اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا میں مضافاتی علاقوں کی سڑکوں پر بچے، شہر کے وسط میں کھانا پہنچانے والے افراد اور شاہراہوں پر تیز رفتاری کے شوقین افراد الیکٹرک بائیکس اور الیکٹرک اسکوٹرز استعمال کرتے نظر آتے ہیں، جبکہ ان گاڑیوں کا استعمال تیزی سے عام ہو رہا ہے۔
ٹی وی پروگرام Marketplace کی نئی خفیہ کیمرہ تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ بعض دکانیں ایسے الیکٹرک اسکوٹرز اور الیکٹرک بائیکس فروخت کر رہی ہیں جن کی زیادہ سے زیادہ رفتار صوبائی قوانین میں مقرر کردہ حد سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ بعض مصنوعات پر تجویز کردہ عمر بھی صوبائی قوانین میں مقرر کم از کم عمر سے کم ہے۔
رفتار کی حد
کینیڈا کے بیشتر صوبوں کے ٹریفک قوانین کے تحت الیکٹرک بائیکس اور الیکٹرک اسکوٹرز کی رفتار 32 کلومیٹر فی گھنٹہ یا اس سے کم مقرر کی گئی ہے۔
دوسری جانب ان گاڑیوں کے استعمال کے لیے عمر کی پابندیاں پورے ملک میں مختلف ہیں، جو 12 سے 18 سال تک ہیں۔ بعض صوبوں اور علاقوں میں سواری کے لیے کم از کم عمر مقرر ہی نہیں کی گئی۔
اس صورتحال میں قوانین پر عمل درآمد زیادہ تر مقامی پولیس کے ذمے ہے، ایسے وقت میں جب ان گاڑیوں کے باعث زخمی ہونے والے افراد کی تعداد ہر سال بڑھ رہی ہے۔
ملک بھر میں قوانین کو مزید سخت اور یکساں بنانے اور ان پر بہتر انداز میں عمل درآمد کے مطالبات بھی بڑھ رہے ہیں۔
خفیہ تحقیقات
Marketplace نے گریٹر ٹورنٹو ایریا میں الیکٹرک بائیکس اور اسکوٹرز فروخت کرنے والی معروف بڑی اور خصوصی دکانوں کا دورہ کیا۔ان میں ایمیگو، ایمو، ای زی بائیک، بیسٹ بائے، کینیڈین ٹائر اور کوسٹکو سمیت دیگر دکانیں شامل تھیں۔
خفیہ صحافیوں نے یہ جانچنے کی کوشش کی کہ اونٹاریو میں مقررہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی ایسی الیکٹرک بائیک یا اسکوٹر خریدنا کتنا آسان ہے جن کی زیادہ سے زیادہ رفتار مقررہ حد سے زیادہ ہو یا جن کے لیے تجویز کردہ عمر 16 سال سے کم ہو۔
12 میں سے 10 دکانیں
اونٹاریو میں الیکٹرک اسکوٹر اور الیکٹرک بائیک چلانے والے افراد کی عمر کم از کم 16 سال ہونا ضروری ہے۔صوبائی قوانین کے مطابق الیکٹرک اسکوٹر ہموار سطح پر 24 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار سے نہیں چل سکتا، جبکہ الیکٹرک بائیک کی زیادہ سے زیادہ رفتار 32 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر ہے۔
یہ بھی پڑھیں :کینیڈا اور امریکا کے کشیدہ تعلقات، فلوریڈا کے لیے پروازیں کم، مسافروں کا بائیکاٹ ایئرلائنز کو متاثر کرنے لگا
خفیہ طور پر 12 دکانوں کا دورہ کیا گیا، جن میں سے چھ دکانوں کے سیلز نمائندوں نے یا تو رفتار کی مقررہ حد ختم کرنے کا طریقہ بتایا یا عملی طور پر دکھایا۔
اگرچہ زیادہ تر دکانوں نے اونٹاریو کے قوانین سے آگاہ کیا، تاہم 10 دکانوں پر ایسی الیکٹرک بائیکس یا اسکوٹرز فروخت کیے جا رہے تھے جن کی زیادہ سے زیادہ رفتار صوبے میں مقررہ حد سے زیادہ تھی۔
دکانوں پر قانونی پابندی نہیں
دکانوں کو ایسی الیکٹرک بائیکس فروخت کرنے کی اجازت ہے، چاہے ان کی رفتار کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔تاہم کینیڈین الیکٹرک بائیسکل ایسوسی ایشن کے بانی مائیکل پاسکولی نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ قانونی حد سے کہیں زیادہ رفتار رکھنے والی مصنوعات فروخت کرنے والی دکانیں لوگوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں اور یہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہے۔
