ٹرمپ کے ’لیک امریکا‘ پر کینیڈین کا دلچسپ ردعمل، مذاق سے ماحولیات کے تحفظ تک سفر

 اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی کے دوران جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے اسے ’’لیک امریکا‘‘ قرار دینے کی بات بظاہر ایک سیاسی اور علامتی معاملہ تھی۔ تاہم کینیڈا میں اس بیان نے ایک ایسا دلچسپ ردعمل بھی پیدا کیا جس نے سیاسی طنز کو ماحولیاتی مہم میں تبدیل کر دیا۔

اونٹاریو کے شہر کلیرنگٹن سے تعلق رکھنے والے میونسپل کونسلر لائیڈ رینگ نے ٹرمپ کے بیان کو سنجیدہ سیاسی بحث کے بجائے مزاحیہ انداز میں لینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے جھیل اونٹاریو سے متعلق ایسے کپڑے اور ٹوپیاں تیار کرنے کا خیال پیش کیا جن پر پانی کے اس تاریخی نام سے جڑی عبارتیں درج ہوں۔ بعد میں یہی خیال جھیل کے تحفظ کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم بن گیا۔

رینگ کا تعلق ایسے علاقے سے ہے جہاں جھیل اونٹاریو مقامی زندگی کا نمایاں حصہ ہے۔ ان کے مطابق جھیل ان کے لیے محض نقشے پر موجود پانی کا ایک ذخیرہ نہیں بلکہ کمیونٹی کے ماحول اور روزمرہ زندگی سے جڑی ہوئی جگہ ہے۔

ایک جملہ جس نے کاروباری خیال کو جنم دیا

ٹرمپ کی جانب سے جھیل اونٹاریو کو ’’لیک امریکا‘‘ کہنے کی تجویز سامنے آنے پر رینگ نے اسے مزاحیہ انداز میں جواب دینے کا سوچا۔ ان کے ذہن میں ایک ایسا جملہ آیا جسے بعد میں انہوں نے ٹی شرٹس اور دیگر اشیا پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے ’’ہائیڈرونمز‘‘ کی اصطلاح استعمال کی۔ ہائیڈرونم سے مراد کسی آبی جسم کا باقاعدہ نام ہوتا ہے۔ اس طرح ان کا پیغام بنیادی طور پر یہ تھا کہ ان کے لیے جھیل کا نام وہی ہے جو برسوں سے چلا آ رہا ہے یعنی جھیل اونٹاریو۔

یہ خیال لوگوں کو پسند آیا اور رینگ کے مطابق انہیں اس پر اب تک زیادہ تر ہنسی اور مثبت ردعمل ہی ملا۔ تاہم اس معاملے نے انہیں ایک اور سوال پر غور کرنے پر مجبور کیا کہ اگر جھیل اونٹاریو کے نام کے گرد پیدا ہونے والی دلچسپی کو کسی مثبت مقصد کے لیے استعمال کیا جائے تو کیا حاصل کیا جا سکتا ہے؟

 سیاست سے ماحولیات تک توجہ کا رخ

رینگ نے کینیڈین غیر منافع بخش ادارے ’’سوئم ڈرنک فش‘‘ سے رابطہ کیا۔ یہ ادارہ پانی کے تحفظ کے لیے کام کرتا ہے۔ رینگ نے تجویز دی کہ جھیل اونٹاریو سے متعلق تیار کی جانے والی اشیا کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم میں سے ہر چیز پر 10 ڈالر ادارے کو عطیہ کیے جائیں۔

اس طرح ایک سیاسی تنازع سے پیدا ہونے والی توجہ کو جھیل کے تحفظ کی طرف موڑنے کی کوشش کی گئی۔

یہ پہلو اس پورے واقعے کو محض ایک مزاحیہ سیاسی ردعمل سے آگے لے جاتا ہے۔ کسی سیاسی بیان یا تنازع سے پیدا ہونے والی عوامی دلچسپی اکثر مختصر مدت کے لیے ہوتی ہے۔ لیکن اگر اسی توجہ کو کسی سماجی یا ماحولیاتی مقصد کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو اس کے اثرات زیادہ دیرپا ہو سکتے ہیں۔

یہی اس مہم کی بنیادی خصوصیت بھی ہے کہ یہاں طنز صرف طنز نہیں رہا بلکہ اسے چندہ جمع کرنے کے ذریعہ میں تبدیل کر دیا گیا۔

جھیل اونٹاریو کو درپیش اصل مسائل کیا ہیں؟

جھیل کا نام تبدیل کرنے کی بحث سیاسی سطح پر توجہ حاصل کر سکتی ہے لیکن جھیل اونٹاریو کو درپیش ماحولیاتی مسائل کا تعلق ناموں اور سیاسی بیانات سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔

