اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز) حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کردیا، جس کے بعد پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگے ہوگئے ہیں۔ پٹرول کی قیمت میں 12 روپے 90 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 72 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔
پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی نئی قیمت 358 روپے 77 پیسے فی لٹر مقرر کردی گئی ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت 381 روپے 77 پیسے فی لٹر تک پہنچ گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے قیمتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک میں پہلے ہی مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کے باعث عوام کو مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے براہ راست اور بالواسطہ اثرات معیشت کے مختلف شعبوں پر پڑنے کا امکان ہے۔
پٹرول مزید مہنگا
نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں فی لٹر 12 روپے 90 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
اضافے سے پہلے پٹرول کی قیمت 345 روپے 87 پیسے فی لٹر تھی، جو اب بڑھ کر 358 روپے 77 پیسے فی لٹر ہوگئی ہے۔
پٹرول کی قیمت میں ہونے والے نمایاں اضافے سے موٹر سائیکل، رکشہ اور گاڑی استعمال کرنے والے شہریوں کے ماہانہ سفری اخراجات میں اضافہ متوقع ہے۔
ڈیزل کی قیمت بھی بڑھی
حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی اضافہ کردیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 72 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 381 روپے 77 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔
ڈیزل بنیادی طور پر مال بردار گاڑیوں، بسوں، ٹرکوں، زرعی مشینری اور مختلف صنعتی سرگرمیوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں اضافہ وسیع پیمانے پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔
اطلاق کب ہوگا؟
پٹرولیم ڈویژن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔جاری کردہ معلومات کے مطابق موجودہ قیمتیں 8 ستمبر تک ایک دن کے لیے نافذ رہیں گی۔
قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کے باعث صارفین اور کاروباری طبقے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی لاگت کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہوسکتا ہے۔
روزانہ قیمتوں میں تبدیلی
خیال رہے کہ وزارت پٹرولیم کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل روزانہ کی بنیاد پر کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ٹیکس و مارجنز کا بڑا حصہ، عوام پر فی لیٹر 130 روپے تک اضافی بوجھ
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت، ملکی کرنسی کی قدر، درآمدی لاگت اور دیگر متعلقہ عوامل کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی کی جاتی ہے۔
موجودہ اضافے کے بعد شہریوں میں یہ تشویش بھی پیدا ہوسکتی ہے کہ اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں یا دیگر عوامل میں مزید تبدیلی ہوئی تو مقامی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی مزید متاثر ہوسکتی ہیں۔
ٹرانسپورٹ کرائے بڑھنے کا خدشہ
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا سب سے فوری اثر ٹرانسپورٹ کے شعبے پر پڑنے کا امکان ہے۔
بسوں، ویگنوں، رکشوں اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کے آپریٹرز کے اخراجات بڑھنے کے باعث کرایوں میں اضافے کا مطالبہ سامنے آسکتا ہے۔
اسی طرح مال بردار گاڑیوں کے ایندھن کے اخراجات بڑھنے سے ایک شہر سے دوسرے شہر سامان پہنچانے کی لاگت بھی بڑھ سکتی ہے۔
اشیائے ضروریہ پر اثر
ماہرین کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں اضافہ صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
زرعی اجناس، سبزیاں، پھل، دودھ اور دیگر اشیا ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹ استعمال ہوتی ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے کی صورت میں کاروباری ادارے اضافی اخراجات صارفین کو منتقل کرسکتے ہیں۔
اس طرح پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی پر اضافی دباؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
عوام پر اضافی بوجھ
پٹرول کی قیمت میں تقریباً 13 روپے فی لٹر اضافے سے روزانہ گاڑی استعمال کرنے والے شہریوں کے بجٹ پر براہ راست اثر پڑے گا۔
دوسری جانب ڈیزل مہنگا ہونے سے کاروباری اداروں، ٹرانسپورٹرز، کسانوں اور صنعتوں کے آپریشنل اخراجات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عوامی حلقوں میں پہلے ہی یہ سوال اٹھایا جاتا رہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار تبدیلی سے گھریلو بجٹ اور کاروباری منصوبہ بندی کس طرح متاثر ہوتی ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ نوٹیفکیشن کے بعد اب نئی قیمتیں مقررہ مدت تک نافذ رہیں گی، جبکہ آئندہ نظرثانی میں عالمی تیل منڈی اور دیگر متعلقہ عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید تبدیلی کا امکان برقرار رہے گا۔
