بار بار بھوک اور پیاس لگنا کس بیماری کی نشانی ہو سکتا ہے؟

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ذیابیطس ایک ایسی بیماری ہے جس میں خون میں گلوکوز یعنی شوگر کی مقدار معمول سے بڑھ جاتی ہے۔

عام طور پر اس بیماری کو زیادہ میٹھا کھانے سے جوڑا جاتا ہے لیکن ذیابیطس کے پس پردہ دیگر عوامل بھی ہوسکتے ہیں۔ خاص طور پر ٹائپ 2 ذیابیطس عام پائی جاتی ہے اور اس کی ابتدائی علامات بعض اوقات اتنی معمولی محسوس ہوتی ہیں کہ لوگ انہیں نظر انداز کردیتے ہیں۔

ذیابیطس کی ابتدائی علامات کو بروقت پہچاننا اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کہ جسم میں ہونے والی تبدیلیوں پر توجہ دی جاسکے۔ غیر معمولی بھوک لگنا، مسلسل تھکاوٹ محسوس ہونا، بار بار پیشاب آنا، زیادہ پیاس لگنا اور بغیر کسی واضح وجہ کے وزن کم ہونا ایسی علامات میں شامل ہوسکتے ہیں جن پر توجہ دینا ضروری ہے۔

جسم میں شوگر اور انسولین کا تعلق

جسم خوراک سے حاصل ہونے والے گلوکوز کو توانائی کے لیے استعمال کرتا ہے۔ انسولین ایک ہارمون ہے جو لبلبہ بناتا ہے اور گلوکوز کو جسم کے خلیات تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے۔

جب جسم مناسب مقدار میں انسولین نہ بنا سکے یا جسم کے خلیات انسولین کے خلاف مزاحمت کرنے لگیں تو خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھنے لگتی ہے۔ یہی صورتحال ذیابیطس سے متعلق مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :

ذیابیطس کے مریضوں کو پائوں کٹوانے سے کیسے بچایا جا سکتا ہے ؟

ذیابیطس کی ابتدائی علامات ہر فرد میں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ بعض افراد میں علامات واضح ہوسکتی ہیں جبکہ کچھ لوگوں میں یہ تبدیلیاں معمولی نوعیت کی محسوس ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غیر معمولی جسمانی تبدیلیوں کو مسلسل نظر انداز کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔

غیر معمولی بھوک اور مسلسل تھکاوٹ

ذیابیطس کی ابتدائی علامات میں غیر معمولی بھوک شامل ہوسکتی ہے۔ اگر جسم گلوکوز کو مؤثر انداز میں توانائی میں تبدیل نہ کرپائے تو انسان کو بار بار بھوک لگنے کا احساس ہوسکتا ہے۔

اس کے ساتھ مسلسل تھکاوٹ اور کمزوری بھی محسوس ہوسکتی ہے۔ عام مصروفیات کے دوران تھکن ہونا ایک معمول کی بات ہوسکتی ہے لیکن اگر مسلسل تھکاوٹ کی کوئی واضح وجہ نہ ہو اور یہ کیفیت برقرار رہے تو اسے نظر انداز کرنے کے بجائے طبی مشورہ لینا بہتر ہے۔

جسم کو توانائی کے لیے گلوکوز کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب گلوکوز جسم کے خلیات تک مؤثر انداز میں استعمال نہ ہو تو توانائی کی کمی کا احساس ہوسکتا ہے۔ یہی کیفیت بعض افراد میں تھکن اور کمزوری کا باعث بن سکتی ہے۔

بار بار پیشاب آنا اور پیاس بڑھ جانا

بار بار پیشاب آنا بھی ذیابیطس سے متعلق ایک اہم علامت ہوسکتا ہے۔ خون میں شوگر کی مقدار بڑھنے کی صورت میں جسم اضافی گلوکوز کو پیشاب کے ذریعے خارج کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اس عمل کے نتیجے میں معمول سے زیادہ مرتبہ پیشاب آنے کی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے۔ بار بار پیشاب آنے سے جسم سے پانی بھی زیادہ خارج ہوسکتا ہے جس کے باعث پیاس میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

