اردو ورلڈ کینڈا ( ویب نیوز ) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں تاہم جارحیت کی صورت میں ملک اپنے دفاع اور قومی مفادات کے تحفظ سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا اور دیگر مخالف قوتوں کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے ہمیشہ جنگ سے گریز کی پالیسی اختیار کی ہے تاہم کسی بھی جارحیت کے سامنے خاموش نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کے مفادات اور خطے کی سلامتی کے لیے تنازع شروع کرنے سے گریز ضروری ہے لیکن جب ملک پر حملہ کیا جائے تو دفاع کرنا ایران کا حق اور ذمہ داری ہے۔
مسعود پزشکیان نے یہ مؤقف سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیش کیا۔ ایرانی صدر نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن اپنے خلاف ہونے والی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت اور عزم رکھتا ہے۔
ایران تنازع شروع کرنے کے حق میں نہیں
ایرانی صدر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایران ہمیشہ جنگ کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی حکومت عوام کے مفادات اور خطے میں امن و سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی تنازع کو شروع کرنے سے گریز کو ضروری سمجھتی ہے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ جنگ کسی بھی ملک کے عوام کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے اور اس کے اثرات صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتے۔ اسی وجہ سے ایران تنازع کو بڑھانے کے بجائے خطے میں امن و استحکام کے راستے کو ترجیح دیتا ہے۔
تاہم ایرانی صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ جنگ سے گریز کا مطلب یہ نہیں کہ ایران اپنی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ سے دستبردار ہوجائے گا۔
جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا اعلان
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران نے اب تک ہونے والی جارحیت کے خلاف بھرپور دفاع کیا ہے اور آئندہ بھی اسی عزم کے ساتھ مزاحمت جاری رکھے گا۔
ایرانی صدر کے مطابق ان کا ملک اپنے عوام کے حقوق کا محافظ ہے اور کسی بھی بیرونی دباؤ یا جارحیت کے نتیجے میں ان حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔
انہوں نے اپنے بیان میں جارحیت کرنے والوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس وقت تک مزاحمت جاری رکھے گا جب تک جارحیت کرنے والوں کو اپنے اقدامات پر مکمل پچھتاوا نہ ہو۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کے باعث خطے میں پہلے ہی شدید بے یقینی پائی جاتی ہے اور کسی بھی نئی کارروائی سے صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
قومی مفادات کا تحفظ اولین ترجیح
ایرانی صدر نے اپنے بیان میں قومی مفادات کے تحفظ کو بھی بنیادی اہمیت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی دوسرے ملک کے خلاف جنگ شروع کرنے کا خواہش مند نہیں لیکن اپنے ملک اور عوام کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔
پزشکیان کے مطابق ایران کی پالیسی کا بنیادی مقصد اپنے عوام کے مفادات کا تحفظ اور خطے میں سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ اسی لیے ایران جنگ شروع کرنے سے گریز کو ضروری سمجھتا ہے لیکن اگر اس پر جارحیت مسلط کی گئی تو وہ دفاع کے لیے تیار رہے گا۔
ایرانی صدر کا یہ مؤقف بظاہر جنگ سے گریز اور دفاع کے عزم دونوں کو واضح کرتا ہے۔ ایک طرف انہوں نے ایران کی جانب سے تنازع شروع نہ کرنے کی بات کی تو دوسری جانب جارحیت کی صورت میں بھرپور مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
امریکا کے لیے واضح پیغام
مسعود پزشکیان کے بیان کو امریکا کے لیے بھی ایک واضح پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی صدر نے براہ راست یہ مؤقف پیش کیا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن دباؤ یا جارحیت کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔
ایران طویل عرصے سے اپنے خلاف امریکی دباؤ اور پابندیوں کو مسترد کرتا آیا ہے۔ موجودہ صورتحال میں ایرانی قیادت کی جانب سے قومی دفاع اور مزاحمت پر زور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران کسی بھی ممکنہ دباؤ کے باوجود اپنے بنیادی مؤقف سے پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
پزشکیان نے یہ واضح نہیں کیا کہ مستقبل میں ایران کی جانب سے کون سے مخصوص اقدامات کیے جائیں گے تاہم ان کے بیان میں یہ ضرور واضح کیا گیا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔
خطے کی سلامتی کا حوالہ
ایرانی صدر نے اپنے مؤقف میں صرف ایران کے مفادات کا ذکر نہیں کیا بلکہ خطے کی سلامتی کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران عوام کے مفادات اور خطے کی سلامتی کے لیے تنازع شروع کرنے سے گریز کو ضروری سمجھتا ہے۔
مشرق وسطیٰ پہلے ہی مختلف تنازعات اور کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ پورے خطے کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔
ایرانی صدر کی جانب سے خطے کی سلامتی کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ تہران اپنے مؤقف کو صرف دوطرفہ تنازع کے بجائے علاقائی امن کے تناظر میں بھی پیش کرنا چاہتا ہے۔
جنگ سے گریز لیکن مزاحمت جاری رکھنے کا عزم
مسعود پزشکیان کے بیان کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ایران جنگ شروع کرنے کے حق میں نہیں لیکن اگر اس پر جنگ مسلط کی گئی تو وہ مزاحمت جاری رکھے گا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اپنے عوام کے حقوق کا محافظ رہے گا اور جارحیت کے خلاف پوری طاقت کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ ان کے مطابق ایران کا دفاعی مؤقف کسی بیرونی دباؤ کے نتیجے میں تبدیل نہیں ہوگا۔
ایرانی صدر کا یہ بیان موجودہ کشیدہ صورتحال میں اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس میں ایک طرف مذاکرات اور تنازع سے گریز کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے جبکہ دوسری جانب ایران کے دفاعی عزم کو بھی واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔
کشیدگی کم کرنے کے امکانات
ایرانی صدر کی جانب سے جنگ سے گریز کی بات خطے میں کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے اہم سمجھی جا سکتی ہے۔ تاہم ان کے ساتھ ہی مزاحمت جاری رکھنے کے اعلان سے یہ بھی واضح ہے کہ تہران اپنے دفاعی مؤقف میں کسی فوری تبدیلی کا اشارہ نہیں دے رہا۔
ایران کے مطابق عوام کے مفادات اور قومی سلامتی اس کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ اسی بنیاد پر تہران تنازع شروع کرنے سے گریز کرنا چاہتا ہے لیکن جارحیت کی صورت میں جواب دینے کو اپنا حق سمجھتا ہے۔
مسعود پزشکیان نے اپنے تازہ بیان کے ذریعے امریکا اور دیگر مخالف قوتوں کو یہی پیغام دیا ہے کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں لیکن دباؤ یا جارحیت کے سامنے مزاحمت سے پیچھے بھی نہیں ہٹے گا۔ ان کے مطابق ایرانی عوام کے حقوق اور ملک کے قومی مفادات کا تحفظ ہر صورت جاری رکھا جائے گا۔
