12
اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) تہران نے امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ فی الحال کسی نئے مذاکراتی دور کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں
جس کے باعث پاکستان میں متوقع دوسرے مرحلے کی بات چیت بھی نہیں ہوگی۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔ ان کے مطابق امریکا نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ سفارتی عمل کو سنجیدگی سے آگے بڑھانے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی کی گئی جس کے بارے میں ایران نے ثالث کے طور پر کردار ادا کرنے والے پاکستان کو آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بدستور موجود ہیں جس کے باعث فوری طور پر مذاکرات کی بحالی ممکن دکھائی نہیں دیتی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی، بحری ناکہ بندی اور جوہری پروگرام جیسے حساس معاملات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تناؤ میں کمی نہ آئی تو نہ صرف مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار رہے گا بلکہ خطے میں امن کے امکانات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