اردو ورلڈ کینیڈا (ویب نیوز ) یمن کے مختلف علاقوں میں سعودی جنگی طیاروں کی جانب سے فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یہ کارروائیاں سعودی عرب میں حوثی حملوں کے بعد کی گئی ہیں۔
تاہم سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے تاحال یمن میں ہونے والی ان فضائی کارروائیوں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
حوثیوں سے منسلک ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی جنگی طیاروں نے یمن کے صوبوں مارب۔ الجوف اور تعز کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔ حوثی ٹی وی کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی طیاروں نے متعدد مقامات پر حملے کیے ہیں جبکہ سعودی فورسز کی جانب سے سرحدی علاقوں میں بھی کارروائی کی گئی۔
مارب اور الجوف میں متعدد حملوں کا دعویٰ
رپورٹ کے مطابق صوبہ الجوف کے ضلع خب والشعف میں پانچ فضائی حملے کیے گئے۔ اسی طرح صوبہ مارب کے علاقے صرواح میں دس فضائی حملوں کی اطلاعات ہیں۔
حوثی ذرائع نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ تعز کے علاقے البرح میں بھی پانچ فضائی حملے کیے گئے۔ اس کے علاوہ شمالی یمن کے صوبہ صعدہ کے سرحدی ضلع غمر میں سعودی فورسز کی جانب سے بمباری کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :
ٹرمپ کا مکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم، سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کو اہم پیش رفت پر مبارکباد
تازہ اطلاعات کے مطابق حوثی ذرائع نے مختلف علاقوں میں مجموعی طور پر درجنوں سعودی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔ سعودی حکام کی جانب سے بھی ان مخصوص فضائی حملوں کے بارے میں فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
سعودی عرب میں حوثیوں کے حملوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ
یمن میں سعودی فضائی حملوں کی اطلاعات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔
تازہ رپورٹس کے مطابق حوثیوں کے حملوں میں سعودی عرب کے خمیس مشیط۔ ابہا۔ نجران اور جازان سمیت مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سعودی حکام کے مطابق ان حملوں میں 73 افراد زخمی ہوئے جبکہ بعض توانائی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا اور مختلف مقامات پر آگ لگنے کے واقعات پیش آئے۔
ان حملوں کے بعد سعودی عرب نے واضح کیا کہ وہ اپنی سرزمین اور تنصیبات کے دفاع کے لیے اقدامات کرے گا۔ اس کے بعد یمن میں سعودی فضائی کارروائیوں کی اطلاعات نے خطے میں پہلے سے جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
خمیس مشیط میں حفاظتی الرٹ جاری
دوسری جانب سعودی سول ڈیفنس نے شہر خمیس مشیط میں خطرے سے خبردار کرنے کے لیے الرٹ جاری کیا۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا جب سعودی عرب کے جنوبی علاقوں کو حوثیوں کے حملوں کا سامنا رہا۔
تازہ اطلاعات کے مطابق سعودی حکام نے خمیس مشیط میں جاری حفاظتی الرٹ کو بعد میں ختم بھی کردیا۔ خمیس مشیط میں سعودی فوجی تنصیبات موجود ہیں اور شہر حالیہ حملوں کے دوران حوثیوں کے نشانے پر آنے والے علاقوں میں شامل رہا ہے۔
چار سالہ جنگ بندی کے بعد دوبارہ خطرناک صورتحال
یمن میں تازہ جھڑپوں اور فضائی حملوں نے اس خدشے کو بڑھا دیا ہے کہ ملک میں طویل عرصے سے جاری تنازع ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے پر شدت اختیار کرسکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یمن میں 2022 میں اقوام متحدہ کی کوششوں کے نتیجے میں ایک غیر رسمی جنگ بندی قائم ہوئی تھی جس کے بعد سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان براہ راست بڑے پیمانے پر لڑائی میں نمایاں کمی آئی تھی۔ حالیہ ہفتوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ساتھ یمن کا محاذ بھی دوبارہ متحرک ہوگیا ہے۔
یمن میں جاری صورتحال کے باعث علاقائی سلامتی کے ساتھ ساتھ بحیرہ احمر اور باب المندب کے اہم بحری راستوں پر بھی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ خطے میں کسی بڑے فوجی تصادم کی صورت میں توانائی کی ترسیل اور عالمی تجارت متاثر ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔
فی الحال سعودی عرب کی جانب سے یمن میں تازہ فضائی کارروائیوں کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ دوسری جانب حوثی ذرائع مسلسل سعودی حملوں کے دعوے کر رہے ہیں۔
اس صورتحال میں آنے والے دنوں کے دوران دونوں فریقوں کے بیانات اور زمینی صورتحال اس بات کا تعین کرے گی کہ حالیہ کشیدگی محدود جوابی کارروائیوں تک رہتی ہے یا یمن میں تنازع ایک مرتبہ پھر بڑے فوجی تصادم میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
