اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کی ایک کیڈٹ اور اس کی انسٹرکٹر کو امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کی جانب سے سوشل میڈیا پوسٹ میں نشانہ بنائے جانے کے معاملے پر کینیڈین فوج کی سربراہ جنرل جینی کیرگنان نے کہا ہے کہ متاثرہ افراد خود فیصلہ کریں گے کہ وہ اس کا جواب دینا چاہتے ہیں یا نہیں۔
فوجی حمایت
جنرل جینی کیرگنان نے کہا کہ کینیڈین فوج دونوں متاثرہ ارکان کو مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے اور ان سے مشاورت کی جا رہی ہے کہ وہ اس معاملے سے کس طرح نمٹنا چاہتے ہیں۔
برٹش کولمبیا کے شہر وکٹوریہ میں دفاعی سربراہان کی کانفرنس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوج اپنے اہلکاروں کو مختلف واقعات کے بعد ضروری مدد فراہم کرتی ہے۔
جواب کا اختیار
کینیڈین فوجی سربراہ کا کہنا تھا کہ متاثرہ کیڈٹ اور انسٹرکٹر کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ اگر وہ اس معاملے پر کوئی ردعمل دینا چاہیں تو اپنی مرضی سے فیصلہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ فوج اس وقت بنیادی طور پر متاثرہ افراد کی معاونت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
متنازع پوسٹ
پیر کے روز امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے برٹش کولمبیا کے شہر ورنن میں قائم کیڈٹ ٹریننگ سینٹر کی ایک تصویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی تھی۔تصویر میں وردی پہنے دو نوجوان خواتین موجود تھیں جبکہ اس کے ساتھ کینیڈین پرچم اور "یہ حقیقی ہے” کے الفاظ درج تھے۔
شدید ردعمل
ہیگستھ کی پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا اور متعدد صارفین نے تصویر میں موجود افراد کے جسمانی خدوخال اور ظاہری شکل پر طنزیہ اور تضحیک آمیز تبصرے کیے۔
یہ بھی پڑھیں :کینیڈا امریکہ سرحد پر منشیات کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام ،پانچ کلو سے زیادہ کوکین بر آمد
دوسری جانب بڑی تعداد میں کینیڈین شہریوں نے امریکی وزیرِ جنگ کی پوسٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے نوجوان کیڈٹس کو غیر ضروری طور پر نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیا۔
معافی کا مطالبہ نہیں
جنرل کیرگنان نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر امریکی فوجی حکام سے خصوصی طور پر بات نہیں کی اور نہ ہی کسی قسم کی معافی کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی توجہ متاثرہ کینیڈین فوجی ارکان کی حمایت پر مرکوز ہے اور انہیں کینیڈین مسلح افواج کے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر فخر ہے۔
فوج پر اعتماد
کینیڈین فوجی سربراہ نے کہا کہ کینیڈین مسلح افواج کے پاس پیشہ ور اور قابل اہلکار موجود ہیں اور امریکی فوجی حکام بھی کینیڈین فوج کی خدمات اور عالمی سطح پر اس کے کردار سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ تنازع پر مزید گفتگو بعد میں کی جا سکتی ہے۔
کیڈٹس کی مذمت
آرمی کیڈٹ لیگ آف کینیڈا نے بھی نوجوان کیڈٹس کے خلاف ہونے والی آن لائن تضحیک اور ہراسانی کی شدید مذمت کی ہے۔
تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسے نوجوانوں کے خلاف توہین آمیز تبصرے ناقابل قبول ہیں جو اپنی صلاحیتوں میں بہتری اور اپنی کمیونٹیز کی خدمت کے لیے سرگرم ہیں۔
نوجوانوں کا پروگرام
لیگ نے کہا کہ وہ کیڈٹس، بالغ عملے، رضاکاروں اور افسران کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے جو کمیونٹیز کو مضبوط بنانے اور کینیڈا کی نئی نسل کے رہنماؤں کی تربیت کے لیے وقت صرف کرتے ہیں۔
کینیڈا کا قومی کیڈٹ پروگرام 12 سے 18 سال تک کی عمر کے نوجوانوں کے لیے ہے۔
حکومتی مؤقف
کینیڈین حکومت کے مطابق کیڈٹ پروگرام نوجوانوں کو مختلف مہارتیں اور مفید معلومات حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے، جس سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے اور انہیں عملی زندگی میں قدم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ کیڈٹ ٹریننگ پروگرام کے انسٹاگرام اکاؤنٹ کی تصویر امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ تک کیسے پہنچی۔
پینٹاگون کا ردعمل
اس معاملے پر پینٹاگون کے نائب پریس سیکریٹری جیکب بلس سے بھی سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایکس پر کی گئی پوسٹ خود اپنی وضاحت کرتی ہے۔
پینٹاگون کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ امریکی وزیرِ جنگ کو مذکورہ کیڈٹ پروگرام کی پوسٹ یا تصویر کے بارے میں کس طرح معلومات ملیں۔
کارنی کی تنقید
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے بھی پیٹ ہیگستھ کی پوسٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے امریکی عہدے کے شایانِ شان نہیں قرار دیا۔
مارک کارنی نے کہا کہ جب امریکی حکام طنزیہ پیغامات، میمز اور دوسروں پر طنز کرنے کے بجائے سنجیدہ مذاکرات پر توجہ دیں گے تو باہمی معاملات پر بہتر انداز میں بات چیت ممکن ہوگی۔
امریکی قیادت پر تنقید
برٹش کولمبیا کے وزیرِاعلیٰ ڈیوڈ ایبی نے بھی ہیگستھ کی پوسٹ اور پینٹاگون کی جانب سے اس کے دفاع کو شرمناک قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر مستحکم عالمی حالات میں امریکا اور کینیڈا سمیت اتحادی ممالک کے درمیان فوجی تعاون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
امریکی سینیٹر بھی برہم
امریکی ریاست ایریزونا کے ڈیموکریٹ سینیٹر اور سابق میرین روبن گیلیگو نے بھی ہیگستھ کی پوسٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے اسے احمقانہ اور کینیڈا کے ان مردوں اور خواتین کے لیے انتہائی توہین آمیز قرار دیا جنہوں نے امریکا کے ساتھ مل کر جنگوں میں اپنی جانیں قربان کیں۔
یہ تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور کینیڈا کے درمیان مختلف سیاسی، تجارتی اور دفاعی معاملات پر پہلے ہی تناؤ پایا جاتا ہے، جبکہ دونوں ممالک کی قیادت باہمی تعاون اور مذاکرات کی ضرورت پر بھی زور دے رہی ہے۔
