برٹش کولمبیا میں کئی روز سے لاپتا شخص پہاڑوں سے زندہ مل گیا

اردوورلڈ کینیڈا (ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں کئی روز سے پہاڑی علاقے میں لاپتا ہونے والے شخص کو بالآخر زندہ تلاش کرلیا گیا۔ اسٹینسلاف وولو نامی شخص اتوار کو اسکوا مش کے علاقے میں واقع سی ٹو اسکائی گونڈولا کے اوپر پہاڑی راستے پر ہائیکنگ کے لیے گیا تھا، تاہم واپس گھر نہ پہنچنے کے بعد اس کی تلاش شروع کردی گئی تھی۔

کئی روز تک کوئی سراغ نہ ملا

اسٹینسلاف وولو نے ماؤنٹ ہابریچ لوپ پر ہائیکنگ کا منصوبہ بنایا تھا۔ نگرانی کے لیے حاصل کی گئی ویڈیو سے تصدیق ہوئی کہ وہ اتوار کو تقریباً صبح ساڑھے 11 بجے اسکوا مش میں سی ٹو اسکائی گونڈولا کے بالائی اسٹیشن پر پہنچا تھا۔

اس کے بعد اہل خانہ کو اس کی کوئی اطلاع نہیں ملی اور مقررہ وقت پر گھر واپس نہ آنے کے باعث تشویش بڑھ گئی۔ صورتحال سنگین ہونے پر پولیس اور سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کو اطلاع دی گئی، جس کے بعد وسیع پیمانے پر تلاش کا آغاز کیا گیا۔

سرچ آپریشن میں شدت

اسٹینسلاف وولو کی تلاش کے لیے اسکوا مش سرچ اینڈ ریسکیو سمیت متعدد امدادی ٹیموں نے پہاڑی علاقے میں کارروائیاں کیں۔ امدادی کارکنوں نے دشوار گزار راستوں اور جنگلاتی علاقوں میں کئی گھنٹے تلاش کی۔

تلاش کا عمل صرف دن کے اوقات تک محدود نہیں رہا بلکہ امدادی کارکنوں نے رات گئے اور علی الصبح بھی مختلف مقامات پر سرچ آپریشن جاری رکھا۔ علاقے کی دشوار جغرافیائی صورتحال کے باعث ریسکیو ٹیموں کو مختلف ذرائع استعمال کرنا پڑے۔

ڈرون اور ہیلی کاپٹر بھی استعمال

لاپتا شخص کی تلاش کے لیے ڈرونز، ہیلی کاپٹرز اور پولیس کتوں کی مدد بھی حاصل کی گئی۔ متعدد سرچ اینڈ ریسکیو اداروں کے رضاکاروں نے بھی آپریشن میں حصہ لیا۔

پہاڑی علاقوں میں محدود رسائی، گھنے جنگلات اور مشکل راستوں کے باعث کسی لاپتا شخص تک پہنچنا امدادی ٹیموں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ اس کیس میں بھی مختلف ٹیموں نے ممکنہ راستوں اور مقامات کی مسلسل نگرانی کی۔

منگل کو ایمرجنسی کال

تلاش کے دوران منگل کو اسٹینسلاف وولو کی جانب سے 911 پر ایک مختصر کال بھی موصول ہوئی، جس نے امدادی ٹیموں اور اہل خانہ میں امید پیدا کردی۔

اس کی بہن اولا وولو کے مطابق فون کال میں موجود آواز اور نمبر سے یہ یقین ہوا کہ کال اس کے بھائی ہی کی تھی۔ تاہم رابطہ انتہائی مختصر رہا اور اس کے بعد فوری طور پر دوبارہ رابطہ نہیں ہوسکا۔

خاندان کے لیے یہ مختصر کال انتہائی اہم ثابت ہوئی کیونکہ اس سے اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ اسٹینسلاف اس وقت تک زندہ تھا اور پہاڑی علاقے میں کسی مشکل صورتحال میں پھنس چکا تھا۔

بالآخر سڑک تک پہنچ گیا

جمعے کے روز اسٹینسلاف وولو کو بالآخر زندہ تلاش کرلیا گیا۔ اس کی بہن نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا بھائی خود چل کر سڑک تک پہنچا۔

اہل خانہ کے مطابق اسٹینسلاف کو طبی معائنے اور ضروری علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس وقت خاندان کے افراد اس سے ملنے کے لیے اسپتال پہنچ رہے تھے۔

اسٹینسلاف کے کئی روز تک دشوار گزار پہاڑی علاقے میں رہنے کے باوجود زندہ ملنے پر اہل خانہ اور سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں نے اطمینان کا اظہار کیا۔

ریسکیو ٹیموں کی کوششیں قابل ذکر

اسٹینسلاف کی تلاش میں حصہ لینے والی ٹیموں کی مسلسل کوششوں کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ سرچ اینڈ ریسکیو رضاکاروں نے مختلف علاقوں میں ممکنہ راستوں اور مقامات کی چھان بین کی جبکہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے فضائی نگرانی بھی کی گئی۔

پہاڑی علاقوں میں ہائیکنگ کے دوران موسم، دشوار راستوں، کم درجہ حرارت اور مواصلاتی مسائل کے باعث معمولی صورتحال بھی خطرناک ہوسکتی ہے۔ اسی لیے ماہرین ہمیشہ ہائیکرز کو سفر سے پہلے اپنے راستے، موسم اور ہنگامی رابطے کے ذرائع کے بارے میں مکمل تیاری کی ہدایت کرتے ہیں۔

خاندان نے سکھ کا سانس لیا

کئی روز تک جاری رہنے والی تلاش کے بعد اسٹینسلاف وولو کے زندہ ملنے کی خبر نے اس کے خاندان اور تلاش میں شریک افراد کو سکون پہنچایا ہے۔ اگرچہ اس کی گمشدگی کے دوران حالات انتہائی تشویش ناک ہوگئے تھے، تاہم اس کا خود چل کر سڑک تک پہنچنا ایک مثبت پیش رفت ثابت ہوا۔

حکام کی جانب سے واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہوسکے گا کہ اسٹینسلاف ان کئی روز کے دوران پہاڑ کے کس حصے میں موجود رہا اور کس طرح دشوار حالات کا سامنا کرتے ہوئے محفوظ مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔

ہمیں فالو کریں

[uw_related_posts]