اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ صوبوں کے معاملے پر مسلم لیگ ن مکمل طور پر ایک پیج پر ہے اور پارٹی کے اندر اس حوالے سے کسی قسم کا اختلاف موجود نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن ایک مضبوط اور متحد سیاسی جماعت ہے اور مختلف ادوار میں اسے توڑنے کی کوششیں کرنے والے بہت سے لوگ آئے اور چلے گئے، لیکن پارٹی آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔
مریم نواز نے یہ بات لندن سے پاکستان روانگی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، جہاں وہ اپنی بیٹی کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے موجود تھیں۔ گریجویشن تقریب میں شرکت کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب لندن میں اپنی رہائش گاہ سے پاکستان کے لیے روانہ ہوگئیں۔
پارٹی مؤقف واضح
میڈیا سے گفتگو کے دوران مریم نواز سے مسلم لیگ ن کے اندرونی معاملات اور صوبوں کے حوالے سے سامنے آنے والی مختلف سیاسی قیاس آرائیوں کے بارے میں سوال کیا گیا۔ اس پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے واضح کیا کہ پارٹی کے اندر اس معاملے پر کوئی اختلاف نہیں اور مسلم لیگ ن صوبوں کے معاملے پر ایک ہی مؤقف رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے اندر اختلافات کی باتیں درست نہیں اور پارٹی قیادت اس معاملے پر متحد ہے۔ مریم نواز کے مطابق سیاسی جماعتوں میں مختلف آرا کا اظہار معمول کی بات ہوسکتی ہے، تاہم مسلم لیگ ن کے بنیادی سیاسی مؤقف میں کوئی تقسیم نہیں۔
’پارٹی کو توڑنے والے آئے اور چلے گئے‘
مریم نواز کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کو توڑنے کی کوششیں ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں۔ ان کے بقول، ’’مسلم لیگ ن کو توڑنے والے کئی آئے اور کئی چلے گئے، پارٹی اپنی جگہ موجود ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس بیان کے ذریعے پارٹی کے اندر کسی ممکنہ دھڑے بندی یا اختلاف کی قیاس آرائیوں کو مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن نے کئی مشکل سیاسی ادوار دیکھے ہیں، لیکن ان تمام حالات کے باوجود جماعت اپنا سیاسی وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔
صوبوں کا معاملہ
صوبوں کے معاملے پر مریم نواز کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں انتظامی اور سیاسی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام سمیت مختلف تجاویز پر بحث جاری ہے۔ مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے وقتاً فوقتاً نئے صوبوں کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ بعض رہنما انتظامی امور بہتر بنانے کے لیے موجودہ صوبائی ڈھانچے میں تبدیلی کی حمایت کرتے ہیں۔
مریم نواز نے تاہم اپنی گفتگو میں مسلم لیگ ن کے اندر کسی اختلاف کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ پارٹی اس معاملے پر متحد ہے۔ انہوں نے کسی اندرونی اختلاف یا اختلافی گروپ کی نشاندہی نہیں کی اور پارٹی کی قیادت کے درمیان ہم آہنگی کا پیغام دیا۔
یہ بھی پڑھیں :مارک کارنی کی جانب سے برٹش کولمبیا میں وینکوور بندرگاہ کی توسیع کے منصوبے کوآگے بڑھانے کے فیصلے نے نئی بحث چھیڑ دی
لندن کا دورہ مکمل
وزیر اعلیٰ پنجاب چند روز سے لندن میں موجود تھیں، جہاں انہوں نے اپنی بیٹی کی گریجویشن تقریب میں شرکت کی۔ خاندانی مصروفیت کے لیے لندن پہنچنے والی مریم نواز نے تقریب میں شرکت کے بعد وطن واپسی کا سفر شروع کردیا۔
لندن سے روانگی کے موقع پر میڈیا نمائندوں نے ان سے ملکی اور سیاسی معاملات سے متعلق سوالات کیے۔ مریم نواز نے مختصر گفتگو میں خاص طور پر مسلم لیگ ن کے اندرونی معاملات اور صوبوں کے معاملے پر پارٹی کے مؤقف کو واضح کیا۔
سیاسی قیادت پر اعتماد
مریم نواز کے بیان سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ مسلم لیگ ن کے اندر اہم سیاسی معاملات پر قیادت کے درمیان اختلافات نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت کو ماضی میں بھی مختلف چیلنجز کا سامنا رہا، تاہم پارٹی ان مشکلات سے نکل کر آگے بڑھتی رہی ہے۔
انہوں نے پارٹی کو توڑنے کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر وقت کے ساتھ منظر سے ہٹ گئے، جبکہ مسلم لیگ ن بدستور موجود ہے۔ ان کے اس بیان کو پارٹی کارکنوں اور حامیوں کے لیے اتحاد اور استحکام کا پیغام بھی قرار دیا جارہا ہے۔
پاکستان واپسی
لندن میں اپنی بیٹی کی گریجویشن تقریب میں شرکت مکمل کرنے کے بعد مریم نواز پاکستان کے لیے روانہ ہوگئیں۔ وطن واپسی کے بعد وہ پنجاب حکومت کے انتظامی امور اور صوبے میں جاری مختلف منصوبوں کی نگرانی دوبارہ سنبھالیں گی۔
مریم نواز کی لندن روانگی کے موقع پر ہونے والی میڈیا گفتگو میں اگرچہ مختلف سیاسی سوالات اٹھائے گئے، تاہم وزیر اعلیٰ پنجاب نے خاص طور پر مسلم لیگ ن کے اندرونی اتحاد اور صوبوں کے معاملے پر پارٹی کے مشترکہ مؤقف پر زور دیا۔
اختلافات کی تردید
مریم نواز کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن میں صوبوں کے معاملے پر کسی قسم کا اختلاف نہیں۔ ان کے مطابق پارٹی متحد ہے اور اسے تقسیم کرنے کی ماضی کی کوششیں بھی کامیاب نہیں ہوئیں۔
ان کے بیان سے واضح ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے پارٹی کے اندر اختلافات سے متعلق گردش کرنے والی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے اتحاد کو نمایاں کیا ہے۔ لندن سے پاکستان واپسی کے موقع پر دیا گیا یہ بیان ملکی سیاسی منظرنامے میں صوبوں کے حوالے سے جاری بحث کے تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے۔
