اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) چین نے انسان نما روبوٹس کے عسکری استعمال کے امکانات پر تحقیق اور تجربات کا عمل تیز کردیا ہے۔ چینی فوجی ادارے ایسے روبوٹس کی صلاحیتوں کو جانچ رہے ہیں جنہیں مستقبل میں جنگی حالات میں مختلف معاون اور خطرناک ذمہ داریاں سونپی جا سکتی ہیں۔ ان تحقیقات میں خاص طور پر ایسے کام شامل ہیں جن میں انسانی اہلکاروں کے لیے خطرات موجود ہوتے ہیں۔
چینی فوجی اداروں کی جانب سے انسان نما روبوٹس کے استعمال پر توجہ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روبوٹک ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں تیزی سے ترقی دی جا رہی ہے۔ فوجی تحقیق کے دوران ان مشینوں کی ماحول کو سمجھنے کی صلاحیت اور مختلف اشیا کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ خودکار انداز میں فیصلے کرنے کی صلاحیت بہتر بنانے پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔
دشمن کی صفوں کے پیچھے جانے اور نگرانی کے تجربات
چین کی نیشنل یونیورسٹی آف ڈیفنس ٹیکنالوجی نے انسان نما روبوٹس کے حوالے سے ایسے تجربات کیے ہیں جن میں انہیں دشمن کی صفوں کے پیچھے داخل ہونے کے ممکنہ کاموں کے لیے آزمایا گیا۔ ان تجربات کا ایک مقصد روبوٹس کی یہ صلاحیت جانچنا تھا کہ وہ کسی علاقے میں داخل ہو کر وہاں کا نقشہ تیار کرسکتے ہیں یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں :
مسافروں کی مدد کیلئے وینکوور ہوائی اڈے نے خود ڈرائیونگ موبلٹی روبوٹس کا آغاز کردیا
اسی طرح روبوٹس کو ممکنہ اہداف تلاش کرنے کے کام کے لیے بھی آزمایا گیا ہے۔ اس طرح کی صلاحیتیں مستقبل میں نگرانی اور معلومات جمع کرنے والے عسکری مشنز میں استعمال ہونے کا امکان ظاہر کرتی ہیں۔
چینی فوجی ادارے انسان نما روبوٹس کے استعمال کے امکانات کو صرف نگرانی تک محدود نہیں دیکھ رہے بلکہ شہری جنگ جیسے پیچیدہ حالات میں بھی ان کے کردار پر تحقیق کی جا رہی ہے۔ رسد کی فراہمی اور ایسے مشنز جہاں انسانی اہلکاروں کو براہ راست خطرے کا سامنا ہوسکتا ہے بھی تحقیق کا حصہ ہیں۔
کیمروں اور ریڈار سے متعلق ڈیٹا پر توجہ
تحقیق کے ایک اہم حصے میں روبوٹس کو اپنے اردگرد کے ماحول کو بہتر طور پر سمجھنے کے قابل بنانا شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف سینسرز سے حاصل ہونے والی معلومات کو استعمال کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
2026 میں چینی فوج نے روبوٹس کے لیے کیمروں اور ریڈار سمیت حرکت سے متعلق ڈیٹا جمع کرنے اور اس ڈیٹا کی بنیاد پر تربیت دینے والے نظام کے لیے بھی بجٹ رکھا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روبوٹس کو صرف جسمانی طور پر حرکت کرنے والی مشین کے بجائے ایسے نظام کے طور پر تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو اپنے ماحول سے معلومات حاصل کرکے ان کے مطابق ردعمل دے سکے۔
کیمروں اور ریڈار سے حاصل ہونے والی معلومات روبوٹس کے لیے اردگرد کے ماحول کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ اسی طرح حرکت سے متعلق ڈیٹا روبوٹس کی تربیت اور ان کی جسمانی نقل و حرکت بہتر بنانے میں استعمال ہوسکتا ہے۔
خطرناک علاقوں میں مشینی اہلکار کے طور پر استعمال کا امکان
چینی تحقیق میں مستقبل کے لیے ایسے روبوٹس کے استعمال کے امکانات بھی دیکھے جا رہے ہیں جو سپاہیوں کے ساتھ مل کر کام کرسکیں۔ اس صورت میں انسان نما روبوٹس کو فوجی اہلکاروں کے معاون کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
