موخا ایئرپورٹ پر سعودی فضائی حملے، حوثیوں کی باب المندب کی جانب پیش قدمی

 اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )   سعودی عرب نے یمن کے ساحلی شہر موخا کے ہوائی اڈے پر دو فضائی حملے کیے ہیں۔ حوثی میڈیا کے مطابق سعودی جنگی طیاروں نے موخا ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا۔ حملوں کے نتیجے میں فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

موخا میں یہ فضائی کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب حوثی جنگجو بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں اور باب المندب آبنائے کے قریب واقع اہم علاقے تک پہنچ گئے ہیں۔ یمنی حکومتی ذرائع کے مطابق حوثی جنگجو باب المندب کے قریب واقع شہر ذباب تک پہنچ چکے ہیں۔

موخا پر قبضے کے بعد صورتحال میں تیزی

حوثیوں نے جمعرات کو موخا شہر پر قبضہ کیا تھا۔ اس کے بعد سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان ساحلی علاقوں میں لڑائی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے گزشتہ ہفتے سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے خلاف ایک بڑی کارروائی شروع کی تھی۔ اس کارروائی کے بعد بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں عسکری سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

موخا ایک ساحلی شہر ہے اور اس کا محل وقوع بحیرہ احمر کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔ شہر پر حوثیوں کے قبضے کے بعد خطے میں جاری کشیدگی نے ایک نئی صورت اختیار کرلی ہے۔ سعودی فضائی حملے بھی اسی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کیے گئے ہیں۔

حوثی باب المندب کے قریب ذباب تک پہنچ گئے

یمنی حکومتی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ حوثی جنگجو باب المندب آبنائے کے قریب واقع شہر ذباب تک پہنچ گئے ہیں۔ ذباب آبنائے باب المندب کے انتہائی قریب واقع ہے اور اس کے سامنے پریم کا جزیرہ موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

سعودی عرب پر حوثیوں کے تازہ میزائل و ڈرون حملے، خطے میں کشیدگی بڑھ گئی

ذرائع کے مطابق ذباب اور پریم پر کنٹرول حاصل کرنا باب المندب پر اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ حوثیوں کی اس علاقے کی جانب پیش قدمی نے بحیرہ احمر کی بحری گزرگاہ کے مستقبل کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔

باب المندب ایک اہم عالمی بحری راستہ ہے جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے۔ ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت کے لیے اس گزرگاہ کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ بڑی تعداد میں تجارتی جہاز اس راستے سے گزرتے ہیں۔

عالمی تجارت کے لیے خدشات بڑھ گئے

رپورٹ کے مطابق باب المندب سے جمعرات کو 26 تجارتی جہاز گزرے۔ یہ تعداد حالیہ اوسط کے قریب بتائی گئی ہے۔ تاہم حوثیوں کی جانب سے باب المندب کے قریب پیش قدمی نے مستقبل میں بحری آمدورفت کے حوالے سے تشویش پیدا کردی ہے۔

اگر اس اہم بحری راستے پر کسی ایک فریق کا اثر و رسوخ بڑھتا ہے تو تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔ بحیرہ احمر کے راستے سے ہونے والی عالمی تجارت پہلے ہی خطے کی کشیدہ صورتحال کے باعث دباؤ میں ہے۔

باب المندب کا راستہ ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت کے لیے اہم رابطہ فراہم کرتا ہے۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں کسی بھی بڑی عسکری تبدیلی کے اثرات صرف یمن یا قریبی ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی تجارتی سرگرمیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

خطے میں پہلے ہی کشیدگی برقرار ہے

حوثیوں کی موخا پر پیش قدمی اور باب المندب کی جانب بڑھنے کی اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے باعث اہم سمندری راستوں کو پہلے ہی خطرات لاحق ہیں۔

اس صورتحال میں باب المندب کے قریب عسکری کشیدگی میں اضافہ خطے کے لیے مزید پیچیدگیاں پیدا کرسکتا ہے۔ بحری راستوں کا تحفظ عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ سے تجارتی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔

موخا ایئرپورٹ پر سعودی فضائی حملوں اور حوثیوں کی ذباب تک پیش قدمی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یمن کے ساحلی علاقوں میں کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایک جانب سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں جبکہ دوسری جانب حوثی جنگجو باب المندب کے قریب مزید علاقوں کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں۔

باب المندب پر اثر و رسوخ کا معاملہ اہم ہوگیا

باب المندب کے قریب حوثیوں کی موجودگی نے اس اہم بحری گزرگاہ کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔ ذباب اور پریم کے علاقے پر کنٹرول کو باب المندب پر اثر و رسوخ کے لیے اہم قرار دیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :

بحیرہ احمر میں کشیدگی بڑھ گئی،سعودی اتحادی افواج کے یمن میں حوثی اہداف پرحملے

موجودہ صورتحال میں موخا سے لے کر ذباب اور باب المندب تک ساحلی علاقوں میں ہونے والی عسکری پیش رفت پر عالمی سطح پر بھی نظر رکھی جارہی ہے۔ حوثیوں کی پیش قدمی اور سعودی فضائی حملوں کے بعد آنے والے دنوں میں اس علاقے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے امکانات کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں۔

بحیرہ احمر کی بحری گزرگاہ پہلے ہی خطے میں جاری تنازعات کے باعث حساس بن چکی ہے۔ ایسے میں باب المندب کے قریب کسی بھی بڑی عسکری تبدیلی سے عالمی بحری آمدورفت اور تجارت کے حوالے سے نئے مسائل پیدا ہونے کا خطرہ موجود ہے۔

ہمیں فالو کریں

[uw_related_posts]