اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) سری لنکا کے خلاف آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز اور اس کے بعد ہونے والی سہ ملکی ایک روزہ سیریز کے لیے پاکستان کی قومی ٹیموں کا اعلان رواں ہفتے متوقع ہے۔
تاہم ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں بعض اہم اور تجربہ کار کھلاڑیوں کی شمولیت کے حوالے سے سلیکٹرز کی مشاورت تاحال جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق قومی سلیکشن کمیٹی نے مجوزہ کھلاڑیوں کے ناموں پر ابتدائی غور شروع کر دیا ہے اور حتمی اسکواڈ کا فیصلہ ایشین گیمز میں پاکستانی نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:
کیا شاہین شاہ آفریدی کو ٹی ٹونٹی کا کپتان بنانا واقعی غلطی تھی ؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ صاحبزادہ فرحان کو پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا کپتان بنائے جانے کا امکان ہے۔ اگر انہیں قیادت سونپنے کا فیصلہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو موجودہ کپتان سلمان علی آغا کی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شمولیت مشکل ہو سکتی ہے۔ سلیکشن کمیٹی کی جانب سے مستقبل کے لیے ٹیم کے کمبی نیشن اور نوجوان کھلاڑیوں کو مواقع دینے کے حوالے سے بھی غور کیا جا رہا ہے، جس کے باعث ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں متعدد تبدیلیوں کا امکان پیدا ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاسٹ باؤلر شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف کا ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں انتخاب بھی فی الحال یقینی نہیں ہے۔ دونوں کھلاڑیوں کے حوالے سے سلیکٹرز مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں اور ایشین گیمز میں نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ تاہم ون ڈے ٹیم کے لیے شاہین شاہ آفریدی کی شمولیت یقینی قرار دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب فخر زمان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں واپسی کے امکانات روشن ہیں۔ ذرائع کے مطابق فخر زمان کو دوبارہ ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کا حصہ بنائے جانے کا امکان ہے، تاہم حتمی فیصلہ سلیکشن کمیٹی کی مشاورت مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔ سلیکٹرز قومی ٹیم کے لیے ایسے کھلاڑیوں کے انتخاب پر غور کر رہے ہیں جو آئندہ وائٹ بال مقابلوں میں ٹیم کی ضروریات پوری کر سکیں۔
ایشین گیمز میں شرکت کرنے والے نوجوان کھلاڑیوں پر بھی سلیکٹرز کی خصوصی نظر ہے۔ ان مقابلوں میں کھلاڑیوں کی کارکردگی، فارم اور ٹیم کو درکار کردار ادا کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ کھلاڑیوں کی فہرست کو حتمی شکل ایشین گیمز کے سیمی فائنل کے بعد دی جائے گی۔ اس کے بعد قومی سلیکشن کمیٹی ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے اسکواڈز کا باقاعدہ اعلان کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں:
سلمان علی آغا کا متنازع رن آؤٹ ،یم سی سی بھی میدان میں آگیا
پاکستان کی ون ڈے ٹیم کے حوالے سے دستیاب معلومات کے مطابق شاہین شاہ آفریدی اور بابر اعظم کی شمولیت یقینی ہے۔ ون ڈے اسکواڈ میں تجربہ کار کھلاڑیوں کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ٹیم کے کمبی نیشن پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے ٹیموں کے انتخاب میں فارمیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف کھلاڑیوں کو ذمہ داریاں دیے جانے کا امکان ہے۔
قومی ٹیم کی تیاریوں کے حوالے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ڈومیسٹک سیزن میں کھلاڑیوں کی مصروفیات اور ایشین گیمز کے شیڈول کے باعث قومی وائٹ بال ٹیم کے لیے الگ سے تربیتی کیمپ نہیں لگایا جائے گا۔ منتخب کھلاڑی براہ راست راولپنڈی میں قائم ٹیم ہوٹل میں رپورٹ کریں گے، جہاں سے سری لنکا کے خلاف سیریز کی تیاریوں کا سلسلہ شروع ہوگا۔
سری لنکا کی کرکٹ ٹیم 4 اکتوبر کو پاکستان پہنچے گی۔ دونوں ٹیموں کے درمیان تین ٹی ٹوئنٹی میچز پر مشتمل سیریز کھیلی جائے گی۔ سیریز کا پہلا ٹی ٹوئنٹی 9 اکتوبر کو راولپنڈی میں ہوگا، جبکہ دوسرا میچ 11 اکتوبر اور تیسرا ٹی ٹوئنٹی 13 اکتوبر کو راولپنڈی ہی میں کھیلا جائے گا۔
ٹی ٹوئنٹی سیریز کے بعد پاکستان، انگلینڈ اور سری لنکا کی ٹیمیں سہ ملکی ایک روزہ سیریز میں حصہ لیں گی۔ اس سیریز کے لیے بھی پاکستان کی ون ڈے ٹیم میں تجربہ کار کھلاڑیوں اور مستقبل کے لیے زیر غور نوجوان کرکٹرز کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ادھر سری لنکا کے خلاف دو ٹیسٹ میچز کے لیے پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ ٹیسٹ اسکواڈ کے انتخاب میں بھی کھلاڑیوں کی حالیہ فارم، ڈومیسٹک کرکٹ میں کارکردگی اور ٹیسٹ فارمیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے گا۔
مزید پڑھیں:
ایشیا کپ،حتمی سکواڈ کا اعلان اگست کے دوسرے ہفتے میں متوقع،بابر اعظم حصہ ہونگے ؟
قومی ٹیم کے آئندہ شیڈول کے تناظر میں سلیکشن کمیٹی کو مختصر مدت کے ساتھ ساتھ مستقبل کی ٹیم کی تشکیل کے حوالے سے بھی فیصلے کرنا ہوں گے۔ ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں ممکنہ تبدیلیوں، نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی اور سینئر کرکٹرز کی دستیابی کے باعث حتمی ٹیم کے اعلان تک مختلف نام زیر غور رہنے کا امکان ہے۔ سلیکٹرز کی جانب سے حتمی فیصلہ ایشین گیمز کے سیمی فائنل کے بعد کیے جانے کی توقع ہے، جس کے بعد سری لنکا کے خلاف سیریز کے لیے پاکستان کے اسکواڈ کی تصویر واضح ہو جائے گی۔