دوسرا ممکنہ کردار ایسے علاقوں میں ان مشینی نظاموں کو بھیجنا ہوسکتا ہے جہاں انسانی اہلکاروں کی موجودگی خطرناک ہو۔ اس طرح کے استعمال میں روبوٹس کو ایسے کام دیے جاسکتے ہیں جن کے دوران انسانی جان کو براہ راست خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
تاہم موجودہ مرحلے پر ان امکانات کو عملی تعیناتی کے بجائے تحقیق اور آزمائش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ چینی فوجی ادارے روبوٹس کی صلاحیتوں کو جانچنے کے ساتھ ساتھ ان مسائل کا بھی جائزہ لے رہے ہیں جو میدان جنگ جیسے غیر یقینی ماحول میں سامنے آسکتے ہیں۔
ابھی مسلح روبوٹس کی فعال تعیناتی کا ثبوت نہیں
رائٹرز کے مطابق ابھی تک ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ مسلح انسان نما روبوٹس کو چینی فوج کی کسی فعال یونٹ میں تعینات کردیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چین کی جانب سے جاری سرگرمیاں فی الحال تحقیق اور تجربات کے مرحلے میں ہیں۔
انسان نما روبوٹس کے لیے میدان جنگ ایک انتہائی مشکل ماحول ہوسکتا ہے۔ موجودہ روبوٹس کو توانائی کی زیادہ کھپت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ غیر یقینی اور تیزی سے تبدیل ہونے والے ماحول میں ان کی قابل اعتماد کارکردگی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
توانائی اور قابل اعتماد کارکردگی بڑے چیلنجز
روبوٹس کو عسکری استعمال کے لیے تیار کرنے میں صرف ان کی حرکت اور اشیا کو سنبھالنے کی صلاحیت کافی نہیں ہوگی۔ انہیں طویل عرصے تک کام کرنے کے قابل بنانے کے لیے توانائی کا مسئلہ بھی حل کرنا ہوگا۔
میدان جنگ میں حالات مسلسل تبدیل ہوسکتے ہیں۔ ایسے ماحول میں روبوٹ کے لیے درست معلومات حاصل کرنا اور ان معلومات کی بنیاد پر مناسب ردعمل دینا ایک اہم تکنیکی چیلنج ہے۔ اگر کوئی روبوٹ غیر یقینی صورتحال میں قابل اعتماد انداز سے کام نہ کرسکے تو اس کا عسکری استعمال محدود ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :
دبئی کے وائرل روبوٹ ’بو سنیدہ‘ نے ’موزہ‘ نامی روبوٹ سے شادی کر لی
اسی لیے چین کی تحقیق میں روبوٹس کے ماحول کو سمجھنے اور خودکار فیصلے کرنے کی صلاحیت بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ چیزوں کو پکڑنے اور سنبھالنے کی صلاحیت بھی اس تحقیق کا حصہ ہے تاکہ انسان نما روبوٹ مختلف عملی کام انجام دے سکیں۔
تحقیق سے ممکنہ عسکری کردار کی سمت واضح
چین کی جانب سے انسان نما روبوٹس کے حوالے سے جاری تحقیق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان مشینی نظاموں کے ممکنہ عسکری کردار کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔ نگرانی سے لے کر نقشہ سازی اور اہداف تلاش کرنے تک مختلف کاموں میں روبوٹس کی صلاحیتوں کو آزمایا جا رہا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ سپاہیوں کے معاون کے طور پر روبوٹس کے استعمال اور خطرناک علاقوں میں انہیں بھیجنے کے امکانات پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ تاہم موجودہ معلومات کے مطابق یہ سب ابھی تحقیق اور آزمائش کے مرحلے میں ہے۔
چینی فوج کی جانب سے کیمروں اور ریڈار سے متعلق ڈیٹا جمع کرنے اور روبوٹس کی تربیت کے نظام کے لیے بجٹ مختص کرنا بھی اس تحقیق کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی کس حد تک عملی عسکری کردار حاصل کرتی ہے اس کا انحصار روبوٹس کی توانائی کی ضروریات اور غیر یقینی ماحول میں ان کی قابل اعتماد کارکردگی جیسے چیلنجز پر ہوگا۔
