اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر کیلگری میں البرٹا کی علیحدگی کے حق میں ریفرنڈم کے لیے لگائے گئے متعدد پوسٹرز سٹی ورکرز کی جانب سے غلطی سے اتارے جانے کا معاملہ سامنے آگیا۔
کیلگری کے میئر جیرومی فارکس نے اعتراف کیا ہے کہ سٹی اسٹاف نے پوسٹرز اتارنے میں غلطی کی، جبکہ انہوں نے خاص طور پر نارتھ ویسٹ میں 10 اسٹریٹ کے ساتھ لگائے گئے ایک پوسٹر کا بھی ذکر کیا۔
ویڈیو سامنے آگئی
اس معاملے پر رواں ہفتے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی سامنے آئی، جس میں ایک سٹی ورکر کو البرٹا کی علیحدگی کی حمایت میں لگائے گئے متعدد پوسٹرز اتارتے اور انہیں سٹی ٹرک میں رکھتے ہوئے دکھایا گیا۔واقعے پر عوامی سطح پر سوالات اٹھنے کے بعد میئر جیرومی فارکس نے معاملے کی تحقیقات کرائیں۔
انہوں نے جمعے کو سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ انہیں سٹی ورکرز کی جانب سے بعض ریفرنڈم پوسٹرز اتارنے کی اطلاعات ملیں اور تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ عملے سے غلطی ہوئی تھی۔
پوسٹر واپس
میئر نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ اتارے گئے پوسٹرز ان کے مالکان کو واپس کر دیے گئے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ شہر محض کسی پوسٹر پر موجود سیاسی پیغام کی بنیاد پر ریفرنڈم کے پوسٹرز نہیں اتار سکتا۔
فارکس نے کہا کہ وہ البرٹا کی علیحدگی کے سخت مخالف ہیں، تاہم ان سے اختلاف رکھنے والے افراد کو بھی اس معاملے پر بحث میں حصہ لینے کا وہی حق حاصل ہے جو کسی دوسرے شخص کو حاصل ہے۔
سیاسی اختلاف اپنی جگہ
میئر نے کہا کہ کسی کو اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ البرٹا کی علیحدگی کے معاملے پر ان کا ذاتی مؤقف کیا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ذاتی سیاسی مؤقف اور شہر کے قوانین کے نفاذ کو ایک دوسرے سے الگ رکھا جانا چاہیے۔ان کے مطابق اگر کوئی شہری یا گروپ علیحدگی کے حق میں سیاسی پیغام دے رہا ہے تو صرف اس بنیاد پر اس کا پوسٹر ہٹانا درست نہیں۔
حفاظتی قوانین
کیلگری سٹی کے مطابق شہر کے عملے کو عوامی تحفظ سے متعلق قوانین پر عمل درآمد کی ذمہ داری حاصل ہے۔ان قوانین میں چوراہوں، ٹرانزٹ اسٹاپس، اسکولوں اور کھیل کے میدانوں کے قریب ایسے پوسٹرز یا دیگر مواد کے خلاف کارروائی بھی شامل ہے جو شہریوں کے لیے خطرہ پیدا کریں یا عوامی سہولیات کے استعمال میں رکاوٹ بنیں۔
تاہم میئر فارکس نے کہا کہ یہ قوانین تمام سیاسی پیغامات اور گروپس پر یکساں طور پر لاگو ہونے چاہئیں۔انہوں نے اعتراف کیا کہ اس معاملے میں شہر سے غلطی ہوئی اور سٹی اسٹاف کی جانب سے معذرت بھی کی۔
شہر غیر جانب دار رہے گا
میئر فارکس نے کہا کہ کیلگری کے شہریوں کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ شہر قوانین کے نفاذ کے معاملے میں کسی سیاسی فریق کی حمایت نہیں کر رہا۔
ان کے مطابق شہر کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ موجودہ قوانین پر یکساں طور پر عمل درآمد کرے، نہ کہ کسی مخصوص سیاسی پیغام کو پسند یا ناپسند کرنے کی بنیاد پر کارروائی کرے۔
علیحدگی کی مہم
اتارے گئے بعض پوسٹرز کے اخراجات پاتھ وے ٹو انڈیپینڈنس نامی تیسرے فریق کے تشہیری گروپ نے ادا کیے تھے، جو البرٹا کی علیحدگی کی حمایت کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :البرٹا علیحدگی ریفرنڈم پر بڑا تنازع، پریمیئر ڈینیئل اسمتھ اور یو سی پی صدر آمنے سامنے
گروپ کے ترجمان کوری مورگن نے بتایا کہ ایک پوسٹر اس وقت واپس حاصل کیا گیا جب ایک رضاکار نے شہر کی جانب سے محفوظ کیے گئے پوسٹرز کو وصول کیا۔
مورگن نے پوسٹر واپس ملنے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ان کے لیے باعثِ پریشانی ضرور تھا، کیونکہ ان کی تنظیم اشتہارات کی جگہوں کے انتخاب اور تنصیب کے حوالے سے قواعد کی پابندی یقینی بنانے کے لیے کام کرتی ہے تاکہ ایسے مسائل پیدا نہ ہوں۔
شہر کا مؤقف
کیلگری سٹی نے واضح کیا ہے کہ صوبائی قانون کے تحت ریفرنڈم کے پوسٹرز یا ریفرنڈم کی تشہیر کو منظم کرنا شہر کی ذمہ داری نہیں ہے۔
تاہم شہر ایسے پوسٹرز کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا جو عوامی تحفظ کے لیے خطرہ بنیں یا شہر کے بنیادی ڈھانچے میں رکاوٹ پیدا کریں۔
شہر کا کہنا ہے کہ سیاسی پیغام کی بنیاد پر پوسٹرز ہٹانا اس کی پالیسی نہیں، تاہم حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کی جا سکتی ہے۔
19 اکتوبر کو ریفرنڈم
البرٹا کے شہری 19 اکتوبر کو صوبہ بھر میں ہونے والے ریفرنڈم میں ووٹ ڈالیں گے۔ریفرنڈم میں مجموعی طور پر 10 سوالات شامل ہیں، جن میں ایک سوال البرٹا کی کینیڈا سے علیحدگی کے معاملے سے متعلق بھی ہے۔
کیلگری میں ریفرنڈم کے حامی پوسٹرز اتارے جانے کے واقعے نے اس بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ سیاسی مہم کے دوران انتخابی یا ریفرنڈم سے متعلق مواد کے ساتھ شہر کے قوانین کس طرح لاگو کیے جاتے ہیں۔
میئر جیرومی فارکس کے مطابق اس واقعے میں سٹی اسٹاف سے غلطی ہوئی، پوسٹرز واپس کر دیے گئے ہیں اور مستقبل میں قوانین کا نفاذ سیاسی پیغام کے بجائے عوامی تحفظ اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق مقررہ ضوابط کے مطابق کیا جائے گا۔
