ارد ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا اور کینیڈا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے دونوں ممالک کی سرحد کے قریب واقع امریکی شہروں اور قصبوں میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔
ریاست نیویارک کے بالائی علاقوں میں رہنے والے شہریوں اور مقامی حکام کو خدشہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی تنازع اور سیاسی کشیدگی کے نتیجے میں کینیڈین شہریوں کی امریکا آمد میں جو کمی ہوئی ہے وہ عارضی ثابت ہونے کے بجائے مستقل نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
سرحدی علاقوں کی معیشت طویل عرصے سے دونوں ممالک کے شہریوں کی آمدورفت اور باہمی تجارت سے جڑی ہوئی ہے۔ مقامی کاروبار اور سیاحت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ کینیڈین شہریوں کی جانب سے امریکی علاقوں کا سفر کم کرنے سے ان کمیونٹیز کو براہ راست اقتصادی نقصان پہنچ رہا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن اور اوٹاوا کی سطح پر کیے جانے والے فیصلے اگرچہ دونوں ممالک کے وسیع تر اقتصادی مفادات کے نام پر کیے جا رہے ہیں لیکن ان کے اثرات سرحدی آبادیوں کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔
جھیل اونٹاریو بھی سیاسی تنازع کا حصہ بن گئی
نیویارک کے علاقے ساکٹس ہاربر کے میئر ایلکس مورجیا نے جھیل اونٹاریو کے کنارے موجود اپنی بندرگاہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ علاقہ قدرتی حسن کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے جھیل کے غروب آفتاب کے مناظر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بادلوں کے درمیان سے نکلنے والی سورج کی روشنی بعض اوقات انتہائی خوبصورت منظر پیش کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :
امریکہ کینیڈا تجارتی جنگ کا اثر ، گروسری سمیت دیگر اشیا مہنگائی ہونے کا مکان
تاہم خوبصورت مناظر کے لیے مشہور یہی جھیل اب امریکا اور کینیڈا کے درمیان سیاسی کشیدگی کا ایک نمایاں حوالہ بھی بن چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’’جھیل امریکا‘‘ رکھنے کے فیصلے نے بھی دونوں ممالک کے درمیان موجود تنازع کو مزید نمایاں کیا ہے۔
ساکٹس ہاربر کینیڈا کی سرحد سے تقریباً 40 منٹ کی مسافت پر جھیل کے مشرقی کنارے پر واقع ہے۔ میئر مورجیا کے مطابق ان کا شہر ماضی میں بھی امریکا اور کینیڈا کے درمیان تنازعات کے دوران اہم حیثیت رکھتا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 1812 کی جنگ کے دوران ساکٹس ہاربر میں دو بڑی لڑائیاں بھی ہوئی تھیں اور آج بھی بعض مقامی افراد کو اپنے گھروں کے آس پاس توپوں کے گولے ملتے رہتے ہیں۔
کینیڈین سیاحوں کی کمی سے سرحدی علاقوں کو نقصان
تھاؤزنڈ آئی لینڈز ریجنل ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ڈائریکٹر کوری فریم نے بتایا کہ وہ سرحد کے دونوں جانب سیاحت کے فروغ کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسری مرتبہ امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد کینیڈین شہریوں کی جانب سے امریکی علاقوں میں خریداری اور سرحد پار آمدورفت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
فریم کا کہنا تھا کہ کینیڈین سیاحوں کی جانب سے نیویارک کی جانب کم سفر کرنے سے ہونے والا اقتصادی نقصان صرف مالی معاملہ نہیں بلکہ سرحدی کمیونٹیز کے لیے جذباتی طور پر بھی اہم ہے۔ ان کے مطابق سرحدی علاقوں کے رہنے والوں کے لیے دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اور اوٹاوا ممکنہ طور پر اپنی اپنی معیشتوں کے مفاد میں حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں لیکن ان اقدامات کا اثر سرحدی علاقوں پر اس کے برعکس پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحد کے قریب رہنے والے لوگ ان پالیسیوں کی قیمت ادا کر رہے ہیں جنہیں دونوں ممالک مجموعی اقتصادی فائدے کے لیے ضروری قرار دے سکتے ہیں۔
اوگڈنزبرگ میں سرحدی آمدورفت 23 فیصد کم ہوگئی
اوگڈنزبرگ کے علاقے میں بھی سرحد پار آمدورفت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اوگڈنزبرگ برج اینڈ پورٹ اتھارٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انتھونی ایڈمچک کے مطابق 2025 میں کینیڈا سے آنے والی مجموعی ٹریفک 2024 کے مقابلے میں 23 فیصد کم رہی۔
ان کے مطابق اس کمی کا مطلب تقریباً ایک لاکھ 36 ہزار گاڑیوں کی آمدورفت میں کمی ہے۔ سرحدی پل سے حاصل ہونے والی ٹول آمدنی میں بھی 35 فیصد کمی واقع ہوئی جو تقریباً 5 لاکھ 36 ہزار ڈالر کے نقصان کے برابر ہے۔
ایڈمچک نے بتایا کہ جنوری 2025 میں کینیڈا سے سرحد پار آنے والی ٹریفک میں گزشتہ سال کے مقابلے میں معمولی اضافہ ضرور ہوا تھا لیکن فروری میں یہ دوبارہ کم ہوگئی اور اس کے بعد دوبارہ پہلے کی سطح پر نہیں پہنچ سکی۔
سیاحوں کی تعداد مستقل طور پر کم رہ سکتی
کوری فریم کے مطابق سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ کینیڈا سے آنے والے سیاحوں کی تعداد مستقبل میں مستقل طور پر کم رہ جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں جب سرحد پار آمدورفت کو بڑے بحرانوں کا سامنا ہوا تو تعداد میں کمی واقع ہوئی اور بعد میں یہ مکمل طور پر پرانی سطح پر واپس نہیں آسکی۔
