سعودی عرب میں 273غیرقانونی تارکین وطن گرفتار

 اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) سعودی عرب میں اقامہ، بارڈر سکیورٹی اور لیبر قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ سعودی وزارت داخلہ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران مملکت میں ان قوانین کی مجموعی طور پر 14 ہزار 796 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں جبکہ ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کرکے ان کے ممالک واپس بھیج دیا گیا۔

ایک ہفتے کے دوران اقامہ قانون کی 7 ہزار 504 خلاف ورزیاں

سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 3 سے 9 ستمبر کے دوران اقامہ قوانین کی 7 ہزار 504 خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ اسی عرصے میں بارڈر سکیورٹی قوانین کی 3 ہزار 783 جبکہ لیبر قوانین کی 3 ہزار 509 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔

وزارت داخلہ کے مطابق حکام نے خلاف ورزیوں میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جبکہ غیر قانونی طور پر مملکت میں مقیم افراد کی گرفتاری اور انہیں متعلقہ ممالک واپس بھیجنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا گیا۔

غیر قانونی داخلے کی کوشش پر ایک ہزار 273 افراد گرفتار

سعودی حکام نے غیر قانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک ہزار 273 افراد کو حراست میں لیا۔ وزارت داخلہ کے مطابق گرفتار کیے جانے والے افراد میں 55 فیصد کا تعلق ایتھوپیا سے تھا جبکہ 44 فیصد یمنی شہری تھے۔ باقی ایک فیصد افراد کا تعلق دیگر ممالک سے بتایا گیا ہے۔

حکام کے مطابق سرحدی قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیوں کا مقصد مملکت میں غیر قانونی داخلے کو روکنا اور سرحدی سکیورٹی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

ہمسایہ ممالک جانے کی کوشش کرنے والے 25 افراد بھی گرفتار

سعودی وزارت داخلہ کے مطابق مزید 25 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا جو سعودی عرب سے سرحد پار کرکے ہمسایہ ممالک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ مملکت کی سرحدوں سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

غیر قانونی تارکین وطن کو سہولت دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی

سعودی وزارت داخلہ نے غیر قانونی تارکین وطن کو سہولت فراہم کرنے والے افراد کو بھی خبردار کیا ہے۔ وزارت کے مطابق جو شخص غیر قانونی تارکین وطن کو سعودی عرب میں داخل ہونے یا مملکت میں رہائش اختیار کرنے میں مدد فراہم کرے گا یا انہیں روزگار اور پناہ دینے کی کوشش کرے گا اسے سخت سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

وزارت داخلہ کے مطابق ایسے افراد کو 15 سال تک قید اور 10 لاکھ سعودی ریال تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ جرم میں استعمال ہونے والی گاڑی اور جائیداد بھی ضبط کیے جانے کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سفر، رہائش اور روزگار میں مدد دینے والوں کی بھی گرفتاری

سعودی حکام نے ایسے 21 افراد کو بھی حراست میں لیا جو غیر قانونی تارکین وطن کو سفر، رہائش، روزگار یا پناہ فراہم کرنے کی کوششوں میں ملوث تھے۔

وزارت داخلہ نے شہریوں اور مقیم افراد پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کی مدد کرنے سے گریز کریں کیونکہ اس حوالے سے قوانین کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں مقرر ہیں۔

12 ہزار 57 غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیج دیا گیا

سعودی حکام کے مطابق کارروائیوں کے دوران 12 ہزار 57 غیر قانونی تارکین وطن کو ان کے متعلقہ ممالک واپس بھیجا گیا۔ یہ کارروائیاں اقامہ، بارڈر سکیورٹی اور لیبر قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہیں۔

سعودی حکام کی جانب سے غیر قانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے والے افراد اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا سلسلہ مسلسل جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

خلاف ورزیوں کی اطلاع دینے کے لیے ہیلپ لائن نمبرز

سعودی وزارت داخلہ نے شہریوں اور مقیم افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں یا اقامہ اور بارڈر سکیورٹی قوانین کی مشتبہ خلاف ورزیوں کے بارے میں متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔

وزارت کے مطابق مکہ مکرمہ اور ریاض میں ٹول فری نمبر 911 پر اطلاع دی جا سکتی ہے جبکہ مملکت کے دیگر علاقوں میں 999 یا 996 پر مشتبہ خلاف ورزیوں کی اطلاع دینے کی سہولت موجود ہے۔

وزارت داخلہ نے ایک مرتبہ پھر خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کو مملکت میں داخل ہونے یا قیام کرنے میں مدد فراہم کرنے والے افراد کے خلاف قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔

ہمیں فالو کریں

[uw_related_posts]