اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکا میں پناہ گزینوں کی درخواستوں پر عائد کی گئی حالیہ پابندی طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔ صدر نے کہا کہ پناہ گزینوں کے فیصلوں کی معطلی ختم کرنے کے لیے کوئی مخصوص وقت مقرر نہیں کیا گیا اور اس سلسلے میں ابھی تک کوئی حتمی تاریخ طے نہیں کی گئی۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا مزید مہاجرین کو قبول کرنے کا خواہاں نہیں ہے۔ ان کے مطابق، "ہمارے ملک میں پہلے ہی بہت سے مسائل موجود ہیں، ہم ایسے افراد کو یہاں نہیں لانا چاہتے جو ملک کے وسائل پر بوجھ بنیں۔” انہوں نے بعض ترقی پذیر ممالک کی بھی تنقید کی اور کہا کہ کچھ تیسری دنیا کے ممالک اپنے شہریوں کی دیکھ بھال کرنے میں ناکام ہیں اور جرائم سے بھرے ہوئے ہیں، ایسے ممالک سے امریکا کو مہاجرین کی ضرورت نہیں۔
اس دوران صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر پر بھی تنقید کی۔ الہان عمر امریکا کی پہلی صومالی نژاد کانگریس رکن ہیں جو دو دہائی قبل پناہ گزین کے طور پر امریکا آئی تھیں۔ صدر نے ان کے موقف پر اعتراض کیا اور کہا کہ امریکا کو اپنے اندرونی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
واضح رہے کہ امریکا نے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ پناہ گزینوں کی تمام درخواستوں پر عارضی طور پر فیصلہ روک دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد امریکا میں پناہ گزینوں کے امور میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور کئی غیر سرکاری ادارے اور انسانی حقوق کے گروہ اس اقدام پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی پناہ گزینوں کے حوالے سے سخت پالیسی ان کے "امریکا فرسٹ” موقف کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک کے داخلی اور اقتصادی مسائل کو ترجیح دینا بتایا جاتا ہے۔ ان کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مستقبل میں بھی امریکا میں پناہ گزینوں کی تعداد محدود رکھنے کے لیے پابندیوں کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