اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) آن لائن خرید و فروخت کے معروف پلیٹ فارم ایٹسی پر عام بول چال کے لفظ ’برُہ‘ والے ٹی شرٹس کے ڈیزائن ہٹائے جانے کے معاملے نے ٹریڈ مارک کے حقوق اور مبینہ طور پر ٹریڈ مارک پر ناجائز قبضے کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
امریکا میں ملبوسات کا کاروبار کرنے والے سیم جوزف کرم کا کہنا ہے کہ ایٹسی نے ان کے ’برُہ‘ لفظ والے 11 ٹی شرٹ ڈیزائن مبینہ ٹریڈ مارک خلاف ورزی کی شکایت کے بعد پلیٹ فارم سے ہٹا دیے۔ ان کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں ڈیزائن ایک ساتھ ہٹائے جانے پر انہیں فوری طور پر شبہ ہوا کہ معاملہ معمول کی شکایت سے مختلف ہے۔
کرم کا کہنا ہے کہ ان کے ڈیزائن ہٹائے جانے کے ساتھ ایٹسی نے ان کا ’اسٹار سیلر‘ اعزاز بھی واپس لے لیا۔ یہ اعزاز ان فروخت کنندگان کو دیا جاتا ہے جنہیں پلیٹ فارم کی جانب سے بہترین درجے کی صارف خدمات فراہم کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔ کرم کے مطابق اس کارروائی کے بعد ان کی فروخت میں بھی فوری کمی دیکھنے میں آئی۔
’برُہ‘ کے ٹریڈ مارک پر شکایت
کرم کو ایٹسی کی جانب سے بھیجی گئی اطلاع میں بتایا گیا کہ ان کے ڈیزائنوں کے خلاف شکایت ملک یار عباس نامی شخص نے درج کرائی ہے جو کینیڈا میں ’برُہ‘ کے لفظ کا ٹریڈ مارک رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے۔
کرم واحد فروخت کنندہ نہیں جن کی مصنوعات اس معاملے میں متاثر ہوئی ہیں۔ متعدد ایٹسی فروخت کنندگان نے بتایا کہ ان کی جانب سے ’برُہ‘ لفظ استعمال کرنے والی اشیا کو بھی پلیٹ فارم سے ہٹایا گیا۔ دستیاب معلومات کے مطابق ایٹسی کی جانب سے بھیجے گئے مختلف پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے بعض کارروائیاں عباس کی شکایات کے بعد کی گئیں۔
کرم کا الزام ہے کہ ٹریڈ مارک رکھنے والے شخص نے عام طور پر استعمال ہونے والے لفظ پر حقوق حاصل کرکے اسے دوسروں کو استعمال کرنے کی اجازت دینے کے عوض رقم حاصل کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورت حال ٹریڈ مارک پر قبضہ جمانے کے مترادف ہے۔
کینیڈا میں ’برُہ‘ کا ٹریڈ مارک کب حاصل کیا گیا؟
کینیڈا کے سرکاری ٹریڈ مارک ریکارڈ کے مطابق ’برُہ‘ کے لفظ سے متعلق ایک ٹریڈ مارک جولائی 2025 میں جاری کیا گیا تھا۔ یہ ٹریڈ مارک مختلف اقسام کے ملبوسات کی فروخت سے متعلق تھا۔
اسی لفظ کے لیے عباس کو حال ہی میں ایک اور ٹریڈ مارک بھی دیا گیا ہے جو ریستوران کی خدمات کی تشہیر کے استعمال سے متعلق ہے۔
کینیڈین دانشورانہ املاک کے دفتر نے اس معاملے سے متعلق مخصوص سوالات کا جواب دینے کے بجائے بتایا کہ دفتر میں آنے والی ہر ٹریڈ مارک درخواست کا الگ الگ جائزہ لیا جاتا ہے۔
