اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ میں امریکا کی فتح کے بعد عالمی تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئیں گی اور امریکا میں پٹرول کی قیمت تقریباً 3 ڈالر فی گیلن تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ مستقبل میں یہ 2 ڈالر فی گیلن سے بھی کم ہونے کا امکان ہے۔ تاہم تیل کی عالمی منڈی کے موجودہ حالات کو دیکھا جائے تو قیمتوں میں ایسی بڑی کمی کا انحصار صرف جنگ کے خاتمے پر نہیں بلکہ عالمی سپلائی، آبنائے ہرمز کی صورتحال، پیداوار اور مارکیٹ کے اعتماد سمیت کئی عوامل پر ہوگا۔
ٹرمپ کا دعویٰ
ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ جنگ ختم ہونے اور امریکا کی فتح کے بعد تیل کی قیمتیں ’’بہت تیزی سے‘‘ نیچے آئیں گی۔
ان کے مطابق امریکی صارفین کے لیے پٹرول کی قیمت تقریباً 3 ڈالر فی گیلن تک آسکتی ہے اور بالآخر یہ 2 ڈالر فی گیلن سے بھی کم ہوجائے گی۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ جاری جنگ اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی نے عالمی توانائی کی منڈی میں غیر یقینی صورتحال پیدا کردی ہے۔
قیمتیں کیوں بڑھیں؟
عالمی تیل کی قیمتیں بنیادی طور پر طلب اور رسد کے توازن سے متاثر ہوتی ہیں۔ جب مارکیٹ کو یہ خدشہ ہو کہ دنیا کے کسی اہم تیل پیدا کرنے والے خطے سے سپلائی متاثر ہوسکتی ہے تو خریدار مستقبل کی ممکنہ کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے زیادہ قیمت ادا کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔
ایران کے معاملے میں یہ خطرہ مزید اہم ہوجاتا ہے کیونکہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔
حالیہ کشیدگی کے دوران سپلائی میں ممکنہ رکاوٹ کے خدشات کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 98 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
جنگ ختم ہوئی تو کیا ہوگا؟
اگر جنگ واقعی ختم ہوجاتی ہے، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر آتی ہے اور تیل کی سپلائی بلا رکاوٹ جاری رہتی ہے تو عالمی منڈی میں خطرے کی اضافی قیمت کم ہوسکتی ہے۔
ایسی صورتحال میں سرمایہ کار اور تیل کے خریدار مستقبل کی سپلائی کے بارے میں زیادہ پُراعتماد ہوسکتے ہیں، جس سے خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ آسکتا ہے۔
یہ وہ بنیادی نکتہ ہے جس کی بنیاد پر ٹرمپ تیل اور پٹرول سستا ہونے کی پیشگوئی کر رہے ہیں۔
مگر صرف جنگ کافی نہیں
تاہم تیل کی قیمت میں نمایاں کمی کے لیے صرف جنگ کا خاتمہ کافی نہیں ہوگا۔
اگر جنگ ختم ہونے کے باوجود ایران کی تیل کی برآمدات محدود رہتی ہیں، تنصیبات کو نقصان پہنچا ہوتا ہے یا آبنائے ہرمز میں مکمل معمول کی صورتحال بحال نہیں ہوتی تو سپلائی کا خطرہ برقرار رہ سکتا ہے۔
اسی طرح عالمی طلب میں اضافہ یا تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کی جانب سے پیداوار میں کمی بھی قیمتوں کو دوبارہ اوپر لے جاسکتی ہے۔
پٹرول کی قیمت الگ معاملہ
ٹرمپ کا 2 ڈالر فی گیلن سے کم پٹرول کا دعویٰ بھی براہ راست خام تیل کی قیمت سے منسلک نہیں کیا جاسکتا۔
امریکا میں پٹرول کی حتمی قیمت میں خام تیل کی لاگت کے علاوہ ریفائننگ، نقل و حمل، ٹیکس، ذخیرہ اور مقامی مارکیٹ کے حالات بھی شامل ہوتے ہیں۔
اس لیے اگر خام تیل کی قیمت میں نمایاں کمی بھی آ جائے تو ضروری نہیں کہ پٹرول کی قیمت اسی تناسب سے فوری طور پر کم ہوجائے۔
مارکیٹ کا اعتماد اہم
تیل کی منڈی میں توقعات بھی قیمتوں پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔اگر سرمایہ کاروں کو یقین ہوجائے کہ ایران جنگ کے بعد عالمی تیل کی سپلائی مستحکم رہے گی اور آبنائے ہرمز محفوظ طریقے سے کھلی رہے گی تو موجودہ ’’خطرے کی قیمت‘‘ تیزی سے ختم ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ کا ایران پر مزید حملوں کا عندیہ، آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ
اس کے برعکس جنگ کے خاتمے کے باوجود اگر خطے میں کسی نئی کشیدگی کا خدشہ برقرار رہا تو تیل کی قیمتیں توقع کے مطابق نیچے آنے کے بجائے بلند سطح پر بھی رہ سکتی ہیں۔
ایران کا عنصر
ایران دنیا کے اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے اس کی پیداوار اور برآمدات عالمی مارکیٹ کے لیے اہم ہیں۔
اگر جنگ کے بعد ایران کی تیل کی پیداوار اور برآمدات معمول پر آتی ہیں تو عالمی سپلائی میں اضافہ قیمتوں کو نیچے لانے میں مدد دے سکتا ہے۔
لیکن اگر پابندیاں، انفراسٹرکچر کو پہنچنے والا نقصان یا سیاسی اختلافات ایران کی برآمدات کی بحالی میں رکاوٹ بنے تو ٹرمپ کی پیشگوئی کے مطابق تیز رفتار کمی مشکل ہوسکتی ہے۔
سیاسی دعویٰ یا معاشی امکان؟
ٹرمپ کی جانب سے پٹرول کی قیمت 2 ڈالر فی گیلن سے نیچے آنے کی بات کو فی الحال ایک سیاسی و معاشی پیشگوئی کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے، نہ کہ یقینی نتیجے کے طور پر۔
جنگ کے خاتمے کے بعد تیل کی قیمت میں کمی کا امکان معاشی طور پر موجود ہے، لیکن قیمت کس سطح تک جائے گی، یہ کئی عالمی عوامل طے کریں گے۔
اصل امتحان جنگ کے بعد
اس صورتحال میں اصل امتحان جنگ کے خاتمے کے بعد شروع ہوگا۔ اگر آبنائے ہرمز محفوظ اور کھلی رہتی ہے، ایران کی تیل برآمدات بحال ہوتی ہیں، عالمی سپلائی میں اضافہ ہوتا ہے اور خطے میں نئی کشیدگی پیدا نہیں ہوتی تو تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ممکن ہے۔
لیکن اگر ان میں سے اہم عوامل ناکام رہے تو صرف جنگ کے خاتمے سے تیل اور پٹرول کی قیمتیں ٹرمپ کے بتائے گئے ہدف تک پہنچنا مشکل ہوگا۔
یوں ٹرمپ کا دعویٰ مکمل طور پر ناممکن نہیں، لیکن اسے ایک یقینی معاشی نتیجہ سمجھنا بھی درست نہیں۔ عالمی تیل مارکیٹ میں آنے والی حقیقی تبدیلی کا فیصلہ جنگ کے خاتمے سے زیادہ اس کے بعد بحال ہونے والی سپلائی اور خطے کے استحکام سے ہوگا۔
