ارد ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا نے ایبولا سے متاثرہ ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیوں میں مزید 30 روز کی توسیع کردی ہے۔
اس فیصلے کے بعد جمہوری جمہوریہ کانگو یوگنڈا اور جنوبی سوڈان سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کی مستقل اور عارضی رہائش کی درخواستیں ایک مرتبہ پھر تعطل کا شکار ہوگئی ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ایبولا کا کینیڈا میں پھیلنے کا خطرہ کم ہے تاہم بیماری کی سنگینی کے پیش نظر احتیاطی اقدامات جاری رکھنا ضروری ہیں۔ دوسری جانب عالمی صحت کے ماہرین اور متاثرہ افراد نے ان پابندیوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے انہیں غیر ضروری اور امتیازی قرار دیا ہے۔
کینیڈا نے پابندیوں میں مزید ایک ماہ کی توسیع کردی
کینیڈین حکام کے مطابق ایبولا سے متاثرہ ممالک سے آنے والے افراد پر عائد سفری پابندیاں مزید 30 روز تک جاری رہیں گی۔ اس توسیع کے نتیجے میں جمہوری جمہوریہ کانگو یوگنڈا اور جنوبی سوڈان کے رہائشیوں کی کینیڈا سے متعلق متعدد امیگریشن اور ویزا درخواستوں پر فیصلہ 28 ستمبر تک مؤخر رہے گا۔
صرف وہ افراد ہی متاثر نہیں ہوں گے جو کینیڈا آنے کے لیے نئی درخواستیں دے رہے ہیں بلکہ ان ممالک کے ایسے شہری بھی کینیڈا میں داخل نہیں ہوسکیں گے جن کے پاس پہلے سے درست ویزے موجود ہیں۔
کینیڈین حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں ایبولا کا مجموعی خطرہ کم ہے لیکن بیماری کی سنگینی اور اس کے ممکنہ نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاطی اقدامات جاری رکھنا ضروری ہے۔
ہزاروں درخواستیں پہلے ہی تعطل کا شکار
ان پابندیوں کا سب سے نمایاں اثر ان افراد پر پڑ رہا ہے جو کینیڈا میں رہائش اختیار کرنے کے منتظر ہیں۔ حکام کے مطابق 12 اگست تک بیرون ملک سے جمع کرائی گئی مستقل رہائش کی 31 ہزار 693 درخواستیں روک دی گئی تھیں جبکہ عارضی رہائش کی 10 ہزار 465 درخواستیں بھی زیر التوا کردی گئی تھیں۔
اس کے علاوہ ایسے افراد کے دستاویزات بھی معطل کردیئے گئے جنہیں کینیڈا میں رہائش کی منظوری مل چکی تھی لیکن وہ ابھی ملک سے باہر تھے۔ حکام کے مطابق اس گروہ میں ایک ہزار 534 مستقل رہائشی اور 23 ہزار 415 عارضی رہائشی شامل ہیں۔
یوں سفری پابندی کا دائرہ صرف نئے درخواست گزاروں تک محدود نہیں رہا بلکہ ایسے افراد بھی اس کے اثرات سے دوچار ہیں جن کے کینیڈا میں داخلے سے متعلق معاملات پہلے ہی آگے بڑھ چکے تھے۔
یوگنڈا میں وبا ختم ہونے کا اعلان
کینیڈا کی جانب سے پابندیوں میں توسیع ایسے وقت ہوئی ہے جب افریقی ادارہ برائے بیماریوں پر قابو پانے اور عالمی ادارہ صحت نے یوگنڈا میں ایبولا کی وبا ختم ہونے کا اعلان کردیا ہے۔
جنوبی سوڈان میں بھی کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ تاہم جمہوری جمہوریہ کانگو میں صورتحال بدستور تشویشناک بتائی گئی ہے۔
فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق کانگو میں ایبولا سے 5 ہزار 794 افراد متاثر ہوئے جن میں سے 2 ہزار 786 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ رپورٹ میں اسے تیزی سے بڑھنے والی وبا قرار دیا گیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ اب تک کی مہلک ترین ایبولا وباؤں میں شامل ہوسکتی ہے۔
یہی صورتحال کینیڈین حکومت کے لیے سب سے اہم جواز بن رہی ہے کہ پابندیاں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے انہیں مزید ایک ماہ کے لیے برقرار رکھا جائے۔