اس وضاحت کے بعد بھی یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ عام بول چال میں استعمال ہونے والے کسی لفظ پر ٹریڈ مارک حاصل کرنے کے بعد اس کے استعمال کو دوسروں کے لیے محدود کرنے کی قانونی حدود کیا ہیں۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں اس معاملے پر متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی حتمی قانونی فیصلہ سامنے آنے کا ذکر نہیں ہے۔
ٹریڈ مارک مالک کی ویب سائٹ نے شکایت کنندہ کو حیران کردیا
ٹی شرٹس کے ڈیزائن ہٹائے جانے کے بعد سیم کرم نے ٹریڈ مارک رکھنے والے عباس کی ویب سائٹ تلاش کی تو وہاں موجود معلومات دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔
کرم کے مطابق ویب سائٹ پر ’برُہ‘ ٹریڈ مارک کے تحفظ اور اسے دوسروں کے استعمال کے لیے اجازت حاصل کرنے کے حوالے سے معلومات موجود تھیں۔ ویب سائٹ پر ممکنہ لائسنس لینے والوں کے لیے بھی پیغامات درج تھے۔
ویب سائٹ پر ملبوسات اور دیگر مصنوعات کی ایسی تصویری مثالیں موجود تھیں جن پر ’برُہ‘ کا لفظ استعمال کیا گیا تھا تاہم وہاں باقاعدہ طور پر ملبوسات فروخت نہیں کیے جارہے تھے۔
ٹریڈ مارک مالک عباس نے اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ویب سائٹ پر موجود تصاویر کا مقصد برانڈ کے ممکنہ تجارتی استعمال کی مثالیں دکھانا ہے۔ ان کے مطابق ان تصاویر کے ذریعے یہ بتایا جارہا ہے کہ ٹریڈ مارک کو مختلف تجارتی شعبوں میں کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔
شکایت واپس لینے کے بدلے ایک ہزار ڈالر کا مطالبہ
تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب سیم کرم نے ایٹسی پر اپنے ڈیزائن ہٹائے جانے کے معاملے پر عباس سے براہ راست رابطہ کیا۔ کرم کے مطابق انہوں نے عباس سے شکایت واپس لینے کی درخواست کی۔
کرم کا کہنا ہے کہ عباس نے شکایت واپس لینے کے لیے بعض شرائط عائد کیں اور ایک ہزار ڈالر کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔
کرم نے یہ رقم ادا کرنے سے انکار کردیا۔ ان کے مطابق ان سے صرف شکایت واپس لینے کے عوض رقم طلب کرنا اس بات کی علامت ہے کہ معاملے میں ٹریڈ مارک کے قانونی تحفظ کے بجائے مالی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں جب کوئی شخص شکایت واپس لینے کے لیے ایک ہزار ڈالر کا مطالبہ کرے تو اس سے معاملے کی نوعیت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
ٹریڈ مارک مالک نے ’قبضے‘ کا الزام مسترد کردیا
دوسری جانب ملک یار عباس نے سیم کرم کے اس الزام کو مسترد کردیا کہ وہ ٹریڈ مارک پر ناجائز قبضہ کیے بیٹھے ہیں۔
عباس نے بتایا کہ ’برُہ‘ ایک قانونی طور پر رجسٹرڈ کینیڈین ٹریڈ مارک ہے اور اسے تجارتی لائسنس کے ذریعے ایک برانڈ کے طور پر فروغ دیا جارہا ہے۔
ایک ہزار ڈالر کے مطالبے سے متعلق بھی انہوں نے مختلف مؤقف پیش کیا۔ عباس کے مطابق یہ رقم کسی حتمی ادائیگی یا طے شدہ معاہدے کا حصہ نہیں تھی بلکہ متنازع ٹریڈ مارک معاملے کے حل کے لیے مذاکرات کے دوران پیش کی گئی ایک ممکنہ تصفیاتی تجویز تھی۔ ان کے مطابق رقم ادا نہیں کی گئی اور کوئی مالی تصفیہ بھی مکمل نہیں ہوا۔