تحقیقات کے دوران سات دکانوں پر ایسے الیکٹرک اسکوٹرز بھی فروخت ہوتے پائے گئے جن کے لیے کمپنیوں نے 16 سال سے کم عمر بچوں کو استعمال کی اجازت یا سفارش کی تھی۔
بچوں کے زخمی ہونے میں اضافہ
طبی ماہرین میں سے بعض کا کہنا ہے کہ الیکٹرک بائیکس اور الیکٹرک اسکوٹرز 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے بھی غیر محفوظ ہیں۔
ہیملٹن کے میک ماسٹر چلڈرنز ہسپتال کی ایمرجنسی ڈاکٹر اپریل کام نے کہا کہ یہ محض کھلونا نہیں بلکہ موٹر سے چلنے والی گاڑی ہے۔
ان کے مطابق ہسپتالوں میں ایسے بچے پہنچ رہے ہیں جنہیں دماغ میں خون بہنے، پیٹ اور اندرونی اعضا کو شدید نقصان سمیت مختلف نوعیت کی چوٹیں لگی ہوتی ہیں۔
ہسپتالوں میں داخلوں میں اضافہ
کینیڈین انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ انفارمیشن کے حال ہی میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2025-26 کے مالی سال کے دوران پورے کینیڈا میں 15 سال اور اس سے کم عمر کے 150 افراد الیکٹرک اسکوٹر سے گرنے کے باعث ہسپتال داخل ہوئے۔
اس سے ایک سال پہلے یہ تعداد 54 تھی، یعنی ایک سال میں تقریباً 178 فیصد اضافہ ہوا۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران الیکٹرک اسکوٹر حادثات کے باعث بچوں کے ہسپتال داخل ہونے کے واقعات میں مسلسل سالانہ اضافہ ہوا ہے۔
الیکٹرک اسکوٹر سے متعلق سر کی چوٹوں کی تعداد بھی 2022-23 کے مالی سال میں 50 سے بڑھ کر 2025-26 میں 157 ہو گئی۔
اسی عرصے کے دوران ہڈیوں کے ٹوٹنے، جوڑوں کے اترنے اور پٹھوں یا کنڈروں کی چوٹوں کے واقعات بھی دگنے سے زیادہ ہو کر گزشتہ مالی سال میں 544 تک پہنچ گئے۔
10 بچوں کی موت
کینیڈین پیڈیاٹرک سرویلنس پروگرام کی جانب سے اگست میں جاری کیے گئے ایک سروے میں بتایا گیا کہ 2025 کے دوران الیکٹرک اسکوٹرز اور الیکٹرک بائیکس جیسی سواریوں کے استعمال کے باعث 10 بچے جان سے گئے۔
دوسری جانب کینیڈا میں ان برقی سواریوں کی فروخت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2019 کے مقابلے میں الیکٹرک سواریوں کی فروخت چار گنا سے بھی زیادہ بڑھ چکی ہے۔ رواں سال اب تک تقریباً 3 لاکھ 72 ہزار الیکٹرک بائیکس اور 76 ہزار الیکٹرک اسکوٹرز فروخت کیے جا چکے ہیں۔
بچوں کو نشانہ بنانے والی تشہیر
Marketplace کی تحقیقات کے دوران سب سے کم عمر صارفین کے لیے تجویز کردہ الیکٹرک اسکوٹر کینیڈین ٹائر پر ملا۔
یہ ریزر کمپنی کا الیکٹرک اسکوٹر تھا، جس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 16 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی اور اسے 8 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچوں کے لیے تجویز کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر اپریل کام نے اس پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس عمر کے بچوں میں ایسے موٹر سے چلنے والی گاڑیوں کو محفوظ انداز میں چلانے اور قابو کرنے کے لیے ضروری نشوونما اور صلاحیت لازماً موجود نہیں ہوتی۔
ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے لیے ان موٹر سے چلنے والی سواریوں کی اتنی بڑی مارکیٹ انتہائی تشویشناک ہے، کیونکہ انہیں کھلونوں کے طور پر پیش کرکے والدین اور خاندانوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔
Marketplace کی مکمل تحقیقات جمعہ 2 اکتوبر کو سی بی سی ٹی وی اور یوٹیوب پر نشر کی جانی ہیں۔
