی ٹیرف کے معاملے پر ہنگامی کابینہ اجلاس طلب

تیل کا خطرہ

ڈیرک ہولٹ کے مطابق کینیڈا کی معیشت کے لیے عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نئی امریکی پابندیوں سے بھی بڑا خطرہ بن سکتی ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بے یقینی برقرار

ماہرین کے مطابق نئی پابندیوں کا مجموعی قومی معیشت پر اثر محدود ہوسکتا ہے، لیکن کاروباری اداروں کے لیے مسلسل بدلتی امریکی تجارتی پالیسی بڑا مسئلہ بن رہی ہے۔

تجارتی جنگ جاری

کاروباری مالکان کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا جارہا ہے کہ آئندہ کس شعبے یا مصنوعات کو امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہی غیر یقینی سرمایہ کاری اور برآمدی فیصلوں کو متاثر کرسکتی ہے۔

بڑا دھچکا نہیں

مجموعی طور پر ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی امریکی پابندیاں کینیڈا کی پوری معیشت کو بڑا دھچکا دینے کی پوزیشن میں نہیں، تاہم مخصوص صنعتوں کے لیے یہ اقدامات ایک سنجیدہ معاشی چیلنج ضرور بن گئے ہیں۔

ہمیں فالو کریں

[uw_related_posts]