مدینہ پاور اسٹیشن پر حوثی حملے کی شدید مذمت، پاکستان کا سعودی عرب سے مکمل اظہارِ یکجہتی

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستان نے سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ میں بجلی کی ترسیل کے نظام پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور مقدس مقامات کے تقدس کے تحفظ کے عزم کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

مدینہ میں حملہ

دفتر خارجہ کے مطابق حوثی ملیشیا نے 29 ستمبر کو مدینہ منورہ میں ایک بجلی کے ترسیلی اسٹیشن کو نشانہ بنایا۔ یہ اسٹیشن مسجد نبوی ﷺ کو بجلی کی فراہمی کے سول نظام سے منسلک ہے۔

پاکستان نے اس حملے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقدس شہر میں بجلی کی فراہمی کے نظام کو نشانہ بنانا انتہائی حساس معاملہ ہے اور اس سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

مسجد نبوی ﷺ کا معاملہ

وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ مسجد نبوی ﷺ سمیت مقدس مقامات سے متعلق کسی بھی بنیادی شہری نظام کو نشانہ بنانا قابل قبول نہیں ہو سکتا۔

بیان میں کہا گیا کہ دو مقدس مساجد اور وہاں موجود زائرین، نمازیوں اور عازمین کی حفاظت اور احترام ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

پاکستان نے اس حوالے سے مقدس مقامات کی حرمت اور وہاں موجود افراد کے تحفظ کو بنیادی اہمیت قرار دیا ہے۔

حملے فوری روکنے کا مطالبہ

ترجمان دفتر خارجہ نے حوثی ملیشیا سے ایسے حملے فوری اور غیر مشروط طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان کے مطابق مقدس مقامات اور ان سے منسلک بنیادی شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملے نہ صرف انسانی اور مذہبی جذبات کو متاثر کرتے ہیں بلکہ خطے میں امن و سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں۔

سعودی عرب سے اظہار یکجہتی

پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مشکل حالات میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :مدینہ منورہ کھجور بازار کی فروخت میں اضافہ ، عجوہ، صفاوی اور صقعی سرفہرست

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مقدس مقامات کے تقدس کے تحفظ کے لیے بھی اپنی حمایت جاری رکھے گا۔

عازمین کا تحفظ

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب میں موجود دونوں مقدس مساجد اور وہاں آنے والے زائرین اور عازمین کا تحفظ انتہائی اہم ہے۔

پاکستان نے سعودی عرب کی ان کوششوں کی حمایت کی ہے جن کا مقصد مقدس مساجد، شہریوں اور مختلف ممالک سے آنے والے عازمین کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ مقدس مقامات پر آنے والے مسلمان دنیا کے مختلف حصوں سے عبادت اور زیارت کے لیے سعودی عرب پہنچتے ہیں، اس لیے ان کی حفاظت ایک اہم ذمہ داری ہے۔

خطے کے امن کا مسئلہ

پاکستان نے کہا کہ ایسے حملے صرف ایک مخصوص تنصیب یا علاقے تک محدود معاملہ نہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات پورے خطے کے امن و سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔

دفتر خارجہ کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایسے اقدامات سے گریز ضروری ہے جو مزید عدم استحکام پیدا کریں۔

پاکستان نے تمام متعلقہ فریقوں سے خطے میں امن، استحکام اور شہریوں کے تحفظ کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

پاکستان کا اصولی مؤقف

وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنی یکجہتی کے عزم پر قائم ہے اور سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور مقدس مقامات کے احترام کے حوالے سے اپنے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

پاکستان نے واضح کیا کہ مقدس مقامات کا تقدس پوری مسلم دنیا کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے اور ان کے تحفظ سے متعلق کسی بھی خطرے پر تشویش کا اظہار کیا جائے گا۔

امن کی کوششیں جاری

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے کوششیں کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی ان کوششوں کو جاری رکھے گا۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے کشیدگی کم کرنا، حملوں کا سلسلہ روکنا اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

غیر مشروط روک تھام

دفتر خارجہ نے ایک مرتبہ پھر حوثی ملیشیا کے حملوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر روکنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مقدس مقامات، شہری تنصیبات اور وہاں موجود افراد کو کسی بھی قسم کے خطرے سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دونوں مقدس مساجد کے تحفظ، زائرین اور عازمین کی سلامتی اور خطے میں امن کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

پاکستان کے اس مؤقف میں سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کے ساتھ ساتھ مقدس مقامات کے تقدس کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔

ہمیں فالو کریں

[uw_related_posts]