اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) سابق پاکستانی کپتان راشد لطیف نے ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو عہدوں سے ہٹائے جانے کے معاملے پر عاقب جاوید کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
راشد لطیف نے ٹیم کے معاملات اور کوچز کے کردار سے متعلق سامنے آنے والے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ٹیم کے فیصلے باہر سے پیغامات کے ذریعے کروانے تھے تو پھر سرفراز احمد اور عمر گل کو ٹیم کے ساتھ بھیجنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔
عاقب جاوید کے بیان پر راشد لطیف کا ردعمل
راشد لطیف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر عاقب جاوید کا ایک بیان شیئر کیا۔ اس بیان میں عاقب جاوید کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ٹیم کے کپتان کو بعض مخصوص کھلاڑیوں کو ڈراپ کرنے کے لیے کئی مرتبہ پیغامات بھیجے گئے تاہم ان پیغامات پر عمل نہیں کیا گیا جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔
عاقب جاوید کے اس مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے راشد لطیف نے ٹیم کے انتظامی ڈھانچے اور کوچز کے اختیار سے متعلق بنیادی سوال اٹھایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ٹیم کو ’’ریموٹ کنٹرول‘‘ کے ذریعے چلانا تھا تو سرفراز احمد اور عمر گل کو ٹیم کے ساتھ کیوں بھیجا گیا؟
کوچز کے اختیارات پر بھی سوال
سابق کپتان نے اپنی تنقید کو صرف سرفراز احمد اور عمر گل کی برطرفی تک محدود نہیں رکھا بلکہ ٹیم کے سابق کوچز کے اختیارات سے متعلق بھی سوال اٹھائے۔ راشد لطیف نے پوچھا کہ گیری کرسٹن اور جیسن گلیسپی سے سلیکشن کے اختیارات واپس لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
یہ بھی پڑھیں :
عاقب جاوید میری اور گیری کرسٹن کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہےہیں،جیسن گلیسپی
ان کے سوالات نے قومی ٹیم کے انتظامی معاملات میں کوچز اور دیگر متعلقہ عہدیداروں کے اختیارات کے حوالے سے بحث کو نمایاں کر دیا ہے۔ راشد لطیف کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک ٹیم کے فیصلوں میں کوچنگ اسٹاف کو واضح اختیارات اور ذمہ داریاں دی جانی چاہئیں۔
سرفراز احمد اور عمر گل کی برطرفی پر بحث
سرفراز احمد اور عمر گل کو ٹیسٹ ٹیم کے کوچنگ اسٹاف سے ہٹائے جانے کے معاملے پر راشد لطیف کا ردعمل سامنے آنے کے بعد ٹیم کے معاملات پر ایک بار پھر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ سابق کپتان نے اپنے مؤقف میں خاص طور پر اس بات کو ہدف بنایا کہ اگر کپتان کو مخصوص کھلاڑیوں کے حوالے سے فیصلے کرنے کے لیے بیرونی سطح سے ہدایات یا پیغامات بھیجے جا رہے تھے تو پھر ٹیم کے ساتھ موجود کوچنگ اسٹاف کی ذمہ داری اور اختیار کی نوعیت کیا تھی۔
راشد لطیف نے اسی تناظر میں ’’ریموٹ کنٹرول‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے ٹیم کے فیصلوں کے طریقہ کار پر سوال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر فیصلے اسی انداز میں کروانے تھے تو سرفراز احمد اور عمر گل کو ٹیم کے ساتھ رکھنے کا جواز کیا تھا۔
سابق کوچز کے کردار پر بھی سوالات
راشد لطیف نے گیری کرسٹن اور جیسن گلیسپی سے سلیکشن کے اختیارات واپس لیے جانے کے معاملے کو بھی اپنی تنقید کا حصہ بنایا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان دونوں کوچز سے سلیکشن کے اختیارات واپس لینے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں :
ہیڈ کوچ سرفراز احمد نے سینئر کھلاڑیوں کو ڈانٹ دیا ، وجہ سامنے آگئی
یہ سوال قومی ٹیم کے انتظامی نظام میں کوچز کے اختیارات اور سلیکشن کے عمل میں ان کے کردار سے متعلق ہے۔ راشد لطیف نے اپنے ردعمل کے ذریعے اس امر پر توجہ دلائی کہ کوچز کو ذمہ داریاں تفویض کیے جانے کے ساتھ ان کے اختیارات بھی واضح ہونے چاہئیں۔
راشد لطیف کی تنقید نے نئی بحث چھیڑ دی
راشد لطیف کی جانب سے عاقب جاوید کے بیان پر ردعمل نے قومی کرکٹ ٹیم کے اندر فیصلوں کے طریقہ کار اور کوچنگ اسٹاف کے اختیارات سے متعلق بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ سابق کپتان نے اپنے سوالات کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ٹیم کے اہم فیصلے کس سطح پر اور کس طریقہ کار کے تحت کیے جاتے رہے۔
سرفراز احمد اور عمر گل کو ہٹائے جانے کے معاملے پر راشد لطیف کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اب قومی ٹیم کے انتظامی معاملات میں کوچز کے کردار اور اختیارات کے حوالے سے اہم موضوع بن گئے۔
