اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )یورپی یونین نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر غزہ میں جنگ بندی کے اہداف حاصل نہ ہوئے اور انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں برقرار رہیں، تو اسرائیل پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق، یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس (Kaja Kallas) نے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’’جنگ بندی ضرور نافذ ہوئی ہے، مگر اسرائیل پر پابندیوں کا خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’’جب تک غزہ میں زمینی حقائق میں واضح اور دیرپا بہتری نہیں آتی، یورپی یونین اسرائیل پر ممکنہ معاشی اور سفارتی اقدامات کے لیے تیار رہے گی۔‘‘
کایا کالاس کے مطابق، یورپی یونین اسرائیل سے یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ جنگ بندی کے حقیقی مقاصد حاصل کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے، جن میں درج ذیل امور شامل ہیں غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی میں اضافہ ، فلسطینی محصولات کی واپسی اور منتقلی کی بحالی ، صحافیوں کو رپورٹنگ کی آزادی ،غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) کی رجسٹریشن اور ان کے کام میں آزادی
یورپی یونین نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ اسرائیل اب تک غزہ میں انسانی امداد کے داخلے کو روک رہا ہے، اور اگر صورتحال یہی رہی تو غزہ امداد پر پابندی ختم کرنے کا بل جلدی منظور کیا جا سکتا ہے۔
یورپی کمیشن کی صد راُرسلا فان ڈیر لیئن (Ursula von der Leyen) نے یورپی پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل کے خلاف ممکنہ پابندیوں کے ساتھ ساتھ ایک "فلسطینی امدادی فنڈ” قائم کرنے کی تیاری بھی کی جا رہی ہے تاکہ غزہ کی تباہ حال معیشت کو سنبھالا جا سکے۔
قابلِ ذکر ہے کہ جنگ بندی سے قبل یورپی یونین نے اسرائیل کے بعض وزراء کو بلیک لسٹ کرنے، تجارتی تعلقات منقطع کرنے اور مالیاتی پابندیاں عائد کرنے کی تجاویز تیار کر لی تھیں، تاہم امریکہ کی ثالثی سے جنگ بندی طے پانے کے بعد ان تجاویز پر عملدرآمد عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔یورپی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ چند ہفتوں میں اسرائیل انسانی ہمدردی کے اقدامات نہیں کرتا تو یورپی یونین کی پابندیوں کا عمل دوبارہ شروع ہو سکتا ہے، جس کے سیاسی اثرات اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر گہرے ہوں گے۔