ایران نے جوہری پروگرام سے متعلق آئی اے ای اے کی قرارداد مسترد کردی

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی قرارداد مسترد کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دے دیا ہے۔

ایرانی مؤقف کے مطابق تہران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے پیش کیے جانے والے اقدامات اور مطالبات کو تسلیم نہیں کرتا۔
عرب میڈیا کے مطابق ایرانی سفیر غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کو خط لکھ کر ایران کا مؤقف پیش کیا ہے۔ خط میں ایرانی حکومت کی جانب سے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی سطح پر سامنے آنے والی قرارداد کے بارے میں اپنی پوزیشن واضح کی گئی ہے۔

ایران نے عالمی دباؤ مسترد کردیا

ایرانی مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام اور متعلقہ معاملات پر پیش رفت کے بعد یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک پہنچا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :

ایران کے جوہری پروگرام پر کشیدگی، امریکی صدر ٹرمپ کا سخت موقف سامنے آ گیا

تازہ پیش رفت کے بعد ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد کو قبول نہیں کرتا۔ ایرانی سفیر کی جانب سے سلامتی کونسل کے صدر کو لکھا جانے والا خط اسی مؤقف کی باضابطہ پیشکش قرار دیا جا رہا ہے۔

سلامتی کونسل کے صدر کو ایرانی سفیر کا خط

ایرانی سفیر غلام حسین درزی نے اپنے خط کے ذریعے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کو ایران کا مؤقف پہنچایا ہے۔ خط میں جوہری پروگرام سے متعلق ایران کی پوزیشن بیان کی گئی ہے۔

ایرانی سفیر کی جانب سے خط لکھنے کی پیش رفت اس معاملے میں تہران کی سفارتی سرگرمیوں کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ ایران نے اپنے مؤقف کو براہ راست سلامتی کونسل کے سامنے رکھنے کا راستہ اختیار کیا ہے تاکہ جوہری پروگرام سے متعلق عالمی سطح پر جاری بحث میں اپنی پوزیشن واضح کی جا سکے۔

جوہری معاملہ عالمی سطح پر اہمیت اختیار کرگیا

ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ گزشتہ کئی برس سے عالمی سفارتی سرگرمیوں کا اہم موضوع رہا ہے۔ عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے اقدامات اور ایران کے جوابی مؤقف کے باعث اس معاملے میں اختلافات مسلسل برقرار ہیں۔

تازہ صورتحال میں بھی ایران اور عالمی اداروں کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات نمایاں ہوگئے ہیں۔ ایران کی جانب سے قرارداد مسترد کیے جانے کے بعد معاملہ مزید سفارتی توجہ حاصل کرسکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی جانب سے ایران کے معاملے کو سلامتی کونسل تک پہنچانے کا اقدام اہم پیش رفت ہے۔ اس سے قبل بھی ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی سطح پر مختلف مذاکرات اور سفارتی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔

ایران کا مؤقف برقرار

ایرانی حکومت نے اپنے جوہری پروگرام کے معاملے پر اپنے مؤقف کو برقرار رکھا ہے۔ ایرانی سفیر کا سلامتی کونسل کے صدر کو خط لکھنا اسی سلسلے کی ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے۔

ایران کی جانب سے قرارداد مسترد کیے جانے کے بعد اب عالمی اداروں اور سلامتی کونسل کی جانب سے آئندہ اقدامات پر توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔ اس معاملے پر ہونے والی مزید سفارتی سرگرمیاں ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی بحث کو مزید آگے بڑھا سکتی ہیں۔

ایران اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات پہلے بھی مختلف مواقع پر سامنے آتے رہے ہیں۔ تازہ صورتحال میں بھی تہران نے واضح کردیا ہے کہ وہ اپنے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

مزید پڑھیں :

ایران نے جوہری پروگرام دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی تو سخت کارروائی کرینگے ،ٹرمپ

ایرانی سفیر غلام حسین درزی کی جانب سے سلامتی کونسل کے صدر کو خط بھیجے جانے کے بعد اب ایران کا مؤقف اقوام متحدہ کے اہم ترین سفارتی فورم تک پہنچ گیا ہے۔ اس خط کے ذریعے ایران نے اپنی پوزیشن واضح کی ہے اور جوہری پروگرام سے متعلق قرارداد کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے معاملے پر ایران کا یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی سطح پر تشویش اور سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ آئندہ دنوں میں اس معاملے پر سلامتی کونسل اور دیگر عالمی اداروں کی جانب سے ہونے والی پیش رفت اہمیت اختیار کرسکتی ہے۔

ہمیں فالو کریں

[uw_related_posts]