اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کولمبیا میں ایک 67 سالہ خاتون نے محلے کی گپ شپ اور دوسروں کے معاملات میں دلچسپی لینے کی عادت کو مبینہ طور پر باقاعدہ آمدنی کا ذریعہ بنا لیا۔
مریم نامی خاتون کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ محلے میں ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھتی ہیں اور اپنے مشاہدات اور مقامی لوگوں سے حاصل ہونے والی معلومات کو ان افراد تک پہنچاتی ہیں جو ان خبروں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
عام طور پر محلے میں لوگوں کا ایک دوسرے کے معاملات سے باخبر رہنا اور پھر ان کے بارے میں گفتگو کرنا محض وقت گزاری سمجھا جاتا ہے لیکن مریم نے اسی عادت کو ایک منفرد کاروباری سرگرمی میں تبدیل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کے مطابق اس کام سے حاصل ہونے والی آمدنی کو انہوں نے برسوں تک بچایا اور بالآخر دو مکانات خریدنے میں کامیاب ہوگئیں۔
صبح سویرے نوٹ بک لے کر بیٹھنے کا معمول
مریم کے معمول کے مطابق وہ صبح سویرے اپنی نوٹ بک لے کر گھر کے باہر بیٹھ جاتی ہیں۔ اس دوران وہ محلے میں ہونے والی مختلف سرگرمیوں پر نظر رکھتی ہیں اور ان واقعات کو نوٹ کرتی ہیں جنہیں وہ اہم سمجھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :
اسلام آباد کی مارکیٹ کانا م آبپارہ کیوں رکھا گیا؟ایک دلچسپ داستان
کون کہاں جا رہا ہے۔ کس شخص نے کس سے بات کی۔ محلے میں کون سا نیا معاملہ زیر بحث ہے اور مقامی سطح پر کیا سرگرمیاں جاری ہیں۔ مریم ان معاملات سے متعلق معلومات اپنی نوٹ بک میں درج کرتی رہتی ہیں۔
بعد ازاں یہی معلومات ان افراد تک پہنچانا ان کے لیے کمائی کا ذریعہ بن گیا جو اپنے اردگرد ہونے والے معاملات کے بارے میں جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
اس طرح مریم کا روزمرہ کا مشاہدہ اور محلے کے معاملات پر نظر رکھنا ایک ایسے کام میں تبدیل ہوگیا جس سے وہ مبینہ طور پر مالی فائدہ حاصل کرتی رہی ہیں۔
محلے کی خبریں آمدنی کا ذریعہ بن گئیں
مریم نے مختلف انٹرویوز میں دعویٰ کیا کہ اردگرد ہونے والے واقعات سے باخبر رہنے میں ان کی دلچسپی پرانی ہے۔ وہ مقامی لوگوں اور محلے میں ہونے والی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرتی رہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ انہیں احساس ہوا کہ بعض لوگ ایسی معلومات جاننے کے لیے رقم دینے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔
مریم کے مطابق انہوں نے اس کام سے حاصل ہونے والی رقم کو فوری طور پر خرچ کرنے کے بجائے مسلسل بچت پر توجہ دی۔ ان کا کہنا ہے کہ برسوں تک رقم جمع کرنے اور اپنی آمدنی کو محفوظ رکھنے کے نتیجے میں وہ دو مکانات خریدنے میں کامیاب ہوئیں۔
یوں جو سرگرمی عام طور پر لوگوں کی نظر میں محض گپ شپ یا دوسروں کے معاملات میں مداخلت سمجھی جاتی ہے وہ مریم کے لیے مبینہ طور پر ایک مالی ذریعہ بن گئی۔
معلومات حاصل کرنے کے لیے مسلسل نظر رکھتی ہیں
مریم کا کہنا ہے کہ ان کے کام کا ایک اہم حصہ محلے میں ہونے والی تبدیلیوں اور سرگرمیوں پر نظر رکھنا ہے۔ وہ گھر سے باہر بیٹھ کر اردگرد کے حالات کا مشاہدہ کرتی ہیں اور مختلف معاملات کو اپنی نوٹ بک میں درج کرتی ہیں۔