سوئم ڈرنک فش سے وابستہ گریگوری فورڈ کے مطابق جھیل کو آبی حیات کے لیے نقصان دہ بیرونی انواع یعنی آبی حملہ آور انواع کے مسائل کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی بھی جھیل کے ماحول پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

پانی کی سطح بھی ایک اہم تشویش ہے۔ جھیل کے کناروں پر کٹاؤ اور سیلاب جیسے مسائل بھی ماحولیاتی دباؤ میں اضافہ کرتے ہیں۔

ان مسائل کی نوعیت ایسی ہے کہ ان کے اثرات صرف جھیل کے پانی تک محدود نہیں رہتے۔ ساحلی علاقوں میں رہنے والی آبادی اور ان مقامات سے وابستہ سرگرمیاں بھی پانی کی سطح میں تبدیلی اور ساحلی کٹاؤ جیسے مسائل سے متاثر ہو سکتی ہیں۔

اسی لیے ماحولیاتی تنظیموں کے لیے جھیل کی نگرانی اور بحالی کے منصوبے اہم ہیں۔

چندے کی رقم کہاں استعمال ہوگی؟

اس مہم سے حاصل ہونے والی رقم سوئم ڈرنک فش کے مختلف ماحولیاتی کاموں میں استعمال کی جائے گی۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس میں جھیل کی بحالی کے منصوبے، پانی کی نگرانی اور ماحولیاتی معاملات پر آواز اٹھانے سے متعلق کام شامل ہیں۔

یہاں اس مہم کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ ایک طرف لوگ جھیل اونٹاریو کے نام سے متعلق سیاسی بحث پر مزاحیہ انداز میں اپنا ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف اسی عمل کے ذریعے وہ جھیل کے تحفظ کے لیے مالی تعاون بھی کر سکتے ہیں۔

یعنی ایک ایسی چیز جو ابتدا میں سیاسی طنز دکھائی دیتی تھی اسے ماحولیاتی شعور اور عملی مدد کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔

’لیک امریکا‘ کی بحث کا ایک مختلف نتیجہ

جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے کی بحث نے کینیڈا اور امریکا کے درمیان پہلے سے موجود سیاسی اور تجارتی کشیدگی کے ماحول میں ایک علامتی رنگ اختیار کیا۔ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے بھی ٹرمپ کے نام تبدیل کرنے سے متعلق حکم کے جواب میں ہائیڈرونم کی اصطلاح استعمال کی تھی۔

لیکن لائیڈ رینگ کا ردعمل روایتی سیاسی بیان بازی سے مختلف تھا۔ انہوں نے بحث کا جواب کسی طویل سیاسی تقریر سے دینے کے بجائے اسے ایک ایسے خیال میں تبدیل کیا جو لوگوں کو ہنسانے کے ساتھ ساتھ جھیل کے تحفظ کے لیے رقم بھی جمع کر سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی ایک دلچسپ مثال بن جاتا ہے کہ عوامی سطح پر کسی سیاسی یا ثقافتی تنازع سے پیدا ہونے والی توجہ کو کس طرح مختلف مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اصل پیغام نام نہیں بلکہ جھیل کا تحفظ ہے

اس پورے معاملے کا سب سے اہم پہلو شاید یہی ہے کہ نام کے تنازع سے قطع نظر جھیل اونٹاریو کے ماحولیاتی مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔

سیاسی بیانات اور ناموں کی بحث وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتی ہے لیکن آبی آلودگی، حملہ آور آبی انواع، موسمیاتی تبدیلی، پانی کی سطح میں تبدیلی، ساحلی کٹاؤ اور سیلاب جیسے مسائل مسلسل توجہ کا تقاضا کرتے ہیں۔

رینگ کی مہم اسی فرق کو نمایاں کرتی ہے۔ انہوں نے ایک ایسے سیاسی بیان کو استعمال کیا جس پر لوگ ہنس سکیں اور اسی ہنسی کو جھیل کے تحفظ کے لیے مالی تعاون میں بدلنے کی کوشش کی۔

یوں ’’لیک امریکا‘‘ کے نام کی بحث نے غیر متوقع طور پر ’’لیک اونٹاریو‘‘ کے تحفظ کے لیے ایک نئی آواز پیدا کر دی۔ سیاسی طنز سے شروع ہونے والا یہ خیال اس بات کی مثال بن گیا کہ عوامی دلچسپی اگر کسی مثبت مقصد سے جوڑ دی جائے تو ایک معمولی سا جملہ بھی ماحولیاتی مہم کی بنیاد بن سکتا ہے۔

ہمیں فالو کریں

[uw_related_posts]