اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کو مستقبل میں موجودہ حالات کے مقابلے میں تقریباً 5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ گرم ماحول کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
کینیڈا کی موسمیاتی تبدیلی سے متعلق نئی سائنسی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں مؤثر اور فوری کمی نہ کی گئی تو آنے والی دہائیوں میں ملک کو شدید گرمی، طویل جنگلاتی آگ کے موسم، سطح سمندر میں اضافے، پرمافراسٹ کے پگھلنے اور پانی کے وسائل میں کمی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔
رپورٹ، Canada’s Changing Climate Report کے نئے ایڈیشن میں، کینیڈا پر بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ اس میں انسانی سرگرمیوں اور بالخصوص فوسل فیولز کے استعمال کو موسمیاتی تبدیلی کی بنیادی وجہ قرار دینے کے سائنسی شواہد کو مزید مضبوط قرار دیا گیا ہے۔
جنگلاتی آگ کا موسم مزید طویل ہوسکتا ہے
رپورٹ کے مطابق کینیڈا میں جنگلاتی آگ کا موسم مستقبل میں زیادہ طویل اور شدید ہوسکتا ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور خشک موسم کے باعث جنگلات میں آگ لگنے اور اس کے تیزی سے پھیلنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
گزشتہ برسوں میں کینیڈا کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر جنگلاتی آگ نے رہائشی علاقوں، جنگلات، فضائی معیار اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے تھے۔ آگ سے پیدا ہونے والا دھواں ہزاروں کلومیٹر دور تک پہنچا اور شہری آبادیوں کو بھی فضائی آلودگی کا سامنا کرنا پڑا۔
شدید گرمی اور سیلاب کا خطرہ
نئی رپورٹ میں شدید گرمی کے دنوں میں اضافے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق شہری علاقوں میں گرمی کی لہریں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہیں، خاص طور پر بزرگ افراد، بچوں اور ایسے شہریوں کے لیے جو پہلے ہی موسمیاتی شدت سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
دوسری جانب شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے واقعات بھی بنیادی ڈھانچے پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔ سڑکوں، بجلی کے نظام، نکاسی آب اور شہری منصوبہ بندی کو نئے موسمی حالات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہوگی۔
شمالی کینیڈا میں زیادہ اثرات
ماہرین کے مطابق کینیڈا کے شمالی علاقوں میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات خاص طور پر شدید ہوسکتے ہیں۔ بعض علاقوں میں سردیوں کے درجہ حرارت میں نمایاں اضافے کا خدشہ ہے، جس سے برف، گلیشیئرز اور پرمافراسٹ متاثر ہوسکتے ہیں۔
پرمافراسٹ کے پگھلنے سے عمارتوں، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ گلیشیئرز کے سکڑنے سے طویل مدت میں پانی کے وسائل پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
5 ڈگری اضافہ ناگزیر نہیں
رپورٹ کے باوجود ماہرین نے واضح کیا ہے کہ 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم مستقبل ابھی ایک حتمی تقدیر نہیں۔ اگر کینیڈا اور دیگر ممالک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں تیزی سے کمی کریں تو شدید ترین اثرات سے بچا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :کینیڈا میں جنگلاتی آگ کا راز، برفانی ملک میں شعلے کیوں بھڑک اٹھتے ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے کا ہر ایک درجہ کم کرنا انسانی جانوں، گھروں، روزگار اور معیشت کو بڑے نقصانات سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔
فوری اقدامات کی ضرورت
رپورٹ کے بعد ماہرین نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ صرف کاربن اخراج کم کرنے کی پالیسیوں تک محدود نہ رہیں بلکہ موجودہ اور مستقبل کے موسمیاتی خطرات کے لیے بنیادی ڈھانچے اور شہری نظام کو بھی تیار کریں۔
تازہ رپورٹ کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ کینیڈا کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کرنے ہوں گے، کیونکہ آنے والی دہائیوں میں اس کے اثرات مزید نمایاں ہونے کا امکان ہے۔
