مسجد الحرام سے خودکش بمبار کی گرفتاری کی تردید، خوف و ہراس پھیلانے والا شخص گرفتار

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)حرمین شریفین کے حکام نے مسجد الحرام سے خودکش بمبار کی گرفتاری سے متعلق پھیلنے والی اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مسجد الحرام سے کسی خودکش بمبار کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

حکام کے مطابق مسجد الحرام میں پیش آنے والے واقعے کو سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر غلط انداز میں پیش کیا گیا، جس کے باعث خودکش بمبار کی گرفتاری کی افواہ پھیل گئی۔

اصل واقعہ کیا تھا؟

حرمین شریفین کے حکام نے بتایا کہ مسجد الحرام میں سکیورٹی اہلکاروں نے ایک ایسے شخص کو حراست میں لیا تھا جو وہاں خوف و ہراس پھیلا رہا تھا اور زائرین کو ہراساں کر رہا تھا۔

حکام کے مطابق مذکورہ شخص کی سرگرمیوں کے باعث مسجد الحرام میں موجود زائرین میں تشویش پیدا ہوئی، جس پر سکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا۔

سکیورٹی اہلکاروں کی کارروائی

مسجد الحرام میں زائرین کی حفاظت اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے تعینات سکیورٹی اہلکاروں نے صورتحال کو قابو میں کیا اور خوف و ہراس پھیلانے والے شخص کو حراست میں لے لیا۔

حکام نے واضح کیا کہ گرفتار شخص کے خلاف کارروائی خودکش حملے یا خودکش بمبار سے متعلق نہیں تھی بلکہ اس کا تعلق مسجد الحرام میں خوف و ہراس پھیلانے اور زائرین کو ہراساں کرنے سے تھا۔

پبلک پراسیکیوشن کے حوالے

حکام کے مطابق گرفتار شخص کے خلاف ضروری قانونی کارروائی مکمل کی گئی، جس کے بعد اسے مزید قانونی کارروائی کے لیے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا۔

متعلقہ حکام نے واقعے کے حوالے سے صورتحال واضح کرتے ہوئے کہا کہ مسجد الحرام سے خودکش بمبار کی گرفتاری کی اطلاعات درست نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :حرمین شریفین پاکستان کی ریڈ لائن ہیں،سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا،شہباز شریف

افواہ پھیلنے کی وجہ

مسجد الحرام میں ایک شخص کی گرفتاری کے واقعے کو غلط معلومات کے ساتھ جوڑ کر خودکش بمبار کی گرفتاری قرار دیا گیا، جس کے نتیجے میں زائرین اور عوام میں تشویش پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوا۔

حرمین شریفین کے حکام کی وضاحت کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ مسجد الحرام میں گرفتار کیا جانے والا شخص خودکش بمبار نہیں تھا بلکہ وہ خوف و ہراس پھیلا رہا تھا اور زائرین کو ہراساں کر رہا تھا۔

صورتحال واضح

حکام کے مطابق مسجد الحرام سے خودکش بمبار کی گرفتاری کا دعویٰ غلط ہے۔ اصل واقعہ ایک ایسے شخص کی گرفتاری سے متعلق ہے جس نے مسجد الحرام میں خوف و ہراس پھیلانے اور زائرین کو ہراساں کرنے کی کوشش کی۔

گرفتار شخص کو قانونی کارروائی کے بعد پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ حکام نے خودکش بمبار کی گرفتاری سے متعلق پھیلنے والی اطلاعات کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔

ہمیں فالو کریں

[uw_related_posts]