ایبولا کے پھیلاؤ کا طریقہ اور کینیڈا میں خطرہ
ایبولا جسمانی رطوبتوں کے ذریعے پھیلتا ہے جن میں خون قے اور منی شامل ہیں۔ متاثرہ افراد عام طور پر علامات ظاہر ہونے کی صورت میں دوسروں کے لیے متعدی ہوتے ہیں۔
عوامی صحت کے ماہرین کے مطابق ان عوامل کی وجہ سے کسی متاثرہ شخص کے ذریعے بیماری کے کینیڈا پہنچنے کا خطرہ کم اور قابل انتظام ہوسکتا ہے۔ تاہم جمہوری جمہوریہ کانگو میں صحت کی بنیادی سہولتوں تک محدود رسائی صاف پانی کی مشکلات اور باغی گروہوں کی جانب سے لاحق خطرات نے بیماری پر قابو پانے کی کوششوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
وبا کی ایک اضافی پیچیدگی یہ بھی ہے کہ اس بار ایبولا کی ایک نایاب قسم سامنے آئی ہے جسے بنڈی بگیو وائرس کہا جاتا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس وائرس کے خلاف فی الحال مخصوص ویکسین یا علاج موجود نہیں۔
خاندانوں کی جدائی نے انسانی مسئلے کو نمایاں کردیا
سفری پابندیوں کا ایک بڑا انسانی پہلو ایسے خاندانوں کی مشکلات ہیں جو کینیڈا میں دوبارہ ملنے کے منتظر ہیں۔
کینیڈین شہری کیرولین نکول اپنے شوہر کے ساتھ مستقبل میں دونوں کے آبائی شہروں میں زندگی گزارنے کی امید رکھتی تھیں۔ ان کے شوہر یوگنڈا سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی شریک حیات کینیڈین ہیں۔ لیکن پابندیوں کے باعث دونوں کو طویل عرصے تک ایک دوسرے سے دور رہنا پڑا۔
نکول کے شوہر شریک حیات کی بنیاد پر رہائش کی درخواست کے فیصلے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کینیڈا آنے کے لیے سیاحتی ویزا بھی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ موسم گرما میں دو شادیوں میں شرکت کرسکیں۔ پابندیوں کے اعلان کے بعد نکول کو یوگنڈا سے واپس آنے اور تین ہفتوں کی قرنطینہ مدت شروع کرنے کے لیے فوری فیصلہ کرنا پڑا۔
ان کا بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر ایک کینیڈین شہری یوگنڈا سے کینیڈا واپس آکر قرنطینہ کرسکتا ہے تو اسی ملک سے تعلق رکھنے والے دوسرے شخص کو کینیڈا آنے سے مکمل طور پر کیوں روکا جا رہا ہے۔
ماہرین نے مختلف قوانین پر سوال اٹھادیے
عالمی صحت کے قانون کی محقق روزین حبیبی نے بھی پابندیوں کے اس پہلو پر سوال اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق یہ وضاحت طلب معاملہ ہے کہ کینیڈا میں داخل ہونے والے افراد کے لیے ان کے آخری ملک قیام کی بنیاد پر مختلف قواعد کیوں لاگو کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر کینیڈین شہری کے لیے قرنطینہ ایک قابل عمل حفاظتی طریقہ ہے تو امیگریشن کے ذریعے آنے والے افراد کے لیے بھی اسی نوعیت کے اقدامات پر غور کیا جاسکتا ہے۔
یہ بحث دراصل اس بنیادی سوال کے گرد گھومتی ہے کہ عوامی صحت کے تحفظ اور سرحدی پابندیوں کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔
عالمی ادارہ صحت بھی پابندیوں کے خلاف
کینیڈا کی پابندیوں کو عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا رہا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے اس سے قبل مؤقف اختیار کیا تھا کہ پروازیں معطل نہیں کی جانی چاہئیں اور مسافروں کو داخلے سے نہیں روکا جانا چاہیے۔
اس کے باوجود کینیڈا نے امریکا اور میکسیکو کے ساتھ مل کر شمالی امریکا کو ایبولا سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