انہوں نے کورونا وبا اور 11 ستمبر کے دہشت گرد حملوں جیسے واقعات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہر بڑے بحران کے بعد سرحدی آمدورفت متاثر ہوئی۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال بھی ایک ایسے ہی بڑے زوال کا سبب بن سکتی ہے اور یہ خدشہ موجود ہے کہ 2024 میں نظر آنے والی سطح تک جلد واپسی ممکن نہ ہو۔
مقامی شہری ٹرمپ کی پالیسیوں پر منقسم
اوگڈنزبرگ اور ساکٹس ہاربر کے شہری امریکا اور کینیڈا کے درمیان جاری تنازع کے حوالے سے مختلف آرا رکھتے ہیں۔ ان علاقوں میں کئی افراد امریکی صدر کی تجارتی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں جبکہ کچھ شہری موجودہ صورتحال سے ناخوش دکھائی دیتے ہیں۔
اوگڈنزبرگ میں گریگ بار نے بتایا کہ وہ اکثر کینیڈا جاتے ہیں اور انہیں وہاں کے شہریوں کے ساتھ کبھی مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ تاہم تجارتی جنگ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں امریکا نے ماضی میں کینیڈا سمیت دیگر ممالک کے ساتھ بہت زیادہ رعایت کی ہے۔
بار کے مطابق ٹرمپ کی پالیسیوں کا مقصد اقتصادی معاملات میں توازن پیدا کرنا ہے اور اگرچہ صدر کا انداز انہیں ہمیشہ پسند نہیں آتا لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی پالیسیاں نتائج حاصل کر رہی ہیں۔
کچھ شہری ٹرمپ حکومت سے مایوس
ٹیکسی سروس چلانے والے جم روپرٹ نے بھی ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کو امریکا کے لیے اقتصادی میدان میں برابری پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا۔ تاہم دوسری جانب مقامی شہری کیرول اور گیری ڈیوس نے موجودہ صورتحال پر مایوسی کا اظہار کیا۔
دونوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ محسوس کیا ہے۔ گیری ڈیوس کے مطابق ٹرمپ نے سستا ایندھن اور سستی خوراک فراہم کرنے کے وعدے کیے تھے لیکن ان کے تجربے میں صورتحال اس کے برعکس رہی۔
کیرول نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ صدارتی انتخاب میں ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا لیکن اب وہ صدر کی کارکردگی سے مایوس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے پاس بہتر انتخاب موجود نہیں تھا اور اب انہیں اپنے فیصلے پر افسوس ہے۔
مقامی ری پبلکن رکن بھی کشیدگی کم کرنے کے خواہاں
اوگڈنزبرگ اور ساکٹس ہاربر کی نمائندگی کرنے والے ری پبلکن رکن اسمبلی اسکاٹ گرے نے بھی مقامی شہریوں کے خدشات سے آگاہ ہونے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ محصولات کے اصول کے خلاف نہیں ہیں لیکن وہ نہیں چاہتے کہ ان اقدامات سے ان کے اپنے شہریوں یا کینیڈین عوام کو نقصان پہنچے۔
گرے کے مطابق امریکا اور کینیڈا کے درمیان طویل عرصے سے اقتصادی اور تجارتی تعلقات قائم ہیں اور انہیں برقرار رکھنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تجارتی مذاکرات کے ذریعے بعض اہم مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
امریکہ کی نئی تجارتی رپورٹ میں کینیڈا پر متعدد رکاوٹوں کا الزام، شراب اور خریداری پالیسی نمایاں نکات
انہوں نے کہا کہ محصولات اور جوابی محصولات دونوں ہی اقتصادی سرگرمیوں میں خلل پیدا کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان منصفانہ تجارتی معاہدہ ہونا چاہیے لیکن ایسا کرتے ہوئے دشمنی اور کشیدگی کو بڑھانے سے گریز ضروری ہے۔
سرحدی شہری مستقبل کے حوالے سے فکرمند
ساکٹس ہاربر کے میئر ایلکس مورجیا کے مطابق ایک موقع پر انہیں امید ہوئی تھی کہ امریکی صدر دیگر مسائل میں مصروف ہونے کے باعث کینیڈا کے معاملے پر توجہ کم کر دیں گے اور دونوں ممالک دوبارہ دوستانہ تعلقات کی طرف واپس آسکیں گے۔ تاہم ان کے مطابق اب وہ امید ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
مورجیا نے کہا کہ کینیڈا کے ساتھ موجودہ کشیدگی نے سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے صورتحال کو مشکل بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ امریکی شہری اپنی حکومت پر دباؤ ڈالیں تاکہ کینیڈا کے خلاف اقدامات میں کمی لائی جائے۔
ان کا خیال ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں فوری تبدیلی مشکل ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت پر ری پبلکن جماعت کا مضبوط اثر ہے اور ان کے خیال میں نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات تک صدر کو جواب دہ بنانے کے لیے سیاسی دباؤ محدود رہ سکتا ہے۔
ریاست نیویارک کے یہ سرحدی علاقے امریکا اور کینیڈا کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری قریبی روابط کی عملی مثال ہیں۔ موجودہ تجارتی تنازع اور سیاسی اختلافات کے باعث سرحد پار سفر میں کمی نے مقامی معیشت اور سیاحت سے وابستہ افراد کے مستقبل کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ مقامی حکام اور شہریوں کی تشویش کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ اگر کینیڈین آمدورفت میں کمی طویل عرصے تک برقرار رہی تو اس کے اثرات صرف موجودہ آمدنی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ سرحدی علاقوں کے روایتی معاشی اور سماجی تعلقات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
