اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر مسی ساگا میں میئر کے امیدواروں کے درمیان 90 منٹ پر مشتمل انتخابی مباحثہ شہری مسائل کے بجائے امیدواروں کے درمیان ذاتی حملوں اور سخت جملوں کی وجہ سے توجہ کا مرکز بن گیا۔ موجودہ میئر کیرولین پیریش اور سابق میئر بونی کرومبی نے ایک دوسرے پر کھل کر تنقید کی اور ایک دوسرے کے کردار، کام کرنے کے انداز اور سیاسی صلاحیتوں پر سوالات اٹھائے۔
سخت جملے
مباحثے کے دوران کیرولین پیریش نے بونی کرومبی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی واپسی سے سٹی ہال کا عملہ خوفزدہ ہے۔ پیریش نے کرومبی کے لیے ’’سنہرے بالوں والی بم شیل‘‘ کا جملہ بھی استعمال کیا، جس کے بعد دونوں کے درمیان لفظی کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
کرومبی کا ردعمل
بونی کرومبی نے پیریش کے اس تبصرے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ میئر کے لیے غیر معمولی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیریش شہریوں کے ساتھ بھی اسی طرح کا غیر احترام آمیز رویہ اختیار کرتی ہیں۔
کرومبی نے کہا کہ مستقبل کے مباحثوں میں ماحول کو پرسکون رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس مرتبہ دونوں جانب سے صورتحال کچھ حد تک قابو سے باہر ہوگئی۔
ذاتی حملوں پر تنقید
مباحثے میں شریک امیدوار ایل وِن ٹیجو نے دونوں سابق میئرز کے درمیان جاری لفظی جنگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہری ذاتی حملوں سے تھک چکے ہیں۔
ان کے مطابق شہری اپنے شہر کے مستقبل کے لیے نئی اور امید پر مبنی سوچ سننا چاہتے ہیں، جبکہ موجودہ انتخابی مہم میں دو سابق میئرز ایک دوسرے پر آن لائن اور بالمشافہ حملے کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ٹیجو کی تنقید
تاہم ایل وِن ٹیجو بھی کرومبی پر تنقید سے پیچھے نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بونی کرومبی نے میئر کا عہدہ چھوڑ کر اونٹاریو لبرل پارٹی کی قیادت کے لیے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے مسی ساگا کے شہریوں کو چھوڑ دیا۔
ٹیجو کا یہ تبصرہ پیریش اور کرومبی کے درمیان ہونے والی تند و تیز گفتگو کے مقابلے میں نسبتاً نرم دکھائی دیا، کیونکہ دونوں خواتین امیدواروں نے ایک دوسرے کے کردار، کام کرنے کی صلاحیت اور سیاسی کارکردگی پر براہ راست سوالات اٹھائے۔
ڈیمرلا کا ردعمل
مباحثے میں شریک امیدوار ڈپیکا ڈیمرلا نے بعد میں کہا کہ بعض لمحات میں انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے صورتحال بچوں کے درمیان ہونے والی بحث میں تبدیل ہوگئی ہو۔
انہوں نے امیدواروں کی جانب سے ایک دوسرے پر ذاتی حملوں کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ذاتی حملے ان کا سیاسی انداز نہیں ہیں۔
تبدیلی کی ضرورت
ڈیمرلا کے مطابق مباحثے میں ہونے والی تلخ کلامی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سٹی ہال میں تبدیلی کی ضرورت پر بات ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں :لبرل پارٹی کی سابق رہنما بونی کرومبی دوبارہ مسی ساگا کی میئر بننے کی دوڑ میں شامل
ایل وِن ٹیجو نے بھی کہا کہ شہری پرانے سیاسی تنازعات اور ذاتی حملوں کے بجائے اپنے شہر کے مستقبل کے لیے واضح اور امید پر مبنی منصوبے چاہتے ہیں۔
دونوں نے اعتراف کیا
کیرولین پیریش اور بونی کرومبی دونوں نے تسلیم کیا کہ مباحثے کے دوران صورتحال بعض مواقع پر حد سے آگے بڑھ گئی تھی، تاہم دونوں نے اس کشیدگی کا ذمہ دار ایک دوسرے کو قرار دیا۔
کرومبی نے کہا کہ مباحثے کے دوران بہت سے ایسے بیانات سامنے آئے جو ان کے خیال میں نامناسب اور ذاتی نوعیت کے تھے۔
ماحول ٹھنڈا کرنے کی ضرورت
کرومبی کا کہنا تھا کہ مباحثے کے دوران آوازیں بلند ہوئیں اور امیدواروں کے جذبات بھی شدت اختیار کر گئے، اس لیے مستقبل کے مباحثوں میں سیاسی اختلافات کو ذاتی حملوں میں تبدیل ہونے سے روکنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ مباحثوں کا لہجہ زیادہ متوازن اور پرسکون ہوگا۔
انتخابی مہم میں تلخی
مسی ساگا کے میئر کے انتخاب کی مہم میں پیریش اور کرومبی کے درمیان پرانی سیاسی رقابت ایک نمایاں موضوع بن چکی ہے۔ دونوں کے درمیان اختلافات انتخابی مہم کے دوران عوامی سطح پر بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
تازہ مباحثے میں بھی شہری مسائل پر گفتگو کے ساتھ دونوں امیدواروں کے درمیان ایک دوسرے کے ماضی اور سیاسی فیصلوں پر تنقید غالب رہی۔
شہری مسائل بھی زیر بحث
اگرچہ مباحثے کے دوران ذاتی حملوں نے زیادہ توجہ حاصل کی، تاہم شہر کے انتظام، بجٹ، ٹیکس، رہائش اور دیگر بلدیاتی معاملات بھی گفتگو کا حصہ بنے۔
مباحثے میں شریک امیدواروں نے مسی ساگا کے مستقبل کے حوالے سے اپنے اپنے خیالات پیش کیے، تاہم پیریش اور کرومبی کے درمیان شدید لفظی تبادلے نے دیگر موضوعات کو بڑی حد تک پس منظر میں دھکیل دیا۔
انتخابی دوڑ جاری
مسی ساگا میں میئر کے انتخاب کی مہم جاری ہے اور امیدوار شہریوں کے سامنے اپنے پروگرام پیش کر رہے ہیں۔ تازہ مباحثے نے انتخابی دوڑ میں موجود سیاسی اختلافات اور امیدواروں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو نمایاں کر دیا ہے۔