میک گل یونیورسٹی کی ڈاکٹر جوان لیو نے بھی عمومی سفری پابندیوں کو زیادہ تر دکھاوے کی کارروائی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق بعض اقدامات عوام کو یہ احساس دلانے کے لیے کیے جاتے ہیں کہ حکومت کچھ کر رہی ہے لیکن ہر اقدام لازماً سائنسی اعتبار سے مکمل طور پر منطقی نہیں ہوتا۔
انسانی امدادی سرگرمیوں پر بھی اثرات
کینیڈا کی جانب سے ان ممالک سے واپس آنے والے افراد کے لیے 21 روزہ قرنطینہ برقرار رکھنے کا فیصلہ بھی امدادی اداروں کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔
ایسے ادارے جو وبا سے متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد اور صحت سے متعلق کام کرتے ہیں ان کے لیے اضافی قرنطینہ مدت کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ کارکنوں کو علاقے میں بھیجنا اور واپس لانا زیادہ پیچیدہ ہوجائے۔
ایک طرف عالمی برادری جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایبولا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف سفری پابندیاں ان علاقوں میں کام کرنے والے افراد کی نقل و حرکت کو متاثر کرسکتی ہیں۔
عالمی مقابلوں سے وابستہ افراد بھی متاثر
سفری پابندیوں کا اثر صرف خاندانوں اور تارکین وطن تک محدود نہیں رہا۔ یوگنڈا کی 26 سالہ ڈانس گروپ رہنما ناکاتے فلاویا پرسکیلا بھی کینیڈا میں ہونے والی تقریبات میں شرکت سے محروم رہیں۔
وہ ماضی میں کئی مرتبہ سیاحتی ویزوں پر کینیڈا جاچکی تھیں اور مشرقی افریقا کے پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کے لیے فنڈز جمع کرنے کی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہی ہیں۔
ان کا گروپ عالمی فٹبال کپ سے متعلق ایک تقریب اور دیگر چھوٹی تقریبات میں شریک ہونے والا تھا لیکن سفری پابندیوں کے باعث وہ یوگنڈا میں ہی رک گیا۔
پرسکیلا کو خدشہ ہے کہ ان سرگرمیوں سے فائدہ اٹھانے والے طلبہ بھی متاثر ہوں گے۔ ان کے مطابق پابندیوں میں مزید توسیع سے بہت سے لوگوں کے لیے مایوسی پیدا ہوگی۔
احتیاط اور امتیاز کے درمیان لکیر کہاں ہے؟
کینیڈا کی جانب سے پابندیوں میں توسیع کا معاملہ صرف صحت عامہ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ اس میں انسانی حقوق امیگریشن خاندانی اتحاد اور عالمی صحت پالیسی کے سوالات بھی شامل ہوگئے ہیں۔
حکومت کی دلیل یہ ہے کہ ایبولا ایک انتہائی سنگین بیماری ہے اور کسی متاثرہ شخص کی بروقت نشاندہی میں تاخیر کے نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں۔ اس لیے حکومت خطرے کو کم رکھنے کے لیے محتاط رہنا چاہتی ہے۔
دوسری طرف ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ایک ملک میں وبا ختم ہونے کا اعلان ہوچکا ہو اور دوسرے ملک میں کیسز موجود نہ ہوں تو تمام افراد پر یکساں پابندی جاری رکھنا سائنسی اور صحت عامہ کے اصولوں کے حوالے سے سوالات پیدا کرتا ہے۔
خاص طور پر ان افراد کے لیے یہ صورتحال زیادہ مشکل ہے جن کے ویزے یا رہائش کے معاملات پہلے ہی منظور ہوچکے ہیں لیکن صرف سفری پابندی کی وجہ سے وہ کینیڈا نہیں پہنچ سکتے۔
یوں کینیڈا کا موجودہ فیصلہ ایک ایسے توازن کا امتحان بن گیا ہے جس میں حکومت کو ایک طرف ایبولا جیسے خطرناک مرض سے تحفظ یقینی بنانا ہے اور دوسری طرف ان ہزاروں افراد کے انسانی اور خاندانی مسائل کو بھی دیکھنا ہے جو پابندیوں کے باعث غیر یقینی صورتحال میں پھنسے ہوئے ہیں۔
28 ستمبر تک پابندیوں میں توسیع نے فوری طور پر اس مسئلے کا حل مؤخر کردیا ہے۔ اب اصل سوال یہی ہے کہ اس مدت کے اختتام پر کینیڈا حکومت وبا کی صورتحال اور عالمی صحت کے اداروں کی سفارشات کو دیکھتے ہوئے پابندیاں ختم کرتی ہے یا ایک مرتبہ پھر توسیع کا راستہ اختیار کرتی ہے۔
