اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز) روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ایران مستقبل میں مکہ دفاعی معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے، جبکہ مصر اور الجزائر کی ممکنہ شمولیت کو بھی خطے میں سکیورٹی تعاون کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے میں ایران کی شرکت کے لیے شرائط پر اتفاق رائے پیدا کرنا روس کے طویل عرصے سے پیش کردہ علاقائی سکیورٹی ماڈل کی جانب ایک اہم عملی قدم ہوگا۔
ایران کی ممکنہ شمولیت
سرگئی لاوروف نے ماسکو اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (MGIMO) میں طلبہ اور اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے خلیج میں علاقائی سکیورٹی تعاون کے حوالے سے روس کے مؤقف پر تفصیلی گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ اگر مصر اور الجزائر مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہوتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی، جبکہ انہیں یقین ہے کہ کسی مرحلے پر ایران کو بھی اس علاقائی دفاعی ڈھانچے میں شامل کرنے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ گزشتہ ماہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پایا تھا۔
معاہدے کے بنیادی اصول کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر ہونے والا حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
یہ معاہدہ خطے میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔
روس کا پرانا مؤقف
لاوروف نے کہا کہ روس تقریباً دو دہائیاں قبل ہی خلیجی ممالک کے درمیان علاقائی سکیورٹی کا ایک مشترکہ تصور تشکیل دینے کی تجویز پیش کرچکا ہے۔
ان کے مطابق روس نے اس تصور کے تحت خلیجی عرب ممالک اور ایران سمیت خطے کے اہم ممالک کو ایک ایسے پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی تجویز دی تھی جہاں وہ باہمی اختلافات اور شکایات پر براہ راست بات کرسکیں۔
روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ماسکو کا مقصد فریقین کے درمیان ملاقاتوں، مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات میں سہولت فراہم کرنا تھا تاکہ علاقائی سکیورٹی کے لیے مشترکہ بنیاد تلاش کی جاسکے۔
وسیع علاقائی شمولیت
لاوروف کے مطابق روس کی تجویز میں عرب لیگ، اسلامی تعاون تنظیم اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کو بھی کسی ممکنہ سکیورٹی مذاکرات میں شامل کرنے کا تصور موجود تھا۔
انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک کے درمیان تعلقات پیچیدہ ہونے کے باوجود ایک جامع مذاکراتی عمل کے ذریعے مشترکہ سکیورٹی کے لیے راستہ نکالا جاسکتا ہے۔ان کے مطابق موجودہ علاقائی حالات نے اس ضرورت کو مزید نمایاں کردیا ہے۔
ایران سعودی تعلقات
روسی وزیر خارجہ نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات معمول پر آنے کا بھی حوالہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری چین کی ایک سفارتی پہل کے نتیجے میں ممکن ہوئی، جبکہ ماسکو نے بھی اس عمل کی فعال حوصلہ افزائی کی۔
لاوروف کے مطابق ایران اور سعودی عرب کے درمیان رابطوں میں بہتری اس بات کی مثال ہے کہ خطے کے ممالک اپنے اختلافات کے باوجود بات چیت اور سفارتی ذرائع سے تعلقات بہتر کرسکتے ہیں۔
مصر اور الجزائر کا ذکر
مکہ دفاعی معاہدے کے ممکنہ دائرہ کار پر بات کرتے ہوئے لاوروف نے کہا کہ اس کے حامیوں کی جانب سے یہ اشارے ملے ہیں کہ خلیج سے باہر کے ممالک کے لیے بھی مستقبل میں اس میں شمولیت کا راستہ کھلا رکھا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :مکہ دفاعی معاہدہ، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی سہ ملکی کمیٹی کا آج استنبول میں اجلاس
انہوں نے مصر کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قاہرہ کی ممکنہ شمولیت اہم ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر الجزائر بھی اس میں دلچسپی ظاہر کرتا ہے تو کسی مرحلے پر اس کا علاقائی سکیورٹی ڈھانچے پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔
ماسکو قیادت کا خواہاں نہیں
سرگئی لاوروف نے واضح کیا کہ روس کسی بھی علاقائی سکیورٹی انتظام میں قائدانہ کردار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔
ان کے مطابق ماسکو کا مقصد کسی ایک ملک کو خطے کی سکیورٹی کا مرکز بنانا نہیں بلکہ ایسے نظام کی تشکیل میں مدد دینا ہے جس میں علاقائی ممالک باہمی اعتماد اور تعاون کے ذریعے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹ سکیں۔
خطے کی بدلتی صورتحال
لاوروف نے کہا کہ خطے کی صورتحال میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں اور حالیہ فوجی کشیدگی نے علاقائی استحکام کے حوالے سے نئے سوالات پیدا کیے ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت میں ممکنہ رکاوٹوں کے تناظر میں خلیجی اور علاقائی طاقتیں سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔
تین ممالک کی اہمیت
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ خطے اور مسلم دنیا میں نمایاں دفاعی اور سیاسی اہمیت رکھتے ہیں۔
ترکیہ نیٹو کی دوسری بڑی فوج رکھنے والا ملک ہے، سعودی عرب خلیج کی اہم طاقت اور دنیا کے بڑے تیل برآمد کنندگان میں شامل ہے، جبکہ پاکستان دنیا کی واحد مسلم جوہری طاقت ہے۔
اسی تناظر میں تینوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے کو علاقائی سکیورٹی کے حوالے سے اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
اسحاق ڈار کا مؤقف
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے 9 اگست کو کہا تھا کہ مکہ دفاعی معاہدہ ان تمام ممالک کے لیے کھلا ہے جو اس کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کے لیے تیار ہوں۔
انہوں نے واضح کیا تھا کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ دفاعی نوعیت کا ہے۔
اسحاق ڈار کے مطابق معاہدے کا مقصد باہمی احترام اور تعاون کو فروغ دینا اور پُرامن ذرائع سے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو آگے بڑھانا ہے۔
لاوروف کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس مکہ دفاعی معاہدے کو خطے کے وسیع تر سکیورٹی ڈھانچے کے تناظر میں دیکھ رہا ہے، جبکہ ایران، مصر اور الجزائر کی ممکنہ شمولیت اسے مستقبل میں ایک بڑے علاقائی تعاون کے پلیٹ فارم میں تبدیل کرنے کی بحث کو مزید اہم بنا سکتی ہے۔
