اردو ورلڈ کینیڈا (ویب نیوز ) قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی معاملات اپنی جگہ لیکن عمران خان کی صحت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
وسیم اکرم نے کہا کہ وہ اپنے سابق کپتان اور رہنما کو بہت یاد کرتے ہیں اور گزشتہ تین برس سے ان سے براہ راست بات نہیں ہوئی تاہم وہ آج بھی انہیں اپنا دوست اور رہنما سمجھتے ہیں۔
عمران خان سے تین برس سے بات نہیں ہوئی
ایک غیر ملکی میڈیا ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں وسیم اکرم نے عمران خان کے ساتھ اپنے تعلق اور موجودہ صورتحال کے حوالے سے گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تقریباً تین برس سے ان کی عمران خان سے بات چیت نہیں ہوئی۔
سابق کپتان کے مطابق اس طویل وقفے کے باوجود عمران خان کے ساتھ ان کا تعلق اور احترام اپنی جگہ موجود ہے۔ انہوں نے عمران خان کو اپنا دوست اور رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں یاد کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :
ربادا بھی وسیم اکرم کے مداح، 1992 کا جادوئی اسپیل یادگار قرار دیدیا
وسیم اکرم اور عمران خان کا تعلق کرکٹ کے میدان سے بھی جڑا رہا ہے۔ عمران خان کی قیادت میں پاکستان نے عالمی کرکٹ میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور وسیم اکرم نے بھی ان کی قیادت میں کھیلتے ہوئے اپنے کرکٹ کیریئر میں اہم مرحلے طے کیے۔ تاہم موجودہ گفتگو میں وسیم اکرم نے زیادہ توجہ عمران خان کی صحت سے متعلق اپنی تشویش پر مرکوز رکھی۔
صحت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے
وسیم اکرم نے واضح کیا کہ سیاسی معاملات اپنی جگہ ہیں لیکن کسی بھی شخص کی صحت ایک الگ اور اہم معاملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے حکومت کی جانب سے بیانات سامنے آنے کے باوجود انہیں صورتحال پر تشویش ہے۔ وسیم اکرم نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ جیل میں سابق وزیر اعظم کی اصل حالت کیا ہے اور ان کی صحت کے حوالے سے صورتحال کس نوعیت کی ہے۔
سابق کپتان کا کہنا تھا کہ صحت کے معاملے میں واضح صورتحال سامنے آنا ضروری ہے۔ ان کی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سیاسی بحث سے قطع نظر عمران خان کی طبی حالت کے حوالے سے اطمینان چاہتے ہیں۔
حکومت کے بیانات کے باوجود تشویش برقرار
وسیم اکرم نے کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق حکومتی بیانات کے باوجود ان کی تشویش ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ عمران خان کو مناسب طبی سہولیات میسر ہونی چاہئیں اور ان کی صحت کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
سابق کپتان نے عمران خان کی موجودہ صورتحال کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق سیاسی معاملات اپنی جگہ لیکن صحت کے معاملے کو سیاسی اختلافات سے الگ دیکھنے کی ضرورت ہے۔
وسیم اکرم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمران خان کی صحت کے حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کے بیان نے اس معاملے پر کرکٹ سے وابستہ شخصیات کی توجہ بھی نمایاں کر دی ہے۔
کرکٹ کی دنیا سے دیگر آوازیں بھی سامنے آئیں
عمران خان کی صحت کے حوالے سے حالیہ دنوں میں کرکٹ کی دنیا سے دیگر اہم آوازیں بھی سامنے آئی ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق دنیا بھر سے 22 سابق کپتانوں نے پاکستانی حکومت سے عمران خان کے بنیادی حقوق اور طبی سہولیات یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔
ان سابق کپتانوں کی جانب سے بھی اس معاملے میں تشویش ظاہر کی گئی اور عمران خان کے بنیادی حقوق اور صحت سے متعلق سہولیات یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔
مزید پڑھیں :
ورلڈ کپ؛پاکستانی ٹیم وینیوز کے بجائے کارکردگی پر توجہ دے، وسیم اکرم
