کینیڈا میں سیلاب متاثرین کیلئے حکومتی امداد کا اعلان، ریڈ کراس کی اپیل پر عطیات ڈبل ہوں گے

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)

کینیڈا کی وفاقی حکومت نے صوبہ مینی ٹوبا میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے کینیڈین ریڈ کراس کی 2026 کی اپیل کے تحت عوام کی جانب سے دیے جانے والے عطیات کے برابر رقم فراہم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ اقدام اوٹاوا میں یکم جولائی کو آنے والے شدید سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے بھی کیا جائے گا۔

کینیڈا کی وزیر برائے ایمرجنسی مینجمنٹ اینڈ کمیونٹی ریزیلینس اور پریریز اکنامک ڈویلپمنٹ کینیڈا کی ذمہ دار وزیر ایلینور اولزیوسکی نے اس اقدام کا اعلان کیا۔ حکومتی فیصلے کے تحت کینیڈین ریڈ کراس کو سیلاب متاثرین کے لیے ملنے والے اہل عطیات کے مساوی رقم وفاقی حکومت کی جانب سے فراہم کی جائے گی۔

متاثرہ خاندانوں کی مدد

حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد سیلاب سے متاثرہ خاندانوں، افراد، کاروباری اداروں اور مقامی آبادیوں کو ہنگامی صورتحال کے بعد بحالی میں مدد فراہم کرنا ہے۔

اوٹاوا میں یکم جولائی کو آنے والے شدید سیلاب نے متعدد علاقوں میں گھروں، سڑکوں اور بنیادی سہولیات کو نقصان پہنچایا تھا۔ سیلاب کے باعث کئی خاندانوں کو اپنے گھروں اور املاک کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ متعدد مقامات پر معمول کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔

اوٹاوا ویسٹ نیپین سے رکن پارلیمنٹ انیتا وینڈن بیلڈ نے کہا کہ کینیڈا ڈے کے موقع پر آنے والے سیلاب نے کمیونٹیز اور گھروں پر تباہ کن اثرات مرتب کیے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگوں نے ایسی چیزیں کھو دیں جنہیں دوبارہ حاصل کرنا آسان نہیں، تاہم مقامی کمیونٹی نے مشکل وقت میں آگے بڑھ کر اپنے ہمسایوں کی مدد کی اور کینیڈین ریڈ کراس کو عطیات دیے۔

ان کے مطابق اب وفاقی حکومت بھی عطیات کو برابر رقم فراہم کرکے اوٹاوا کے متاثرہ شہریوں کی مدد میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

یکم جولائی کا تباہ کن سیلاب

اوٹاوا میں یکم جولائی 2026 کو شدید بارشوں کے بعد بڑے پیمانے پر سیلاب آیا تھا۔

شدید بارش کے باعث متعدد سڑکیں بند ہوگئیں جبکہ کینیڈا ڈے کی تقریبات بھی منسوخ کرنا پڑیں۔ سیلابی صورتحال نے شہر کے مختلف علاقوں میں معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کیا اور شہریوں کو گھروں سے باہر نکلنے میں مشکلات پیش آئیں۔

حکام کے مطابق فائر فائٹرز کو گرے ہوئے بجلی کے تاروں اور بجلی سے متعلق خطرات کی 700 سے زائد رپورٹس موصول ہوئیں۔

بجلی کے تار گرنے کے واقعات نے شہریوں کے لیے مزید خطرات پیدا کیے، جبکہ امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں میں فوری کارروائی کرنا پڑی۔

بارش کا نیا ریکارڈ قائم

ماحولیاتی ادارے کے اعدادوشمار کے مطابق یکم جولائی کو اوٹاوا میں 118.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

یہ مقدار یکم جولائی کو اوٹاوا کے لیے قائم سابقہ بارش کے ریکارڈ سے تقریباً دو گنا زیادہ تھی۔

اس سے قبل یکم جولائی کو سب سے زیادہ بارش کا ریکارڈ 58.9 ملی میٹر تھا، جو 1959 میں اوٹاوا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ریکارڈ کیا گیا تھا۔

نئے ریکارڈ نے اس بات کو واضح کیا کہ اس روز ہونے والی بارش معمول سے کہیں زیادہ شدید تھی، جس کے نتیجے میں شہر کے کئی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور سیلاب کی صورتحال پیدا ہوئی۔

گھروں کے تہہ خانے زیر آب

سیلاب کے کئی دن گزرنے کے باوجود اوٹاوا کے شہری اس کے اثرات سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکے تھے۔۔

