اردو ورلڈ کینیڈا (و یب نیوز ) کینیڈا میں مہنگائی کی سالانہ شرح اگست میں بھی 3 فیصد پر برقرار رہی ہے۔ ملکی ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ماہ اشیائے ضروریہ اور مختلف خدمات کی قیمتوں میں مجموعی تبدیلی کے نتیجے میں افراط زر کی شرح میں جولائی کے مقابلے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ماہرین اقتصادیات نے بھی اگست کے دوران سالانہ مہنگائی کی شرح 3 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق ماہرین کی پیش گوئی درست ثابت ہوئی اور صارفین کے لیے مجموعی قیمتوں میں اضافے کی رفتار توقع کے مطابق ہی رہی۔
پٹرول اور خوراک کی قیمتوں میں معمولی کمی
شماریاتی ادارے کے مطابق اگست میں پٹرول اور خوراک کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار گزشتہ عرصے کے مقابلے میں کم رہی جس نے مجموعی مہنگائی پر کچھ حد تک دباؤ کم کیا۔
خوراک کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی۔ تاہم ان شعبوں میں قیمتوں میں کمی اتنی نمایاں نہیں تھی کہ مہنگائی کی مجموعی شرح کو 3 فیصد سے نیچے لے جا سکے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کینیڈین صارفین کو مختلف شعبوں میں قیمتوں کے دباؤ کا سامنا بدستور ہے۔ کچھ شعبوں میں قیمتیں کم ہوئیں جبکہ دوسری جانب رہائش اور سفری اخراجات میں اضافہ ہوا۔
کرایوں اور رہائشی اخراجات میں اضافہ
کینیڈا میں رہائش سے متعلق اخراجات اگست میں بھی مہنگائی پر اثر انداز ہوتے رہے۔ شماریات کینیڈا کے مطابق کرایوں اور رہن کی ادائیگیوں سمیت رہائش کے اخراجات میں اضافہ ہوا۔
رہائش عام طور پر گھریلو بجٹ کا ایک اہم حصہ ہوتی ہے۔ اس لیے کرایوں اور رہن کی ادائیگیوں میں معمولی اضافہ بھی صارفین کے مجموعی اخراجات پر اثر ڈال سکتا ہے۔
اگست کے دوران رہائشی اخراجات میں اضافے نے پٹرول اور خوراک کی قیمتوں میں آنے والی معمولی کمی کے اثر کو کسی حد تک زائل کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ سالانہ مہنگائی کی شرح 3 فیصد پر برقرار رہی۔
سیاحت اور سفری اخراجات بھی بڑھ گئے
اعداد و شمار کے مطابق اگست میں سیاحت اور سفری دوروں سے متعلق اخراجات میں بھی اضافہ ہوا۔ سفری دوروں کی قیمتوں میں اضافے نے مجموعی صارف قیمتوں پر دباؤ بڑھایا۔
یہ بھی پڑھیں :
پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار سست ہونے کے باوجود سفر اور سیاحت سے متعلق اخراجات میں اضافہ مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی کی راہ میں ایک رکاوٹ بنا۔
یوں اگست میں قیمتوں کے مختلف رجحانات ایک دوسرے کے اثرات کو متوازن کرتے نظر آئے۔ ایک طرف پٹرول اور خوراک کی قیمتوں میں معمولی کمی ہوئی جبکہ دوسری جانب رہائش اور سفری اخراجات بڑھے۔
ماہانہ بنیاد پر قیمتوں میں 0.1 فیصد کمی
شماریات کینیڈا کے مطابق اگست میں صارف قیمت اشاریہ ماہانہ بنیاد پر 0.1 فیصد کم ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جولائی کے مقابلے میں اگست کے دوران صارفین کو مجموعی قیمتوں کی سطح میں معمولی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔
تاہم سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 3 فیصد پر برقرار رہی۔ اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماہانہ بنیاد پر قیمتوں میں معمولی اتار چڑھاؤ کے باوجود گزشتہ سال کے مقابلے میں قیمتوں کا مجموعی دباؤ اب بھی 3 فیصد کی سطح پر موجود ہے۔
ماہرین اقتصادیات کی توقع بھی یہی تھی کہ اگست میں سالانہ افراط زر کی شرح 3 فیصد پر برقرار رہے گی۔ گزشتہ ماہ کیے گئے رائٹرز کے ایک سروے میں ماہرین نے بھی اسی شرح کی پیش گوئی کی تھی۔
مشرق وسطیٰ کی جنگ اور تیل کی قیمتوں پر نظر
شماریات کینیڈا کی جانب سے جاری کردہ اگست کے صارف قیمت اشاریے کے اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ دنوں میں اضافہ ہوا ہے۔
اعداد و شمار میں مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے اثرات مکمل طور پر شامل نہیں ہیں۔ خبر کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ تیزی دیکھی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ،کینیڈا میں مہنگائی دوبارہ بڑھنے کا امکان
کینیڈا میں پٹرول کی قیمتوں کے اعداد و شمار بھی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ پمپ کی قیمتوں سے متعلق کالیبریٹ کے اعداد و شمار کے مطابق جمعہ تک ملک بھر میں عام گریڈ کے پٹرول کی اوسط قیمت ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً 21 فیصد زیادہ ہو چکی تھی۔
اس صورتحال میں آنے والے مہینوں کے مہنگائی کے اعداد و شمار پر توانائی کی عالمی قیمتوں کے ممکنہ اثرات بھی اہم ہوں گے۔ تاہم اگست کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق کینیڈا میں سالانہ مہنگائی کی شرح 3 فیصد پر مستحکم رہی ہے۔
