ایران کا امریکی حملوں پر جوابی وار، اردن میں امریکی اڈے پر میزائلوں کی بارش

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک اضافہ ہوگیا ہے۔ روسی اور ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب سے ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں امریکی فوجی اہداف پر بیلسٹک میزائل داغ دیے۔ تازہ حملوں نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کو مزید سنگین بنا دیا ہے اور خطے میں وسیع جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

اردن میں امریکی اڈہ نشانے پر

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے اردن میں موجود امریکی فوجی اڈے ’’الازرق‘‘ کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوجی تنصیبات پر درجنوں میزائل داغے گئے اور حملوں کے دوران متعدد دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دیں۔

تاہم اردن کی فوج نے کہا ہے کہ اس کی فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے 20 بیلسٹک میزائلوں میں سے 18 کو فضا میں ہی تباہ کردیا، جبکہ دو میزائل غیر آباد علاقوں میں گرے۔ اردنی حکام کے مطابق حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ایرانی میڈیا کا جوابی کارروائی کا دعویٰ

ایرانی میڈیا نے ان میزائل حملوں کو امریکی کارروائی کا براہ راست جواب قرار دیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق امریکی فورسز کی جانب سے ایرانی تجارتی اور تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد امریکی فوجی اڈے کو ’’شدید میزائل حملے‘‘ کا نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ خطے میں موجود بعض امریکی بحری جنگی جہازوں کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا اور انہیں نقصان پہنچا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی، جبکہ امریکی حکام نے ان دعوؤں پر تفصیلی تبصرہ نہیں کیا۔

امریکا نے 5 آئل ٹینکر تباہ کیے

اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی فورسز نے ایران کے پانچ خام تیل بردار بحری جہازوں کو تباہ کردیا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائی ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے گزشتہ دو روز کے دوران ایک امریکی جنگی جہاز کو دو مرتبہ بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کے بعد کی گئی۔

سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی جنگی جہاز ایرانی حملوں سے محفوظ رہے اور کسی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔ اس کے بعد امریکی فورسز نے خلیج عمان اور جزیرہ خارک کے قریب ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا۔

عملے کو جہاز چھوڑنے کی ہدایت

امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ کارروائی سے پہلے متعلقہ آئل ٹینکرز کے عملے کو جہاز خالی کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اس کے بعد ان جہازوں کو نشانہ بنا کر ناکارہ کردیا گیا۔

امریکی حکام کے مطابق تباہ کیے گئے جہازوں میں ’’Kivik‘‘، ’’Charminar‘‘، ’’Horizon 1‘‘، ’’Riesco‘‘ اور ’’Derya‘‘ شامل ہیں۔ ان میں سے چار خلیج عمان جبکہ ایک جزیرہ خارک کے قریب موجود تھا۔

ایران کی سخت دھمکی

ایرانی قیادت پہلے ہی خبردار کرچکی تھی کہ اگر امریکا نے ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا تو خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو جواباً حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔

ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف علی عبداللہی نے سرکاری ٹی وی پر کہا تھا کہ ایرانی آئل ٹینکرز پر حملے کی صورت میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے ایرانی فوج کے نشانے پر ہوں گے۔ تازہ میزائل حملوں کو اسی دھمکی پر عمل درآمد کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

کویت اور بحرین کو بھی دھمکی

ایرانی پاسداران انقلاب نے کویت اور بحرین کی بندرگاہوں پر موجود آئل ٹینکرز کے عملے کو بھی فوری انخلا کی وارننگ دی ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ امریکی اہلکاروں سے منسلک یا ان کی موجودگی والی بندرگاہوں پر موجود تیل بردار جہاز بھی آئندہ حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے عملے کو خبردار کیا کہ وہ بندرگاہوں یا لنگر انداز جہازوں سے فوری طور پر نکل جائیں کیونکہ ان جہازوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے  ۔

آبنائے ہرمز پر دباؤ

تازہ صورتحال نے آبنائے ہرمز میں بھی خطرات بڑھا دیے ہیں، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :چین کا امریکہ ایران معاہدے پر دستخط خیر مقدم ، مثبت پیشرف قرار دیدیا

رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی، کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر لڑائی مزید پھیلی تو خلیج سے عالمی منڈی تک تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوسکتی ہے۔

وسیع جنگ کا خطرہ

ایران اور امریکا کے درمیان تازہ جوابی کارروائیوں نے پہلے سے جاری جنگ کو مزید خطرناک مرحلے میں داخل کردیا ہے۔ ایک طرف امریکا ایرانی تیل کی برآمدات اور سمندری راستوں پر دباؤ بڑھا رہا ہے تو دوسری جانب ایران امریکی فوجی اڈوں اور بحری اثاثوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر حملوں کا یہ سلسلہ جاری رہا اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات یا تیل کی تنصیبات بھی براہ راست جنگ کی زد میں آگئیں تو تنازع صرف امریکا اور ایران تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی توانائی منڈی کے لیے سنگین بحران پیدا ہوسکتا ہے۔

ہمیں فالو کریں

[uw_related_posts]