ان کے اس معمول میں مقامی افراد کی نقل و حرکت اور ان کے درمیان ہونے والی گفتگو سے متعلق معلومات بھی شامل ہوتی ہیں۔ بعد میں ان معلومات کو ان لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے جو محلے کی تازہ صورتحال سے واقف رہنا چاہتے ہیں۔
مریم کے اس انداز نے انہیں اپنے علاقے میں ایک منفرد شناخت بھی دے دی ہے۔ اگرچہ بیشتر لوگوں کے لیے محلے کی خبریں اور گپ شپ صرف روزمرہ گفتگو کا حصہ ہوتی ہیں لیکن مریم نے اسے اپنی آمدنی سے جوڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پڑوسیوں سے تلخی بھی ہوجاتی ہے
اس انوکھے کام کے کچھ منفی پہلو بھی سامنے آتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ مریم کی سرگرمیوں کے باعث کبھی کبھار ان کے پڑوسیوں کے ساتھ تلخی بھی ہوجاتی ہے۔
دوسروں کے معاملات پر نظر رکھنا اور ان سے متعلق معلومات آگے پہنچانا بعض لوگوں کو پسند نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ مریم کو بعض مواقع پر پڑوسیوں کی ناراضی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
تاہم دستیاب معلومات کے مطابق ان کے خلاف اب تک کسی قانونی کارروائی کی اطلاع نہیں دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں :
دلہا دلہن نے آسمانوں میں شادی کرلی، 178 مسافر گواہ بن گئے
مریم کے لیے یہ سرگرمی محض محلے کے معاملات پر نظر رکھنے تک محدود نہیں رہی بلکہ ان کے دعوے کے مطابق اس نے ان کی مالی زندگی پر بھی اثر ڈالا۔ برسوں تک حاصل ہونے والی رقم کو بچانے کے بعد دو مکانات کی خریداری ان کی اس غیر معمولی آمدنی کا سب سے نمایاں نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
گپ شپ سے دو گھروں تک کا سفر
مریم کی کہانی اس لحاظ سے دلچسپ ہے کہ جس کام کو معاشرے میں عموماً مثبت سرگرمی نہیں سمجھا جاتا اسے انہوں نے مبینہ طور پر آمدنی کا ذریعہ بنا لیا۔ محلے کی سرگرمیوں کا مشاہدہ کرنا۔ اہم سمجھی جانے والی معلومات کو نوٹ کرنا اور پھر انہیں دلچسپی رکھنے والے افراد تک پہنچانا ان کے روزمرہ معمول کا حصہ بن چکا ہے۔
ان کے مطابق مسلسل بچت نے ان کی اس آمدنی کو ایک بڑے مالی فائدے میں تبدیل کرنے میں مدد دی۔ کئی برسوں کی بچت کے بعد دو مکانات کی خریداری ان کے لیے ایک اہم کامیابی بن گئی۔
مریم کا یہ دعویٰ اس بات کی ایک غیر معمولی مثال کے طور پر سامنے آیا ہے کہ بعض اوقات عام اور روزمرہ کی عادتیں بھی کسی شخص کے لیے آمدنی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ تاہم ان کے کام سے متعلق پڑوسیوں کی ناراضی یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ دوسروں کے نجی معاملات اور معلومات سے متعلق سرگرمیاں سماجی طور پر حساس ہوسکتی ہیں۔
یوں کولمبیا کی 67 سالہ مریم نے محلے کی گپ شپ کو ایک منفرد انداز میں آمدنی سے جوڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کے مطابق اسی کمائی اور مسلسل بچت کی بدولت وہ دو مکانات خریدنے میں کامیاب ہوئیں۔ جبکہ ان کا یہ غیر معمولی روزگار آج بھی محلے میں لوگوں کی توجہ کا باعث بنا ہوا ہے۔
