فلائی دبئی واقعہ ایران سے جڑا تو سخت کارروائی کریں گے، ٹرمپ کی دھمکی

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر رواں ہفتے پیش آنے والے فلائی دبئی کے واقعے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو تہران کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی جائے گی۔

ٹرمپ نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب فلائی دبئی کی ایک پرواز کے دوران کپتان پر چاقو سے حملے کے واقعے کے سلسلے میں شریک پائلٹ کے ممکنہ پس منظر اور کسی بیرونی تعلق کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔

کوپائلٹ پر سوال

امریکی صدر نے اماراتی ایئرلائن فلائی دبئی کی پرواز میں کپتان پر چاقو سے حملہ کرنے والے شریک پائلٹ کو ایران سے جوڑنے کی کوشش کی۔

ٹرمپ نے کہا کہ انہیں واقعے سے متعلق بریفنگ دی گئی ہے اور انہیں بتایا گیا ہے کہ واقعے میں ملوث کوپائلٹ کا ایران سے تعلق ہو سکتا ہے۔

ایران سے تعلق کا دعویٰ

صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ آیا ایرانی پاسداران انقلاب نے مبینہ طور پر کوپائلٹ کو یہ کارروائی کرنے کے لیے بھیجا تھا یا وہ خود ہی انتہاپسندی کی طرف مائل ہوا۔

اس پر ٹرمپ نے کہا کہ دونوں امکانات میں سے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تحقیقات کے نتیجے میں ایران کا اس واقعے سے تعلق سامنے آیا تو ایران کو سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران کے خلاف شدید فوجی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر تہران اس واقعے سے منسلک پایا گیا تو ایران پر بہت سخت حملہ کیا جائے گا۔

نیتن یاہو کا محتاط مؤقف

اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اس معاملے پر محتاط مؤقف اختیار کیا تھا۔نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ فلائی دبئی کے کوپائلٹ کا کسی بھی طرح ایران سے تعلق ہے۔

اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واقعے میں کوپائلٹ کے ممکنہ ایرانی تعلق کے بارے میں حتمی طور پر کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا تھا۔

تحقیقات کا معاملہ

واقعے کے حوالے سے سامنے آنے والی معلومات کی بنیاد پر کوپائلٹ کے پس منظر اور ممکنہ روابط سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں، تاہم ایران سے تعلق کے بارے میں حتمی تصدیق سامنے آنے سے پہلے اس معاملے کی مزید تحقیقات درکار ہیں۔

ٹرمپ نے تاہم ممکنہ ایرانی تعلق کو اپنی گفتگو میں نمایاں کرتے ہوئے تہران کے خلاف سخت ردعمل کا انتباہ دیا ہے۔

تیل کی قیمتوں پر گفتگو

امریکی صدر نے ایران سے متعلق صورتحال کے ساتھ عالمی تیل کی قیمتوں پر بھی بات کی۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران کا معاملہ ختم ہوتے ہی تیل کی قیمتیں نیچے آنا شروع ہو جائیں گی۔ ان کے مطابق یہ معاملہ تقریباً ختم ہونے کے قریب ہے۔

یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ کی کینیڈا پر لفظی یلغار تیز، تجارتی جنگ میں نئی پابندیاں نافذ

انہوں نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا کہ امریکا اس وقت جنگ سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیل وہاں سے نکال رہا ہے۔

ایران کے لیے سخت مؤقف

ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنے مؤقف کو مزید سخت کرتے ہوئے کہا کہ تہران کے پاس دو راستے ہیں۔

ان کے مطابق ایران یا تو ایک انتہائی منصفانہ معاہدے پر دستخط کرے گا یا پھر اس کا وجود مزید باقی نہیں رہے گا۔

کشیدگی میں اضافہ

ٹرمپ کے تازہ بیانات ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔ فلائی دبئی کے واقعے میں ممکنہ ایرانی تعلق کا معاملہ ابھی حتمی طور پر ثابت نہیں ہوا، تاہم امریکی صدر نے اس امکان کو ایران کے خلاف سخت کارروائی سے جوڑ دیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے یہ کہنا کہ کوپائلٹ کے ایران سے تعلق کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہے، اس معاملے میں موجود غیر یقینی صورتحال کو بھی واضح کرتا ہے۔

ٹرمپ نے ایک طرف ممکنہ ایرانی تعلق کی صورت میں سخت فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ معاملے کے جلد خاتمے اور تیل کی قیمتوں میں کمی کی توقع بھی ظاہر کی ہے۔

ہمیں فالو کریں

[uw_related_posts]