اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)نئی آٹو پالیسی 2026-31 کے معاملے پر آئی ایم ایف وفد کے ساتھ اقتصادی جائزہ مذاکرات میں مکمل اتفاق نہ ہو سکا، جس کے بعد عالمی مالیاتی ادارے نے پالیسی کے مسودے پر مزید اعداد و شمار اور تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
نئی آٹو پالیسی اب وفاقی کابینہ سے منظوری سے پہلے آئی ایم ایف کے ساتھ مزید مشاورت کے مرحلے سے گزرے گی اور حتمی مسودے پر دوبارہ بات چیت ہوگی۔
ٹیکس کا معاملہ
اقتصادی جائزہ مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف وفد کو آٹو پالیسی میں گاڑیوں پر عائد ٹیکس سے متعلق تجاویز پر بھی بریفنگ دی گئی۔
ذرائع کے مطابق صرف بجلی سے چلنے والی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس ایک فیصد رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح بڑھ کر 18 فیصد تک پہنچنے کی تجویز زیر غور ہے۔
برآمدات کا ہدف
مذاکرات کے دوران پاکستان کے آٹو سیکٹر کی برآمدات بڑھانے کے منصوبے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
آٹو سیکٹر کو گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنے اور مجموعی برآمدات کو تقریباً 3 ارب ڈالر سے زیادہ تک لے جانے کا ہدف دینے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
آئی ایم ایف کی رضامندی باقی
ذرائع کے مطابق آٹو پالیسی کے موجودہ مسودے پر آئی ایم ایف نے تاحال مکمل رضامندی ظاہر نہیں کی۔ پالیسی کے مختلف نکات پر مزید وضاحت اور ڈیٹا فراہم کیا جائے گا جبکہ مسودے پر دوبارہ مذاکرات بھی ہوں گے۔
اقتصادی جائزہ مذاکرات میں پالیسی کے حتمی مسودے پر آئی ایم ایف سے مشاورت مکمل کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم تمام معاملات پر اتفاق نہ ہوسکا۔
صارفین کا تحفظ
نئی آٹو پالیسی کے مسودے میں گاڑی خریدنے والے صارفین کے تحفظ کے لیے بھی اہم تجاویز شامل کی گئی ہیں۔
تجویز ہے کہ اگر صارف گاڑی بک کروانے کے بعد اس کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری مینوفیکچرنگ کمپنی پر عائد ہوگی۔ اس کے علاوہ گاڑی کی بکنگ کے وقت صارف کو متوقع ڈیلیوری کی تاریخ بتانا بھی لازمی قرار دیا جائے گا۔
قیمتیں کم کرنے کا ہدف
وزارت صنعت و پیداوار نے آٹو موبائل اور آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-31 کا حتمی مسودہ تیار کیا ہے، جس میں گاڑیوں کی قیمتیں کم کرنے، مینوفیکچرنگ کا معیار بہتر بنانے اور پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈی سے جوڑنے کے اہداف شامل ہیں۔
پالیسی میں نئی ٹیکنالوجی، جدت اور گاڑیوں میں جدید خصوصیات متعارف کرانے کے لیے صنعت میں مسابقتی ماحول پیدا کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
چھ بنیادی اصول
دستاویز کے مطابق نئی آٹو پالیسی کے لیے چھ بنیادی اصول طے کیے گئے ہیں جن پر صنعت کو مکمل عملدرآمد کرنا ہوگا۔
ان اصولوں میں گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی، معیار میں بہتری، برآمدات میں اضافہ، بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کا فروغ، نئی ٹیکنالوجی اور آٹو پارٹس کو عالمی سپلائی چین سے منسلک کرنا شامل ہے۔
آٹو پارٹس کی برآمدات
پالیسی میں آٹو پارٹس تیار کرنے والی صنعت کو عالمی سپلائی چین کا حصہ بنانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ کرکے ملک کے لیے مزید زرمبادلہ حاصل کیا جا سکے۔
اس مقصد کے لیے کمپنیوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے واضح اہداف مقرر کیے جائیں گے۔ اہداف پورے نہ ہونے کی صورت میں جرمانوں جبکہ مقررہ اہداف حاصل کرنے والی کمپنیوں کے لیے انعامات کا نظام متعارف کرانے کی تجویز بھی شامل ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ
نئی پالیسی میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے فروغ کو لازمی قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ نئی مینوفیکچرنگ میں جدت، جدید ٹیکنالوجی اور نئے فیچرز متعارف کرانے کے لیے کمپنیوں کے درمیان مسابقت بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 7 ارب ڈالر پروگرام کے نئے جائزوں پر مذاکرات شروع
کسٹم ڈیوٹی میں کمی
عام گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی آئندہ پانچ سال کے دوران 80 فیصد تک کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پالیسی میں پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں اور رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں کو بھی برابر درجہ دینے کی تجویز شامل ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس
بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کیپیٹل ویلیو ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز کے سامان پر کسٹم ڈیوٹی صرف ایک فیصد رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
آسان قرضے
الیکٹرک گاڑیوں کے خریداروں کے لیے قرض کی سہولت بڑھانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ تجویز کے مطابق قرض کی زیادہ سے زیادہ حد ایک کروڑ روپے تک بڑھائی جائے جبکہ قرض کی مدت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کی جائے۔
برآمدی اہداف
آٹو پالیسی میں گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی برآمدات کے لیے مرحلہ وار اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ 2026-27 میں کاروں کی پیداوار یا فروخت کے حوالے سے چار فیصد برآمدی ہدف مقرر کرنے جبکہ 2030-31 تک اسے 20 فیصد تک لے جانے کی تجویز ہے۔
آٹو پارٹس بنانے والی کمپنیوں کے لیے بھی برآمدی ہدف پانچ فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
معیار بہتر بنانے کا منصوبہ
دستاویز میں گاڑیوں کے معیار کو عالمی سطح تک پہنچانے کے لیے بین الاقوامی معیارات اپنانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ 2025 میں 62 عالمی معیارات اپنانے اور 2029 تک مزید 45 معیارات متعارف کرانے کی تجویز شامل ہے۔
17 ارب ڈالر کی بچت
دستاویز کے مطابق نئی آٹو پالیسی کے ذریعے 2026 سے 2031 کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 17 ارب ڈالر کا زرمبادلہ بچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
پالیسی میں مقامی پیداوار بڑھانے، درآمدی انحصار کم کرنے، برآمدات میں اضافہ کرنے اور بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے شعبے کو وسعت دینے کے اقدامات شامل ہیں۔
تاہم پالیسی کے حتمی نفاذ سے پہلے آئی ایم ایف کے ساتھ مزید مشاورت اور مطلوبہ اعداد و شمار کی فراہمی ضروری ہوگی، کیونکہ موجودہ مسودے کے تمام نکات پر ابھی مکمل اتفاق نہیں ہوسکا۔