اگر کسی شخص کو معمول کے مقابلے میں مسلسل زیادہ پیاس لگتی ہو اور بار بار پیشاب آنے کی شکایت بھی ہو تو ان علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ تاہم ان علامات کی موجودگی سے صرف ذیابیطس کی حتمی تشخیص نہیں کی جاسکتی۔

منہ خشک رہنا اور جلد پر خارش

منہ کا مسلسل خشک رہنا بھی جسم میں پانی کی کمی سے جڑی علامت ہوسکتی ہے۔ اگر بار بار پیشاب آنے کے باعث جسم سے سیال زیادہ مقدار میں خارج ہو تو منہ میں خشکی محسوس ہوسکتی ہے۔

اسی طرح جلد پر خشکی اور خارش بھی بعض حالات میں پانی کی کمی سے متعلق ہوسکتی ہے۔ ذیابیطس کے حوالے سے ایسی علامات کو دیگر جسمانی تبدیلیوں کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔

صرف جلد پر خارش یا منہ کی خشکی کو ذیابیطس کی حتمی علامت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مختلف جسمانی وجوہات بھی ان علامات کا سبب بن سکتی ہیں۔

ٹانگوں میں درد کو بھی نظر انداز نہ کریں

پیروں یا ٹانگوں میں مسلسل درد بھی ایسی کیفیت ہے جس پر توجہ دینی چاہیے۔ تاہم صرف ٹانگوں کا درد ذیابیطس کی حتمی نشانی نہیں سمجھا جاسکتا۔

اگر ٹانگوں میں درد کے ساتھ ذیابیطس سے متعلق دیگر علامات بھی موجود ہوں تو طبی معائنہ اور مناسب ٹیسٹ کے ذریعے اصل وجہ معلوم کرنا ضروری ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :

ذیابیطس کے مریضوں کیلئے خو شخبری،علاج ڈھونڈ لیا گیا

جسم میں ہونے والی کسی بھی مسلسل یا غیر معمولی تبدیلی کو صرف معمول کی تھکن سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے اس کی وجہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے۔

بغیر وجہ وزن کم ہونا بھی توجہ طلب علامت

بغیر کسی واضح وجہ کے تیزی سے وزن کم ہونا بھی ذیابیطس سے متعلق ایک قابل توجہ علامت ہوسکتا ہے۔ جب جسم گلوکوز کو مناسب طریقے سے توانائی کے طور پر استعمال نہیں کرپاتا تو توانائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے جسم میں موجود دیگر ذخائر استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

اس صورتحال میں وزن میں کمی کے ساتھ تھکاوٹ بھی محسوس ہوسکتی ہے۔ اگر وزن کم ہونے کی کوئی واضح وجہ موجود نہ ہو تو اسے معمولی تبدیلی سمجھنے کے بجائے طبی ماہر سے مشورہ کرنا مناسب ہے۔

علامات کی بنیاد پر خود تشخیص سے گریز ضروری

ذیابیطس کی مذکورہ علامات میں سے ایک یا چند علامات کا ہونا لازمی طور پر اس بیماری کی موجودگی ثابت نہیں کرتا۔ مختلف طبی وجوہات کی وجہ سے بھی ایسی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔

اسی لیے صرف علامات دیکھ کر خود سے یہ فیصلہ کرنا درست نہیں کہ کسی شخص کو ذیابیطس ہے۔ اگر کسی فرد کو مسلسل غیر معمولی بھوک، تھکاوٹ، بار بار پیشاب آنے، زیادہ پیاس لگنے یا بغیر وجہ وزن کم ہونے جیسی علامات کا سامنا ہو تو خون کے ٹیسٹ اور ڈاکٹر سے طبی مشورہ ضروری ہے۔

بروقت طبی جانچ سے جسم میں شوگر کی صورتحال کے بارے میں واضح معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ اس لیے ذیابیطس کی ممکنہ ابتدائی علامات کو معمولی سمجھ کر مسلسل نظر انداز کرنے کے بجائے ان پر توجہ دینا زیادہ بہتر ہے۔

ہمیں فالو کریں

[uw_related_posts]