یہ بھی پڑھیں :کینیڈا،برٹش کولمبیا اور البرٹا میں شدید بارش اور سیلاب کا خطرہ، وارننگ جاری

اوٹاوا کے میئر کے مطابق طوفان کے ایک ہفتے سے زائد عرصے بعد بھی شہر میں گھروں کے تہہ خانوں میں پانی بھرنے کی تقریباً 5 ہزار 800 رپورٹس سامنے آچکی تھیں۔

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ شدید بارش اور سیلاب نے صرف سڑکوں اور عوامی مقامات کو ہی متاثر نہیں کیا بلکہ بڑی تعداد میں نجی گھروں کو بھی نقصان پہنچایا۔

متاثرہ گھروں کے مالکان اور کرایہ داروں کو صفائی، مرمت اور نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑا۔

ریڈ کراس کی امدادی مہم

کینیڈین ریڈ کراس کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لیے جاری اپیل کا مقصد ہنگامی امداد اور بحالی کے اقدامات کے لیے وسائل جمع کرنا ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے عطیات برابر کرنے کے فیصلے سے عوام کی جانب سے دی جانے والی امدادی رقم کی مجموعی مالیت میں اضافہ ہوگا، جس سے متاثرہ افراد کے لیے امدادی سرگرمیوں کو وسعت دینے میں مدد مل سکتی ہے۔

حکومت کے مطابق مشکل حالات میں کمیونٹی کی جانب سے ایک دوسرے کی مدد کرنا انتہائی اہم ہے اور وفاقی حکومت ایسے بحرانوں کے دوران متاثرہ شہریوں کی معاونت جاری رکھے گی۔

مینی ٹوبا بھی امداد کا مستحق

حکومت کا موجودہ اعلان صرف اوٹاوا تک محدود نہیں بلکہ مینی ٹوبا میں سیلاب سے متاثرہ کمیونٹیز کے لیے بھی ریڈ کراس کی 2026 کی اپیل میں عطیات برابر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مینی ٹوبا میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بھی شہریوں اور کاروباری اداروں کو املاک اور روزمرہ زندگی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

وفاقی حکومت کے مطابق عطیات کے برابر رقم فراہم کرنے سے ریڈ کراس کو متاثرہ آبادیوں تک امداد پہنچانے اور بحالی کے اقدامات میں مدد ملے گی۔

سیلاب سے بچاؤ پر زور

وفاقی حکومت نے شہریوں کو مستقبل میں سیلاب کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پہلے سے تیاری کرنے پر بھی زور دیا ہے۔

حکام کے مطابق گھر کے مالکان، کرایہ دار اور کاروباری ادارے اپنے گھروں اور املاک کو سیلاب کے ممکنہ اثرات سے محفوظ بنانے کے لیے مختلف احتیاطی اقدامات اختیار کرسکتے ہیں۔

ان اقدامات میں سیلاب کے خطرے کا جائزہ لینا، پانی کے اخراج کے نظام کو بہتر بنانا اور ہنگامی صورتحال کے لیے ضروری منصوبہ بندی شامل ہے۔

موسمیاتی خطرات میں اضافہ

اوٹاوا میں بارش کا سابقہ ریکارڈ ٹوٹنا اور بڑے پیمانے پر سیلابی صورتحال پیدا ہونا شہری منصوبہ بندی اور ہنگامی تیاری کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

شدید بارشوں کے دوران شہری بنیادی ڈھانچے پر اضافی دباؤ پڑتا ہے، جبکہ نالوں، سڑکوں اور نکاسی آب کے نظام کی گنجائش محدود ہونے کی صورت میں شہری علاقوں میں سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ سیلاب کے خطرات کو کم کرنے کے لیے شہریوں کو اپنی املاک کے تحفظ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے دستیاب رہنمائی سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

وفاقی حکومت کی یقین دہانی

رکن پارلیمنٹ انیتا وینڈن بیلڈ نے کہا کہ وفاقی حکومت اوٹاوا کے شہریوں کی مدد کے لیے ہمیشہ موجود رہے گی۔

حکومت کے مطابق کینیڈین ریڈ کراس کے ساتھ مل کر عطیات برابر کرنے کا پروگرام سیلاب سے متاثرہ افراد کو فوری اور طویل مدتی بحالی میں مدد دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

اوٹاوا کے حالیہ سیلاب نے ایک مرتبہ پھر یہ ضرورت اجاگر کردی ہے کہ شہری علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر تیاری کی جائے، جبکہ متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے حکومتی اداروں، امدادی تنظیموں اور عوام کے درمیان تعاون بھی برقرار رکھا جائے۔

ہمیں فالو کریں

[uw_related_posts]