یوں دونوں فریق اس معاملے کو بالکل مختلف انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ ایک جانب کرم اسے عام لفظ کے استعمال پر پابندی عائد کرکے مالی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں جبکہ دوسری جانب عباس کا مؤقف ہے کہ ان کے پاس قانونی طور پر رجسٹرڈ ٹریڈ مارک موجود ہے جسے وہ تجارتی برانڈ کے طور پر فروغ دے رہے ہیں۔
شکایت واپس لے لی گئی لیکن نقصان کا دعویٰ برقرار
عباس نے بعد میں ایٹسی پر درج شکایت واپس لے لی۔ ان کے مطابق ایسا اس وقت کیا گیا جب ایٹسی نے 11 ڈیزائن ہٹا دیے اور یہ مصنوعات کینیڈین صارفین کو پیش نہیں کی جارہی تھیں۔
تاہم سیم کرم کا کہنا ہے کہ شکایت واپس لیے جانے کے باوجود نقصان ہوچکا ہے۔
ان کے مطابق ایٹسی کی کارروائی کے نتیجے میں ان کے متعدد ڈیزائن پلیٹ فارم سے ہٹائے گئے اور ان کا اسٹار سیلر اعزاز بھی واپس لیا گیا۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کے بعد ان کی فروخت میں نمایاں کمی آئی۔
کرم اب دانشورانہ املاک کے ایک وکیل سے رابطے میں ہیں اور اس بات پر غور کررہے ہیں کہ آیا ٹریڈ مارک کو کالعدم قرار دینے کے لیے قانونی کارروائی کی جائے۔ ان کا ممکنہ مؤقف یہ ہوگا کہ ٹریڈ مارک حاصل کرتے وقت مبینہ طور پر بدنیتی کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔
چھوٹے کاروبار اور فنکار بھی متاثر ہوسکتے ہیں
یہ معاملہ صرف ’برُہ‘ لفظ تک محدود نہیں بلکہ اس نے آن لائن کاروبار کرنے والے چھوٹے فروخت کنندگان اور فنکاروں کے لیے ٹریڈ مارک کے استعمال سے متعلق ایک اہم بحث کو بھی نمایاں کیا ہے۔
آن لائن پلیٹ فارمز پر بہت سے چھوٹے کاروبار ایسے الفاظ اور جملوں کو اپنی مصنوعات کے ڈیزائن کا حصہ بناتے ہیں جو عام بول چال یا انٹرنیٹ کی زبان میں پہلے ہی مقبول ہوتے ہیں۔ اگر ایسے الفاظ کے ٹریڈ مارک حقوق حاصل کرکے ان کے تجارتی استعمال کے خلاف شکایات کی جائیں تو اس کے نتیجے میں چھوٹے کاروباروں کو اپنی مصنوعات ہٹائے جانے اور فروخت متاثر ہونے جیسے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب ٹریڈ مارک رکھنے والوں کا مؤقف یہ ہوسکتا ہے کہ قانونی طور پر رجسٹرڈ نشان کی حفاظت ان کا حق ہے اور اس کے تجارتی استعمال کو منظم کرنا اسی قانونی حق کا حصہ ہے۔
’برُہ‘ ٹی شرٹس کا موجودہ تنازع اب اسی بنیادی سوال کے گرد گھوم رہا ہے کہ ایک عام طور پر استعمال ہونے والے لفظ پر قانونی ٹریڈ مارک حقوق کی حد کہاں تک ہے اور ان حقوق کو دوسروں کے کاروبار کے خلاف کس حد تک استعمال کیا جاسکتا ہے۔
فی الحال سیم کرم قانونی مشورے کے بعد ممکنہ کارروائی پر غور کررہے ہیں جبکہ عباس اپنے ٹریڈ مارک کو قانونی طور پر رجسٹرڈ اور تجارتی لائسنس کے لیے قابل استعمال برانڈ قرار دے رہے ہیں۔ یوں یہ معاملہ آئندہ قانونی کارروائی کی صورت میں ٹریڈ مارک کے استعمال اور مبینہ بدنیتی کے دعوے کے حوالے سے مزید اہمیت اختیار کرسکتا ہے۔
