اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)تحریک انصاف نے آئندہ لانگ مارچ کے حوالے سے اہم فیصلہ کرتے ہوئے اس کی منسوخی یا ملتوی کیے جانے کو بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات سے مشروط کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی سیاسی اور کور کمیٹی کا رات گئے اجلاس ہوا، جس میں پارٹی کی موجودہ سیاسی صورتحال، حکومت سے ہونے والے مذاکرات اور لانگ مارچ کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔
مذاکرات پر بریفنگ
اجلاس میں بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے پارٹی قیادت کو بریفنگ دی۔ بریفنگ کے دوران حکومت کے ساتھ بات چیت کی پیش رفت اور لانگ مارچ کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کو بتایا گیا کہ لانگ مارچ کی صورت میں وفاقی حکومت خیبر پختونخوا حکومت اور تحریک انصاف کے خلاف ممکنہ طور پر مختلف اقدامات اٹھا سکتی ہے۔
حکومتی اقدام کا خدشہ
اجلاس میں اس امکان پر بھی غور کیا گیا کہ لانگ مارچ کے نتیجے میں وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں خیبر پختونخوا حکومت کو سیاسی یا انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
شرکا نے ممکنہ حکومتی اقدامات سے بچنے اور موجودہ سیاسی صورتحال کو مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھانے کے مختلف پہلوؤں پر بھی غور کیا۔
لانگ مارچ ملتوی کرنے کی تجویز
ذرائع کے مطابق اجلاس میں حکومتی ممکنہ اقدام سے بچنے کے لیے لانگ مارچ کو مزید ملتوی کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی۔
تاہم اس تجویز پر حتمی فیصلہ کرنے کے بجائے پارٹی قیادت نے بانی چیئرمین عمران خان سے مشاورت اور ملاقات کو اہم قرار دیا۔
سہیل آفریدی کا مؤقف
اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ لانگ مارچ کو ملتوی کرنے کا اختیار بانی چیئرمین کے پاس ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ کے حوالے سے حتمی فیصلہ بانی چیئرمین ہی کرسکتے ہیں، اس لیے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دوران عمران خان سے ملاقات کی شرط رکھی جانی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں :پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 4 اکتوبر تک مؤخر، سہیل آفریدی کا نئی تاریخ کا اعلان
حکومت سے مذاکرات
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں بانی چیئرمین سے ملاقات کا معاملہ بنیادی شرط کے طور پر سامنے رکھا جائے۔
پارٹی قیادت کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ اگر حکومت تحریک انصاف کے ساتھ سیاسی معاملات پر بات چیت کرنا چاہتی ہے تو بانی چیئرمین سے پارٹی رہنماؤں اور متعلقہ افراد کی ملاقات کا راستہ بھی کھولا جائے۔
سیاسی حکمت عملی
پی ٹی آئی کے اجلاس میں لانگ مارچ اور مذاکرات کو ایک دوسرے سے جوڑ کر آگے بڑھانے کی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔ پارٹی قیادت نے موجودہ صورتحال میں سیاسی اور مذاکراتی راستے کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ لانگ مارچ کے آپشن کو بھی اہم قرار دیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ حکومت کے ممکنہ اقدامات کو مدنظر رکھتے ہوئے پارٹی کو اپنی آئندہ حکمت عملی احتیاط سے طے کرنا ہوگی۔
بانی سے ملاقات مرکزی نکتہ
اجلاس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے بانی چیئرمین سے ملاقات کی شرط سامنے آنے کے بعد عمران خان سے رابطہ اور ملاقات کا معاملہ لانگ مارچ کے مستقبل کے حوالے سے اہم نکتہ بن گیا ہے۔
پارٹی کے اندر اس بات پر زور دیا گیا کہ لانگ مارچ کو ملتوی یا منسوخ کرنے جیسے بڑے فیصلے بانی چیئرمین کی ہدایت اور مشاورت کے بغیر نہیں کیے جانے چاہئیں۔
لانگ مارچ کا مستقبل
پی ٹی آئی کی سیاسی اور کور کمیٹی کے اجلاس میں لانگ مارچ کے معاملے پر مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد صورتحال حکومت کے ساتھ مذاکرات اور بانی چیئرمین سے ملاقات سے جڑ گئی ہے۔
اب حکومت کے ساتھ مذاکرات میں بانی چیئرمین سے ملاقات کی شرط کس حد تک زیر بحث آتی ہے اور اس پر کیا پیش رفت ہوتی ہے، اس کے بعد لانگ مارچ کے حوالے سے پارٹی کی آئندہ حکمت عملی واضح ہونے کا امکان ہے۔
پی ٹی آئی قیادت کے مطابق سیاسی معاملات کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا جائے گا، تاہم لانگ مارچ کے بارے میں حتمی فیصلہ پارٹی قیادت کی مشاورت اور بانی چیئرمین کی ہدایت کے مطابق کیا جائے گا۔
