اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)
آپ کے دیے گئے متن کی بنیاد پر خبر کو 600 الفاظ کے قریب، پیشہ ورانہ اور سیاسی تجزیاتی انداز میں ترتیب دیا ہے۔
پی ٹی آئی سے اختلاف اپنی جگہ، قومی مسائل پر مذاکرات ضروری ہیں، بلاول بھٹو
پیپلز پارٹی کا مذاکرات پر زور
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے درمیان اعتماد کا فقدان ضرور موجود ہے، تاہم ملک کو درپیش قومی مسائل کے حل کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے سے بات چیت اور سیاسی انگیجمنٹ جاری رکھنی چاہیے۔ لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے سیاسی اختلافات کے باوجود مذاکرات کو جمہوری نظام کے استحکام اور قومی مسائل کے حل کے لیے ضروری قرار دیا۔
پی ٹی آئی سے فاصلے کم کرنے کا اشارہ
بلاول بھٹو کے بیان کو موجودہ سیاسی ماحول میں اہم سمجھا جارہا ہے کیونکہ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی اختلافات اور عدم اعتماد کی فضا برقرار ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے واضح کیا کہ اختلافات کے باوجود سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے ختم نہیں ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قومی نوعیت کے معاملات پر تمام سیاسی قوتوں کو مل بیٹھ کر بات کرنی چاہیے تاکہ سیاسی نظام میں موجود خرابیوں اور ملک کو درپیش مسائل کا کوئی قابل عمل حل نکالا جاسکے۔
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کا دورہ
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے سندھ اور لاڑکانہ آنے سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ سیاسی سرگرمی کرنا ہر سیاسی جماعت اور سیاسی رہنما کا حق ہے۔ اگر کسی دوسرے صوبے کا وزیراعلیٰ سندھ آتا ہے تو سندھ کی روایتی مہمان نوازی کے مطابق اسے خوش آمدید کہا جاتا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ انہوں نے خود وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے لاڑکانہ آنے پر انہیں خوش آمدید کہا تھا اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر پوسٹ بھی کی تھی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی یا سندھ حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی سیاسی سرگرمیوں میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی۔
سڑک اکھاڑنے کے بیان پر مؤقف
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی جانب سے سندھ میں سیاسی سرگرمیوں کے دوران مبینہ رکاوٹوں سے متعلق بیانات کے بارے میں بلاول بھٹو نے کہا کہ انہوں نے سڑک اکھاڑنے سے متعلق بیان نہیں دیکھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو اپنی سیاسی سرگرمیوں کے دوران کسی قسم کے اندرونی مسائل کا سامنا رہا ہے تو اس کا الزام پیپلز پارٹی پر عائد کرنا مناسب نہیں۔ یوں بلاول بھٹو نے صوبائی سیاسی کشیدگی کو پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت سے جوڑنے کی کوششوں کو مسترد کردیا۔
پی ٹی آئی کے پارلیمانی بائیکاٹ پر تنقید
بلاول بھٹو نے پی ٹی آئی کی جانب سے پارلیمانی کمیٹیوں اور انتخابات کے بائیکاٹ کے فیصلے پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ خود پی ٹی آئی، اپوزیشن اور پارلیمنٹ تینوں کے لیے درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کو دعوت دی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں واپس آئے اور فعال اپوزیشن کا کردار ادا کرے۔ ان کے مطابق پارلیمانی سیاست سے دور رہنے کے بجائے اپوزیشن کو ایوان کے اندر اپنا مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
جے یو آئی سے پارلیمانی تعاون
چیئرمین پیپلز پارٹی نے جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ پارلیمانی تعاون کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی اپوزیشن بینچوں پر موجود ہے، تاہم پارلیمنٹ کے اندر دونوں جماعتوں کے درمیان تعاون اچھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :بلاول بھٹو زرداری پیرس سے لندن پہنچ گئے، بھٹو خاندان کا ایک ہفتہ قیام متوقع
بلاول بھٹو نے بتایا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ جے یو آئی اور پیپلز پارٹی کے درمیان اتحاد بھی ہوا ہے، جو دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی تعاون کی ایک مثال ہے۔
نئے صوبوں کا معاملہ
نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر بلاول بھٹو نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اہم قومی مسئلہ ہے جس پر بحث بزنس فورمز کے بجائے پارلیمنٹ میں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر کسی بھی وفاقی وزیر کے ساتھ بحث کے لیے تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے سیاسی نظام میں جو خرابیاں موجود ہیں، ان پر کھل کر بحث ہونی چاہیے تاکہ مسائل کا حل تلاش کیا جاسکے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی نئے صوبوں کے معاملے کو پارلیمانی بحث اور آئینی طریقہ کار کے تحت آگے بڑھانے کی خواہاں ہے۔
انتخابی اصلاحات پر مطالبہ
آزاد کشمیر اور 2024 کے عام انتخابات سے متعلق بلاول بھٹو نے کہا کہ انہیں آزاد کشمیر کے انتخابات پر پہلے بھی تحفظات تھے اور اب بھی ہیں۔ ان کے مطابق 2024 کے انتخابات پر صرف اپوزیشن جماعتیں ہی نہیں بلکہ حکومتی اتحاد میں شامل جماعتیں بھی تنقید کررہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ میں انتخابی اصلاحات کے لیے ایک جامع کمیٹی تشکیل دی جائے، جس میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو نمائندگی دی جائے۔ ان کے مطابق اس فورم کے ذریعے انتخابی نظام سے متعلق مسائل کا متفقہ حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔
سیاسی نظام میں اتفاق رائے کی ضرورت
بلاول بھٹو کے مجموعی مؤقف کا محور سیاسی اختلافات کے باوجود مذاکرات اور پارلیمانی عمل کو جاری رکھنا ہے۔ پی ٹی آئی کے ساتھ اعتماد کے فقدان کا اعتراف کرتے ہوئے بھی انہوں نے تمام سیاسی قوتوں کو بات چیت کی میز پر آنے کی ضرورت پر زور دیا۔
موجودہ سیاسی صورتحال میں یہ مؤقف اس لحاظ سے اہم ہے کہ ایک طرف سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کیے ہوئے ہیں، جبکہ دوسری طرف انتخابی اصلاحات، نئے صوبوں اور پارلیمانی سیاست جیسے معاملات پر وسیع سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ان مسائل کا حل سیاسی محاذ آرائی کے بجائے پارلیمنٹ میں بحث، مذاکرات اور باہمی سیاسی انگیجمنٹ سے ہی نکالا جاسکتا ہے۔
