اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) رطانوی شاہی خاندان سے علیحدگی اختیار کرنے کے تقریباً چھ سال بعد شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن کی برطانیہ واپسی نے شاہی حلقوں اور عوامی سطح پر ایک بار پھر خاصی توجہ حاصل کرلی ہے۔
دونوں نے 2020 میں شاہی خاندان کے فعال ارکان کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں سے دستبرداری اختیار کی تھی اور بعد ازاں امریکا کی ریاست کیلیفورنیا میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ اس کے بعد ان کی برطانیہ واپسی کے امکانات بہت کم دکھائی دیتے تھے تاہم اب ان کی طویل مدت کے لیے برطانیہ واپسی نے شاہی خاندان کے مستقبل اور اندرونی تعلقات کے حوالے سے کئی سوالات پیدا کردیئے ہیں۔
شاہی امور کے مورخ جسٹن وووک کے مطابق شہزادہ ہیری اور میگھن کی واپسی ان کے ماضی کے بیانات کے تناظر میں خاصی حیران کن دکھائی دیتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں کی واپسی ان باتوں کے برعکس محسوس ہوتی ہے جو انہوں نے شاہی خاندان سے الگ ہونے کے وقت اور اس کے بعد کہی تھیں۔ ان کے مطابق وجوہات کچھ بھی ہوں لیکن ان کی واپسی نے شاہی خاندان کے اندر بڑے پیمانے پر اثرات پیدا کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :
شاہی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھالنے کا امکان نہیں
شہزادہ ہیری اور میگھن کی برطانیہ واپسی کے باوجود یہ بات واضح کی گئی ہے کہ دونوں دوبارہ شاہی خاندان کے فعال ارکان کی حیثیت سے فرائض انجام نہیں دیں گے۔ وہ نجی شہریوں کی حیثیت سے زندگی گزاریں گے اور شاہی ذمہ داریوں میں واپسی نہیں ہوگی۔
تاہم ماہرین کے مطابق فعال شاہی رکن نہ ہونے کے باوجود شہزادہ ہیری شاہی خاندان کا حصہ ہیں۔ آئینی امور کے ماہر اور رائل ہولوے یونیورسٹی لندن میں قانون کے استاد کریگ پریسکاٹ کا کہنا ہے کہ شہزادہ ہیری شاہی ذمہ داریاں ادا نہ کرنے کے باوجود شاہی خاندان کے رکن رہیں گے۔
ان کے مطابق بنیادی حقیقت یہ ہے کہ شہزادہ ہیری بادشاہ چارلس کے بیٹے ہیں اور یہ تعلق کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی موجودگی اور سرگرمیاں شاہی خاندان سے مکمل طور پر الگ نہیں سمجھی جاسکتیں۔
شاہی خاندان کی روزمرہ سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ
شاہی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیری اور میگھن کی واپسی سے شاہی خاندان کی روزمرہ سرگرمیوں سے توجہ ہٹنے کا امکان موجود ہے۔ شہزادہ ہیری جہاں بھی جائیں گے وہاں میڈیا اور عوام کی توجہ ان کی جانب مرکوز ہونے کا امکان رہے گا۔
کریگ پریسکاٹ کے مطابق سرکاری طور پر صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی لیکن شہزادہ ہیری اپنی موجودگی کی وجہ سے توجہ ضرور حاصل کریں گے۔ اس سے شاہی خاندان کی جانب سے انجام دی جانے والی دیگر سرگرمیاں پس منظر میں جاسکتی ہیں۔
ان کے خیال میں بکنگھم پیلس اور شہزادہ ہیری اور میگھن کے درمیان کسی نہ کسی سطح پر رابطہ برقرار رہنا ضروری ہوسکتا ہے تاکہ ممکنہ غلط فہمیوں اور غیر ضروری تنازعات سے بچا جاسکے۔
واپسی کو ممکنہ نئے بحران کا نقطۂ آغاز قرار دے دیا گیا
شاہی مورخ جسٹن وووک نے ہیری اور میگھن کی واپسی کو بادشاہت کے لیے ممکنہ نئے بحران کا نقطۂ آغاز قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اب بہت کچھ اس بات پر منحصر ہوگا کہ محل اور خود ہیری اور میگھن اس نئی صورت حال کو کس طرح سنبھالتے ہیں۔
شاہی محل کی جانب سے پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کیا جاچکا ہے کہ شہزادہ ہیری اور میگھن فعال شاہی ارکان نہیں ہیں اور ان کی نجی زندگی کے بارے میں محل کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔
اس صورت حال میں دونوں کی اپنی سرگرمیاں خاص اہمیت اختیار کرجاتی ہیں۔ اگر ان کی برطانیہ میں موجودگی کے دوران کسی معاملے پر اختلاف یا تنازع پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات ایک مرتبہ پھر شاہی خاندان تک پہنچ سکتے ہیں۔
ماضی میں شاہی خاندان پر کھلی تنقید