یہ پیش رفت اس لحاظ سے اہم ہے کہ عمران خان خود بھی کرکٹ کی دنیا سے ایک مضبوط تعلق رکھتے ہیں۔ وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان رہے اور ان کی قیادت میں پاکستان نے عالمی سطح پر ایک بڑی کامیابی حاصل کی تھی۔ اسی پس منظر میں کرکٹ سے وابستہ شخصیات کی جانب سے ان کی صحت کے معاملے پر اظہار تشویش خصوصی توجہ کا باعث بنا ہے۔
پیٹ کمنز نے بھی تشویش ظاہر کی
موجودہ آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز کی جانب سے بھی عمران خان کی صحت پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس طرح پاکستان اور عالمی کرکٹ سے وابستہ کئی شخصیات کی توجہ بھی عمران خان کی صحت کے معاملے کی جانب مبذول ہوئی ہے۔
وسیم اکرم نے اپنے انٹرویو میں عمران خان کے ساتھ اپنے ذاتی تعلق کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ گزشتہ تین برس سے ان کی عمران خان سے بات نہیں ہوئی تاہم وہ آج بھی انہیں اپنا دوست اور رہنما سمجھتے ہیں۔
سیاسی اختلافات سے ہٹ کر انسانی پہلو پر زور
وسیم اکرم کی گفتگو کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ انہوں نے سیاسی معاملات اور صحت کے معاملے کو الگ رکھنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ موجود ہو سکتے ہیں لیکن صحت کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت یا سمجھوتے کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
ان کے مطابق عمران خان کی صحت کے بارے میں حقیقی صورتحال معلوم ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے دیے جانے والے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے باوجود انہیں سابق وزیر اعظم کی صحت کے حوالے سے تشویش ہے۔
وسیم اکرم کا یہ مؤقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عمران خان کے ساتھ ان کا تعلق محض کرکٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ انہیں اپنے لیے ایک دوست اور رہنما کی حیثیت سے بھی دیکھتے ہیں۔
عمران خان کو اپنا دوست اور رہنما سمجھتے ہیں
وسیم اکرم نے اپنے انٹرویو میں عمران خان کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں بہت یاد کرتے ہیں۔ تین برس سے براہ راست رابطہ نہ ہونے کے باوجود سابق کپتان نے عمران خان کے ساتھ اپنے تعلق کو برقرار قرار دیا۔
انہوں نے عمران خان کو اپنا سابق کپتان اور رہنما قرار دیا اور ان کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ وسیم اکرم کی گفتگو میں سیاسی معاملات پر تبصرے کے بجائے سابق کپتان کی طبی حالت کو بنیادی اہمیت حاصل رہی۔
صحت کا معاملہ سیاسی اختلافات سے بالاتر
وسیم اکرم کے بیان کا مرکزی نکتہ یہی رہا کہ سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے عمران خان کی صحت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ صحت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
دوسری جانب 22 سابق کپتانوں کی جانب سے بھی عمران خان کے بنیادی حقوق اور طبی سہولیات یقینی بنانے کی اپیل سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ کرکٹ کے حلقوں میں بھی زیر بحث ہے۔ آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز کی جانب سے تشویش کے اظہار نے بھی اس معاملے کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
وسیم اکرم کے مطابق عمران خان کی موجودہ صحت کے بارے میں مزید واضح معلومات سامنے آنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ تین برس سے عمران خان سے بات نہیں کر سکے لیکن اس کے باوجود ان کے لیے سابق کپتان کی صحت ایک اہم معاملہ ہے۔
یوں وسیم اکرم نے سیاسی معاملات سے الگ رہتے ہوئے عمران خان کی صحت کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کی صحت کے معاملے میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
