اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے علاقائی کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی کوششیں جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اپنی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے یا حملے کا فیصلہ کن جواب دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خلیج کی سلامتی اور استحکام ناقابل تقسیم ہے اور خطے کے ایک حصے میں پیدا ہونے والی کشیدگی پورے خطے کے امن و استحکام کو متاثر کرسکتی ہے۔
سفارتی حل
شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب علاقائی کشیدگی کم کرنے اور بحرانوں کے سفارتی حل کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے کشیدگی میں کمی، باہمی احترام اور سفارتی رابطوں کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
سعودی ولی عہد نے واضح کیا کہ سفارتی کوششوں کے ساتھ سعودی عرب اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے سعودی عرب اپنی ذمہ داری پوری کرے گا۔
خلیجی سلامتی
محمد بن سلمان نے خلیجی ممالک کے ساتھ علاقائی سلامتی اور اسٹریٹجک تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خلیج کے ممالک کو درپیش سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون، رابطوں اور مشترکہ حکمت عملی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
مکہ دفاعی معاہدہ
سعودی ولی عہد نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو بھی علاقائی استحکام کی کوششوں کا حصہ قرار دیا۔ اس معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان اجتماعی دفاع اور سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے دفاعی تعاون بڑھانے اور مشترکہ سلامتی کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ معاہدے میں یہ اصول بھی شامل ہے کہ کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں :سعودی ولی عہد اور کینیڈا کے وزیراعظم کی اہم ملاقات، دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق
پاکستان اور ترکیہ
شہزادہ محمد بن سلمان کے مطابق پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون خطے میں سلامتی کے مشترکہ ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ تینوں ممالک کے درمیان حالیہ رابطوں میں دفاعی تعاون، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے معاملات بھی زیر بحث آئے ہیں۔
تینوں ممالک نے خطے میں کشیدگی کم کرنے، بحرانوں کے پرامن حل اور پائیدار امن کے لیے تعاون جاری رکھنے پر بھی زور دیا ہے۔
بحری سلامتی
سعودی ولی عہد نے عالمی توانائی بحران اور سمندری سلامتی کے حوالے سے بھی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق عالمی توانائی کی ترسیل اور اہم بحری راستوں کا تحفظ خطے کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کے لیے بھی اہم ہے۔
انہوں نے سمندری سلامتی کے لیے کثیر ملکی بحری دفاعی تعاون کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اہم بحری راستوں کو محفوظ بنانے اور تجارت کے تسلسل کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔
غزہ کی صورتحال
محمد بن سلمان نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جاری حملوں اور مسجد اقصیٰ کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے عزم کو بھی دہرایا۔
سعودی عرب فلسطینی مسئلے کے حل کو خطے میں پائیدار امن کے لیے اہم قرار دیتا رہا ہے، جبکہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو اپنی سفارتی ترجیحات میں شامل رکھتا ہے۔
یمن اور سوڈان
سعودی ولی عہد نے یمن میں حوثی ملیشیا کے خلاف یمنی حکومت کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن کے استحکام اور سلامتی کے لیے وہاں کی حکومت اور ریاستی اداروں کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے سوڈان کے اتحاد، استحکام اور ریاستی سلامتی کے لیے بھی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ محمد بن سلمان کے مطابق خطے کے مختلف ممالک میں استحکام برقرار رکھنا وسیع تر علاقائی امن کے لیے ضروری ہے۔
علاقائی حکمت عملی
محمد بن سلمان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب ایک جانب سفارتی رابطوں اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو جاری رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب اپنی سلامتی، خلیجی استحکام اور دفاعی تعاون کو بھی مضبوط بنا رہا ہے۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدہ اسی مشترکہ دفاعی تعاون کا ایک اہم حصہ ہے، جبکہ سعودی قیادت نے علاقائی بحرانوں کے سفارتی حل اور سلامتی کے تحفظ دونوں کو اپنی پالیسی میں اہم قرار دیا ہے۔
