پاکستان میں پیٹرول پھر مہنگا، نئی قیمت 392 روپے 76 پیسے فی لیٹر مقرر

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا ہے، جس کے بعد پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتیں مقرر کردی گئی ہیں۔

نئی قیمتوں کا اطلاق 3 سے 5 اکتوبر تک ہوگا۔ اس حوالے سے محکمہ توانائی کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

پیٹرول مہنگا

نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 10 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 392 روپے 76 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی ہے۔

پیٹرول کی قیمت میں ہونے والا یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب شہری پہلے ہی مہنگے ایندھن کے باعث اضافی مالی بوجھ کا سامنا کر رہے ہیں۔

نئی قیمت کے نفاذ کے بعد گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں میں روزانہ پیٹرول استعمال کرنے والے صارفین کے لیے سفری اخراجات مزید بڑھ جائیں گے۔

ڈیزل بھی مہنگا

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی قیمت 30 پیسے فی لیٹر بڑھائی گئی ہے۔30 پیسے اضافے کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 399 روپے 64 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی ہے۔

ڈیزل کی قیمت میں معمولی اضافے کے باوجود ٹرانسپورٹ کے شعبے پر اس کے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے، کیونکہ مال بردار گاڑیوں سمیت مختلف شعبوں میں ڈیزل بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔

تین روز کے لیے نئی قیمتیں

حالیہ اضافے کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتیں 3 سے 5 اکتوبر تک نافذ رہیں گی۔ حکومت کی جانب سے قیمتوں میں یہ ردوبدل عالمی مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔نئی قیمتوں کے نفاذ سے قبل پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں کا جائزہ لیا گیا، جس کے بعد اوگرا نے نئی قیمتوں کا تعین کیا۔

عالمی مارکیٹ کا اثر

پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق عالمی مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیاں مقامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کی بنیادی وجہ بنی ہیں۔

عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، پلاٹس ریٹس، پریمیئم اور دیگر متعلقہ عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی قیمتوں کا تعین کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :پیٹرول اور ڈیزل مہنگا، گڈز ٹرانسپورٹ کے کرائے میں 7 فیصد اضافہ، مہنگائی کی نئی لہر کا خدشہ

پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے اثرات پاکستان میں درآمد ہونے والی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑتے ہیں، اسی لیے مقامی نرخوں میں تبدیلی کرنا پڑتی ہے۔

صارفین پر اثرات

پیٹرول کی قیمت میں مزید اضافے سے عام صارفین کے ماہانہ اخراجات میں اضافہ ہوگا۔ موٹر سائیکل اور گاڑی استعمال کرنے والے شہریوں کو اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقم خرچ کرنا پڑے گی۔

اسی طرح ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے باعث ٹرانسپورٹ کے اخراجات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ مال برداری اور مسافر ٹرانسپورٹ میں ڈیزل کے استعمال کے باعث ایندھن کی قیمت میں تبدیلی مختلف شعبوں کے اخراجات کو متاثر کرتی ہے۔

مسلسل تبدیلیاں

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی مارکیٹ کے حالات کے مطابق مسلسل ردوبدل کیا جا رہا ہے۔ حالیہ فیصلے میں بھی عالمی قیمتوں، پٹرولیم مصنوعات کے درآمدی اخراجات اور دیگر متعلقہ عوامل کو سامنے رکھا گیا ہے۔

حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لے کر مقامی قیمتوں کا تعین کیا جاتا ہے۔

نئی قیمتیں نافذ

3 اکتوبر سے 5 اکتوبر تک نافذ رہنے والی نئی قیمتوں کے مطابق پیٹرول 392 روپے 76 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 399 روپے 64 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 10 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 30 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق قیمتوں میں تازہ ردوبدل عالمی مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں، پلاٹس ریٹس، پریمیئم اور دیگر عوامل کے باعث کیا گیا ہے، جبکہ آئندہ قیمتوں کا تعین بھی متعلقہ عوامل اور عالمی منڈی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

ہمیں فالو کریں

[uw_related_posts]