شہزادہ ہیری اور میگھن کی شاہی خاندان سے علیحدگی کے بعد ان کے اور خاندان کے دیگر افراد کے درمیان فاصلے نمایاں ہوگئے تھے۔ اس دوران دونوں کی جانب سے شاہی خاندان اور شاہی ادارے کے حوالے سے متعدد اہم بیانات سامنے آئے۔
میگھن نے معروف امریکی میزبان اوپرا ونفری کو دیے گئے انٹرویو میں شاہی زندگی کے اپنے تجربات کے بارے میں گفتگو کی۔ اس کے بعد شہزادہ ہیری اور میگھن کی زندگی اور شاہی خاندان کے ساتھ تعلقات پر مبنی دستاویزی سلسلہ بھی سامنے آیا۔
شہزادہ ہیری نے اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب بھی شائع کی جس میں شاہی خاندان کے اندرونی معاملات اور خاندان کے بعض افراد کے ساتھ اپنے تعلقات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ان واقعات نے شاہی خاندان اور ہیری اور میگھن کے درمیان پہلے سے موجود فاصلے کو مزید نمایاں کردیا تھا۔
تاہم حالیہ عرصے میں دونوں کی جانب سے شاہی خاندان کے خلاف کسی نئی عوامی تنقید کا سلسلہ دکھائی نہیں دیا۔ خاص طور پر بادشاہ چارلس کے ساتھ تعلقات میں کسی حد تک بہتری کے اشارے سامنے آئے ہیں۔
بادشاہ چارلس اور ملکہ کیملا سے نجی ملاقات
شہزادہ ہیری اور میگھن اپنے دونوں بچوں شہزادہ آرچی اور شہزادی للی بیٹ کے ہمراہ گزشتہ ماہ برطانیہ میں قیام کے دوران بادشاہ چارلس اور ملکہ کیملا سے نجی طور پر مل چکے ہیں۔ یہ ملاقات ان کی برطانیہ واپسی کی خبر سامنے آنے سے پہلے ہوئی تھی۔
آئینی امور کے ماہر کریگ پریسکاٹ کے مطابق ذاتی سطح پر یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ بادشاہ چارلس اپنے بیٹے اور اپنے پوتے پوتی سے ملاقات کرنا چاہتے ہوں گے۔ ان کے مطابق ملکہ کیملا کے لیے بھی یہ ملاقات اہم ہوسکتی ہے۔
تاہم اس معاملے میں ایک پیچیدگی بھی موجود ہے۔ شہزادہ ہیری نے اپنی یادداشتوں میں ملکہ کیملا کے بارے میں بھی تنقیدی گفتگو کی تھی۔ اسی وجہ سے شاہی ماہرین کے نزدیک ہیری کی واپسی کے بعد بادشاہ چارلس اور ملکہ کیملا کے ساتھ تعلقات کی نوعیت خاصی دلچسپی کا باعث بن سکتی ہے۔
شہزادہ ولیم کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے آثار نہیں
شہزادہ ہیری کی اپنے بڑے بھائی شہزادہ ولیم کے ساتھ کشیدہ تعلقات بھی اس پوری صورت حال کا اہم پہلو ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق دونوں بھائیوں کے درمیان دوری کم ہونے کے واضح آثار سامنے نہیں آئے۔
ہیری اور میگھن کی برطانیہ واپسی کے بعد میڈیا کی توجہ اس بات پر بھی مرکوز ہوگئی ہے کہ شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیتھرین اس نئی صورت حال کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔
تاہم جسٹن وووک کے مطابق اس حوالے سے شہزادہ ولیم اور کیتھرین کی جانب سے کسی واضح بیان کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر خاندان کے کسی فرد کی جانب سے کوئی بات کہی جاتی ہے تو لوگ اس کے مختلف مطلب نکالنے اور اس کا تجزیہ کرنے لگیں گے۔
شاہی خاندان کے لیے نئی آزمائش
شہزادہ ہیری اور میگھن کی برطانیہ واپسی نے ایک مرتبہ پھر شاہی خاندان کو عوامی توجہ کے مرکز میں لاکھڑا کیا ہے۔ دونوں اب فعال شاہی ارکان نہیں ہیں لیکن شہزادہ ہیری کا بادشاہ چارلس کے بیٹے کی حیثیت سے شاہی خاندان سے تعلق برقرار ہے۔
مزید پڑھیں :
سرکاری سکیورٹی نہ فراہم کرنے کا معاملہ ، شہزادہ ہیری مقدمہ ہا رگئے
ماہرین کے مطابق اصل چیلنج یہ ہوگا کہ شاہی محل اور ہیری اور میگھن کے درمیان تعلقات کس انداز میں آگے بڑھتے ہیں۔ ماضی کی تلخیوں کے باوجود حالیہ عرصے میں بادشاہ چارلس کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے اشارے سامنے آنا ایک مختلف صورت حال کی جانب اشارہ کرتا ہے۔
تاہم شہزادہ ولیم کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے واضح آثار نہ ہونا اور ماضی میں شاہی خاندان کے حوالے سے سامنے آنے والی تنقید اس واپسی کو اب بھی حساس معاملہ بناتی ہے۔
شاہی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے عرصے میں ہیری اور میگھن کا طرز عمل اور شاہی خاندان کا ردعمل اس بات کا تعین کرے گا کہ ان کی واپسی محض ایک خاندانی تبدیلی ثابت ہوتی ہے یا واقعی برطانوی بادشاہت کے لیے ایک نئے بحران کا سبب بنتی ہے۔
