اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)یمن کے حوثی گروپ کی باب المندب آبنائے کے قریب بڑھتی ہوئی موجودگی نے بحیرہ احمر کی پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ حوثیوں کی بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی اور اہم سمندری گزرگاہ کے اطراف اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی اطلاعات کے بعد اسرائیل نے اپنی بحری افواج کی تیاری اور نگرانی بڑھا دی ہے۔
یہ پیش رفت محض ایک مقامی فوجی تبدیلی نہیں بلکہ اس کے اثرات خطے کی بحری سلامتی، عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل تک پھیل سکتے ہیں۔ باب المندب ایسا مقام ہے جہاں معمولی کشیدگی بھی بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے بڑے خطرے میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
اسرائیل کی تشویش
ترکیہ کی خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی ادارے بحیرہ احمر کے ساحل پر حوثیوں کی پیش قدمی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے باب المندب کے قریب بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں اپنی بحری تیاری بڑھا دی ہے۔
اس کا بنیادی سبب یہ خدشہ قرار دیا جا رہا ہے کہ حوثیوں کی موجودگی میں اضافہ انہیں سمندری راستوں پر زیادہ اثرانداز ہونے کی صلاحیت فراہم کرسکتا ہے۔
میون جزیرے کی اہمیت
اس صورتحال میں پیریم جزیرہ، جسے میون آئی لینڈ بھی کہا جاتا ہے، خاص اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ یہ جزیرہ باب المندب کے داخلی راستے کے قریب واقع ہے اور جغرافیائی اعتبار سے بحیرہ احمر کی نگرانی کے لیے انتہائی اہم مقام سمجھا جاتا ہے۔
اسرائیلی اندازوں کے مطابق یمنی حکومت کی فورسز کا جزیرے سے پیچھے ہٹنا حوثیوں کے لیے اس علاقے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کا موقع پیدا کرسکتا ہے۔ اگر کسی فریق کی اس مقام پر گرفت مضبوط ہوجائے تو وہ باب المندب سے گزرنے والی بحری سرگرمیوں پر نظر رکھنے اور دباؤ ڈالنے کی بہتر پوزیشن میں آسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :حوثیوں کا باب المندب پر قبضے کا دعویٰ، اہم فوجی مرکز اور جزیرے بھی کنٹرول میں لینے کا اعلان
باب المندب کیوں اہم ہے؟
باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملانے والی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ یورپ، مشرق وسطیٰ، ایشیا اور دیگر خطوں کے درمیان ہونے والی بڑی مقدار میں بحری تجارت اس وسیع سمندری راستے سے وابستہ ہے۔
اسی لیے یہاں سکیورٹی کی صورتحال خراب ہونے کا مطلب صرف یمن یا اسرائیل کے لیے خطرہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر تجارتی سرگرمیوں کے لیے بھی تشویش کا باعث ہوسکتا ہے۔
تجارت پر ممکنہ اثرات
اگر بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو مسلسل خطرات کا سامنا ہو تو عالمی کمپنیوں کو متبادل سمندری راستے اختیار کرنا پڑ سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں سفر کا دورانیہ اور اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جبکہ سامان کی ترسیل بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
توانائی کی ترسیل بھی اس صورتحال سے براہ راست متاثر ہونے والے شعبوں میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باب المندب کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی کو عالمی معیشت کے لیے بھی خطرے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
حوثیوں کی بڑھتی صلاحیت
حوثیوں نے ماضی میں بھی بحیرہ احمر کے حوالے سے اپنی عسکری صلاحیت اور سمندری اہداف کو نشانہ بنانے کی استعداد کا اظہار کیا ہے۔ ساحلی علاقوں اور اہم جغرافیائی مقامات کے قریب ان کی موجودگی میں اضافہ اس صلاحیت کو مزید اہم بنا سکتا ہے۔
اسرائیل کے لیے معاملہ اس لیے بھی حساس ہے کہ بحیرہ احمر اس کے بحری مفادات اور علاقائی سلامتی سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ چنانچہ اسرائیلی بحری افواج کی نگرانی اور تیاری میں اضافہ ایک پیشگی حفاظتی اقدام کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
خطے میں نیا دباؤ
موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ یمن کے اندر طاقت کا توازن صرف ملکی سیاست تک محدود نہیں رہا۔ ساحلی علاقوں اور باب المندب کے قریب عسکری موجودگی اب پورے خطے کی بحری سلامتی کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اگر حوثیوں کی پیش قدمی جاری رہتی ہے اور میون جزیرے جیسے اہم مقامات پر ان کا اثر بڑھتا ہے تو اسرائیل سمیت دیگر علاقائی اور عالمی طاقتوں کی بحری سرگرمیاں بھی بڑھ سکتی ہیں۔
اصل خطرہ کیا ہے؟
اصل خطرہ کسی ایک فریق کی پیش قدمی سے زیادہ اس بات میں ہے کہ باب المندب جیسے حساس مقام پر طاقت کا توازن مزید عسکری مقابلے میں تبدیل نہ ہوجائے۔ اسرائیل کی بڑھتی ہوئی بحری تیاری اس بات کا اشارہ ہے کہ اسے حوثیوں کی موجودگی میں آنے والی تبدیلی محض یمنی داخلی معاملہ نہیں لگ رہی۔
اگر کشیدگی بڑھی تو اس کے اثرات بحیرہ احمر سے نکل کر عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور خطے کی مجموعی سلامتی تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ باب المندب کے قریب ہونے والی ہر بڑی عسکری پیش رفت پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
